🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب : الحلم
باب: حلم اور بردباری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4186
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ , دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 3 (4777)، سنن الترمذی/البروالصلة 74 (2021)، وصفة القیامة 48 (2493)، (تحفة الأشراف: 11298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/438، 440) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاذ بن أنس الأنصاريصحابي
👤←👥سهل بن معاذ الجهني
Newسهل بن معاذ الجهني ← معاذ بن أنس الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحيم بن ميمون المعافري، أبو مرحوم
Newعبد الرحيم بن ميمون المعافري ← سهل بن معاذ الجهني
مقبول
👤←👥سعيد بن مقلاص الخزاعي، أبو يحيى
Newسعيد بن مقلاص الخزاعي ← عبد الرحيم بن ميمون المعافري
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← سعيد بن مقلاص الخزاعي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2021
من كظم غيظا وهو يستطيع أن ينفذه دعاه الله يوم القيامة على رءوس الخلائق حتى يخيره في أي الحور شاء
جامع الترمذي
2493
من كظم غيظا وهو يقدر على أن ينفذه دعاه الله على رءوس الخلائق يوم القيامة حتى يخيره في أي الحور شاء
سنن أبي داود
4777
من كظم غيظا وهو قادر على أن ينفذه دعاه الله على رءوس الخلائق يوم القيامة حتى يخيره الله من الحور العين ما شاء
سنن ابن ماجه
4186
من كظم غيظا وهو قادر على أن ينفذه دعاه الله على رءوس الخلائق يوم القيامة حتى يخيره في أي الحور شاء
المعجم الصغير للطبراني
735
من كظم غيظا وهو قادر على إنفاذه خيره الله من الحور العين يوم القيامة من أنكح عبدا وضع الله على رأسه تاج الملك يوم القيامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4186 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4186
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اپنے سے کمزور پر غصہ آئے تو اسے قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اصل بہادری یہی ہے کہ ایسے موقع پر غصہ نکالنے کے بجائے معاف کردیا جائے۔

(2)
بعض نیکیوں کے لیے اللہ تعالی نے خاص انعامات مقرر کیے ہوئے ہیں۔
ان انعامات کے حصول کی کوشش کرنا مستحسن ہے۔

(3)
حوریں اللہ تعالی کی خاص مخلوق ہیں جو اللہ تعالی نے اہل جنت کے لیے پیدا کی ہیں۔

(4)
ہر جنتی کو حوریں ملیں گی لیکن غصے کو قابو پا کر ظلم سے اجتناب کرنے کی جزا کے طور پر خاص انعام دیا جائے گا۔
ایسے جنتی کو اپنی پسند کی حوریں منتخب کرنے کا حق دیا جائے گا۔

(5)
جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذابوں کا تعلق صرف روح سے نہیں جسم سے بھی ہے کیونکہ دنیا میں نیکی یا گناہ کرنے میں جسم اور روح دونوں شریک ہیں اس لیے آخرت میں ثواب و سزا جسمانی بھی ہوگا اور روحانی بھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4186]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4777
غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان۔
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4777]
فوائد ومسائل:
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے()(آلِ عمران:134) کے الفاظ سے غصہ پی جانے کو اہلِ ایمان کی اہم صفات میں شمار کیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4777]