سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : صفة أمة محمد صلى الله عليه وسلم
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
حدیث نمبر: 4286
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" وَعَدَنِي رَبِّي سُبْحَانَهُ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا , لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ , مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میرے رب (سبحانہ و تعالیٰ) نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہو گا، اور نہ ان پر کوئی عذاب، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب عزوجل کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة القیامة 12 (2437)، (تحفة الأشراف: 4924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/268) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة | صحابي | |
👤←👥محمد بن زياد الألهاني، أبو سفيان محمد بن زياد الألهاني ← صدي بن عجلان الباهلي | ثقة | |
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة إسماعيل بن عياش العنسي ← محمد بن زياد الألهاني | صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← إسماعيل بن عياش العنسي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2437
| يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل ألف سبعون ألفا ثلاث حثيات من حثياته |
سنن ابن ماجه |
4286
| وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل ألف سبعون ألفا ثلاث حثيات من حثيات ربي |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4286 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4286
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی رحمت بڑی عظیم ہے۔
(2)
اللہ کا تقرب حاصل کرنا اور انتہائی بلند درجات حاصل کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بعد بھی ممکن ہے۔
اب بھی اگر کوئی انسان ایسے عمل کرے جن کی جزا بغیر حساب کے جنت میں جانا ہے۔
تو وہ اس جزا سے محروم نہیں رہے گا۔
جس طرح وہ اعمال انجام دینا اب بھی ممکن ہے جن کے نتیجے میں اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے جگہ ملے گی۔
(3)
ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار یعنی ستر ہزار کے علاوہ انچاس لاکھ مزید بغیر حساب کے جنت میں جایئں گے۔
(4) (حثیات) (لپیں)
یعنی دونوں ہاتھ بھر کر لی جانے والی مقدار ا س سے مراد بندوں کی کثیر تعداد ہے۔
جن کو بلا حساب کتاب جنت میں بھیجا جائے گا۔
اور ایسا تین بار ہوگا ان کی تعداد اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کی رحمت بڑی عظیم ہے۔
(2)
اللہ کا تقرب حاصل کرنا اور انتہائی بلند درجات حاصل کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے بعد بھی ممکن ہے۔
اب بھی اگر کوئی انسان ایسے عمل کرے جن کی جزا بغیر حساب کے جنت میں جانا ہے۔
تو وہ اس جزا سے محروم نہیں رہے گا۔
جس طرح وہ اعمال انجام دینا اب بھی ممکن ہے جن کے نتیجے میں اللہ کے عرش کے سائے کے نیچے جگہ ملے گی۔
(3)
ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار یعنی ستر ہزار کے علاوہ انچاس لاکھ مزید بغیر حساب کے جنت میں جایئں گے۔
(4) (حثیات) (لپیں)
یعنی دونوں ہاتھ بھر کر لی جانے والی مقدار ا س سے مراد بندوں کی کثیر تعداد ہے۔
جن کو بلا حساب کتاب جنت میں بھیجا جائے گا۔
اور ایسا تین بار ہوگا ان کی تعداد اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4286]
محمد بن زياد الألهاني ← صدي بن عجلان الباهلي