سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : صفة أمة محمد صلى الله عليه وسلم
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
حدیث نمبر: 4290
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي نَضْرَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ , يُقَالُ: أَيْنَ الْأُمَّةُ الْأُمِّيَّةُ وَنَبِيُّهَا؟ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آخری امت ہیں اور سب سے پہلے حساب کے لیے بلائے جائیں گے، کہا جائے گا: امت اور اس کے نبی کہاں ہیں؟ تو ہم اول بھی ہیں اور آخر بھی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4290]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم آخری امت ہیں اور ہمارا حساب سب سے پہلے ہوگا، کہا جائے گا: کہاں ہے امی امت اور ان کا نبی؟ تو ہم بعد میں آنے والے (جنت میں داخلے کے لحاظ سے) سب سے مقدم ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6500، ومصباح الزجاجة: 1535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/16) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4290
| نحن الآخرون الأولون |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4290 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4290
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ امت آخری امت ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب ہے۔
(2)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سابق نبی ہیں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً چھ صدیاں پہلے پیدا ہوئے۔
(3)
ہماری اُمت کا حساب دوسروں سے پہلے ہوگا اس لئے ہمیں زیادہ کوشش کرنی چاہیے کہ اچھے کام کریں اور بُرے کام سے اجتناب کریں کافروں سے دوستی نہ لگایئں اور ان کے رسم ورواج اختیار نہ کریں۔
فوائد و مسائل:
(1)
یہ امت آخری امت ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا کذاب ہے۔
(2)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت کے قریب آسمان سے نازل ہونا عقیدہ ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سابق نبی ہیں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً چھ صدیاں پہلے پیدا ہوئے۔
(3)
ہماری اُمت کا حساب دوسروں سے پہلے ہوگا اس لئے ہمیں زیادہ کوشش کرنی چاہیے کہ اچھے کام کریں اور بُرے کام سے اجتناب کریں کافروں سے دوستی نہ لگایئں اور ان کے رسم ورواج اختیار نہ کریں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4290]
Sunan Ibn Majah Hadith 4290 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← عبد الله بن العباس القرشي