سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ : صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: امت محمدیہ کی صفات۔
حدیث نمبر: 4289
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ , حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْأَصْبَهَانِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ , صَفٍّ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ , وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الْأُمَمِ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں اس امت کے لوگوں کی ہوں گی، اور چالیس صفیں اور امتوں میں سے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4289]
حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(میدان محشر میں) اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی۔ ان میں سے اسی (80) اس امت کی ہوں گی اور چالیس صفیں باقی تمام امتوں کی ہوں گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/صفة الجنة 13 (2546)، (تحفة الأشراف: 1938)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/347، 355، 361) سنن الدارمی/الرقاق 111 (2877) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2546
| أهل الجنة عشرون ومائة صف ثمانون منها من هذه الأمة وأربعون من سائر الأمم |
سنن ابن ماجه |
4289
| أهل الجنة عشرون ومائة صف ثمانون من هذه الأمة وأربعون من سائر الأمم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4289 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4289
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
دوسری حدیث میں ہے کہ تمھارے مقابلے میں دوسروں کی تعداد ایسے ہوگی جیسے سفید بیل پر ایک سیاہ بال (حدیث: 4283)
یہ موازنہ مشرکین سے ہے۔
اور دوتہائی تعداد صرف اہل جنت کے مقابلے میں ہے۔
(2)
اس سے امت محمدیہ کا شرف ظاہر ہے۔
تاہم نجات کے لئے صرف امتی ہونا کافی نہیں بلکہ صحیح ایمان اور صحیح عمل بھی ضروری ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
۔
دوسری حدیث میں ہے کہ تمھارے مقابلے میں دوسروں کی تعداد ایسے ہوگی جیسے سفید بیل پر ایک سیاہ بال (حدیث: 4283)
یہ موازنہ مشرکین سے ہے۔
اور دوتہائی تعداد صرف اہل جنت کے مقابلے میں ہے۔
(2)
اس سے امت محمدیہ کا شرف ظاہر ہے۔
تاہم نجات کے لئے صرف امتی ہونا کافی نہیں بلکہ صحیح ایمان اور صحیح عمل بھی ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4289]
Sunan Ibn Majah Hadith 4289 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي