🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. باب : ما جاء في المسح بغير توقيت
باب: موزوں پر مسح کے لیے مدت کی حد نہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 558
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَلَوِيِّ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ مِصْرَ، فَقَالَ:" مُنْذُ كَمْ لَمْ تَنْزِعْ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، قَالَ:" أَصَبْتَ السُّنَّةَ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ مصر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ نے اپنے موزے کب سے نہیں اتارے ہیں؟ انہوں نے کہا: جمعہ سے جمعہ تک، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سنت کو پا لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10610) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فتح مصر کی خوش خبری لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے، چونکہ ایسے موقعہ پر رکنے ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہوتا، اس لئے انہوں نے تین دن سے زیادہ تک مسح کر لیا، یہ حکم ایسی ہی اضطراری صورتوں کے لئے ہے، ورنہ اصل حکم وہی ہے جو گزرا، مقیم ایک دن اور ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمرو
Newعقبة بن عامر الجهني ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي
👤←👥علي بن رباح اللخمي، أبو موسى، أبو عبد الله
Newعلي بن رباح اللخمي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥عبد الله بن الحكم البلوي
Newعبد الله بن الحكم البلوي ← علي بن رباح اللخمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← عبد الله بن الحكم البلوي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥حيوة بن شريح التجيبي، أبو زرعة
Newحيوة بن شريح التجيبي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← حيوة بن شريح التجيبي
ثقة ثبت
👤←👥أحمد بن يوسف الأزدي، أبو الحسن
Newأحمد بن يوسف الأزدي ← الضحاك بن مخلد النبيل
حافظ ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
558
منذ كم لم تنزع خفيك قال من الجمعة إلى الجمعة قال أصبت السنة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 558 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث558
اردو حاشہ:
(1)
یہ اثر صحیح ہے۔
امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی اس کی توثیق کی ہےاور اپنے ایک سفر کا بھی ذکر کیا ہے جس میں ان کوبھی اس مسئلے پر بہ امر مجبوری عمل کرنا پڑا تھا تاہم یہ اثر سابقہ باب کی احادیث سے بظاہر متعارض نظر آتا ہے لیکن اہل علم نے ان کے درمیان اس طرح تطبیق دی ہے کہ جن احادیث میں موزوں پر مسح کی مدت مقرر کی گئی ہے ان پر عمل اس وقت ہوگا جب مسافر کے لیے تین دن رات کے بعد موزوں کو اتارنے میں مشقت و تکلیف نہ ہو البتہ سفر طویل ہواور قافلے کے چھوٹ جانے کا خطرہ ہو یا موزوں کو اتارنا مشقت و کلفت کا باعث ہوتو پھر موزوں پر مسح کرنا غیر معینہ مدت کے لیے ہوگا جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (أصَبْتَ السُّنُّةَ)
 تم نے سنت نبوی کو پالیا کہہ کران کی تحسین فرمائی۔
والله اعلم
(2)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ دمشق کی خوشخبری لے کرآئے تھے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (سلسلة الاحاديث الصحيه: 6؍239 حديث: 2622)

ملحوظہ:
سنن ابو داؤد کے فوائد میں حضرت ابی بن عمارہ ؓ کی حدیث کے تحت اس کے ضعف کی تو صراحت ہے لیکن حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ اس میں بیان نہیں ہوسکا۔
جس کی رو سے بہ وقت ضرورت تین دن سے زیادہ مسح کرنے کا جواز ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 558]