🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : النهي أن يسبق الإمام بالركوع والسجود
باب: امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 962
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ دَارِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، فَإِذَا رَكَعْتُ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعْتُ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدْتُ فَاسْجُدُوا، وَلَا أُلْفِيَنَّ رَجُلًا يَسْبِقُنِي إِلَى الرُّكُوعِ وَلَا إِلَى السُّجُودِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8994، ومصباح الزجاجة: 345) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دارم مجہول ہیں، ملاحظہ: الصحیحة: 1725)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي بردة الأشعري
Newسعيد بن أبي بردة الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥دارم الكوفي
Newدارم الكوفي ← سعيد بن أبي بردة الأشعري
مجهول
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← دارم الكوفي
ثقة مكثر
👤←👥زياد بن خيثمة الجعفي
Newزياد بن خيثمة الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥شجاع بن الوليد السكوني، أبو بدر
Newشجاع بن الوليد السكوني ← زياد بن خيثمة الجعفي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← شجاع بن الوليد السكوني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
962
بدنت فإذا ركعت فاركعوا وإذا رفعت فارفعوا وإذا سجدت فاسجدوا ولا ألفين رجلا يسبقني إلى الركوع ولا إلى السجود
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 962 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث962
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں سختی سے تنبیہ کی گئی ہے۔
کہ امام سے پہلے نہ رکوع کیا جائے اورنہ سجدہ-
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک عمر کے تقاضے کی وجہ سے قدرے بھاری ہو گیا تھا ممکن ہے کسی نوجوان چست آدمی کو یہ خیال آ جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جسمانی کیفیت کی وجہ سے نماز آہستہ رفتار سے پڑھتے ہیں۔
ہم لوگ جو جلدی کرسکتے ہیں تو ہمیں جلدی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ مقتدیوں کو بہرحال امام سے پیچھے رہنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 962]