یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. باب : نوع آخر من التشهد
باب: تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1173
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ السَّرْخَسِيُّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قال: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ الْأَشْعَرِيّ قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ وَإِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ" قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ يَسْمَعِ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ وَسَجَدَ فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتِلْكَ بِتِلْكَ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا، تو اس میں آپ نے ہمیں ہمارا طریقہ سکھایا، اور ہم سے ہماری صلاۃ کی تشریح فرمائی، اور فرمایا: ”اپنی صفیں درست کرو، پھر تم میں کا کوئی امامت کرے، تو جب وہ «اللہ اکبر» کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور وہ «ولا الضالين» کہے تو تم «آمین» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری یہ دعا قبول کرے گا، اور جب امام «اللہ اکبر» کہے، اور رکوع کرے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے رکوع سے اپنا سر اٹھائے گا، ادھر کی تاخیر ادھر پوری ہو جائے گی، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «ربنا لك الحمد» کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری سنے گا، اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر فرمایا ہے: اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، پھر جب امام «اللہ اکبر» کہے، اور سجدہ کرے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدہ کرے گا، اور تم سے پہلے سجدے سے سر اٹھائے گا، ادھر کی تاخیر ادھر پوری ہو جائے گی“ ۱؎ اور جب امام قاعدے میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کی زبان پہ پہلی دعا یہ ہو: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1173]
حضرت (ابو موسیٰ) اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، ہمیں ہمارے طریقے بتائے اور ہماری نماز ہمارے لیے بیان فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی اور درست کرو، پھر تم میں سے ایک آدمی تمہاری امامت کرائے، جب وہ اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو اور جب وہ «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تم سے قبول فرمائے گا، جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کو جاتا ہے اور پہلے سر اٹھاتا ہے، یہ تاخیر اس سبقت کے بدلے میں ہے، اور جب وہ «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے“ کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری (حمد) سنے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی بات سنتا ہے جو اس کی تعریف کرتا ہے، پھر جب امام اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرتا ہے تو تم بھی اللہ اکبر کہہ کر سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدے کو جاتا ہے اور پہلے سر اٹھاتا ہے، یہ تاخیر اس سبقت کے بدلے میں ہے، پھر جب امام قعدے میں ہو تو تم میں سے ہر آدمی کو سب سے پہلے یہ کہنا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام پاکیزہ آداب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، دعائیں اور نمازیں بھی، اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 831، ویأتي برقم: 1174 مختصراً، 1281 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی امام تم سے جتنا پہلے سجدہ میں گیا اتنا ہی پہلے وہ سجدہ سے اٹھ گیا، اس طرح تمہاری اور امام کی نماز برابر ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
904
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذ قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن أبي داود |
972
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1065
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر الإمام فكبروا وإذا قرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1173
| أقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1281
| إذا قمتم إلى الصلاة فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1173 in Urdu
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري