یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. باب : نوع آخر من التشهد
باب: تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1281
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ الْأَشْعَرِيّ , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَعَلَّمَنَا سُنَّتَنَا وَبَيَّنَ لَنَا صَلَاتَنَا , فَقَالَ:" إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا , وَإِذَا قَالَ: وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , فَقُولُوا: آمِينَ يُجِبْكُمُ اللَّهُ، ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ وَرَكَعَ فَكَبِّرُوا وَارْكَعُوا , فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْكَعُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ , قَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ , وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ , فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ وَسَجَدَ , فَكَبِّرُوا وَاسْجُدُوا , فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ , قَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَتِلْكَ بِتِلْكَ , وَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَكُنْ مِنْ قَوْلِ أَحَدِكُمْ , أَنْ يَقُولَ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو آپ نے ہمیں ہمارے طریقے بتائے، اور ہم سے ہماری نماز کے طریقے بیان کیے، آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے، جب وہ «اللہ اکبر» کہے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب وہ «ولا الضالين» کہے تو تم آمین کہو، اللہ تمہاری اس کی ہوئی دعا کو قبول کرے گا، پھر جب وہ «اللہ اکبر» کہے اور رکوع کرے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور رکوع کرو، بیشک امام تم سے پہلے رکوع کرے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا“، تو ادھر کی کمی ادھر سے پوری ہو جائے گی، اور جب وہ «سمع اللہ لمن حمده» کہے تو تم «اللہم ربنا لك الحمد» ”اے اللہ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام حمد ہے“ کہو، اس لیے کہ اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوا دیا ہے کہ اس نے اپنے حمد کرنے والے کی حمد سن لی ہے، پھر جب وہ «اللہ اکبر» کہے اور سجدہ کرے، تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو اور سجدہ کرو، بیشک امام تم سے پہلے سجدہ میں جائے گا، اور تم سے پہلے سر اٹھائے گا“، تو ادھر کی کمی ادھر پوری ہو جائے گی، اور جب وہ قعدہ میں ہو تو تم میں سے ہر ایک کو یہ کہنا چاہیئے: «التحيات الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ”تمام قولی، فعلی، اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور برکت آپ پر نازل ہو، سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1281]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، ہمیں ہمارے طریقے سکھلائے اور ہمارے لیے ہماری نماز بیان فرمائی اور فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفیں سیدھی کرو، پھر تم میں سے کوئی شخص تمہارا امام بنے، جب بھی وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم بھی ”اللہ اکبر“ کہو اور جب وہ ﴿وَلَا الضَّالِّينَ﴾ [سورة الفاتحة: 7] کہے تو تم ”آمین“ کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائے گا۔ پھر جب وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے اور رکوع کرے تو تم بھی ”اللہ اکبر“ کہو اور رکوع کرو، امام تم سے پہلے رکوع کو جاتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سبقت اس سبقت کے مقابلے میں ہے اور جب وہ «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ» کہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی بات سنتا ہے جو اس کی حمد کرے۔ پھر جب وہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہے اور سجدہ کرے تو تم بھی ”اللہ اکبر“ کہو اور سجدہ کرو، امام تم سے پہلے سجدے کو جاتا ہے اور تم سے پہلے سر اٹھاتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سبقت اس سبقت کے مقابلے میں ہے (تمہارے اور امام کے سجدے کی مقدار میں کوئی فرق نہیں پڑے گا) اور جب امام قعدے میں بیٹھے تو تمہیں یوں کہنا چاہیے: «التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» ”تمام آداب، پاکیزہ کلمات اور دعائیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام، رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر بھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔““ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1281]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 831 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
904
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذ قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن أبي داود |
972
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1065
| إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر الإمام فكبروا وإذا قرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1173
| أقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين |
سنن النسائى الصغرى |
1281
| إذا قمتم إلى الصلاة فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم فإذا كبر فكبروا وإذا قال ولا الضالين |
Sunan an-Nasa'i Hadith 1281 in Urdu
حطان بن عبد الله البصري ← عبد الله بن قيس الأشعري