🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3895
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، فَقَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ، نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَمْنَحْهَا , أَوْ لِيَدَعْهَا" , وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ، مِنَ النَّخْلِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَأْخُذُهَا بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ.
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے معاملے سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ نے تمہیں محاقلہ سے منع فرمایا ہے، آپ نے فرمایا: جس کی کوئی زمین ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے کسی کو ہبہ کر دے یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے، نیز آپ نے مزابنہ سے روکا ہے، مزابنہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے پاس درخت پر کھجوروں کے پھل کا بڑا حصہ ہو۔ پھر کوئی (دوسرا) آدمی اسے اتنی اتنی وسق ۱؎ ایسی ہی (گھر میں موجود) کھجور کے بدلے میں لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں۔ اور صاع اڑھائی کلوگرام کا، یعنی وسق =۱۵۰ کلوگرام۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أسيد بن ظهير الأنصاري، أبو ثابت
Newأسيد بن ظهير الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري
صحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← أسيد بن ظهير الأنصاري
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3398
ينهاكم عن الحقل من استغنى عن أرضه فليمنحها أخاه أو ليدع
سنن ابن ماجه
2460
من استغنى عن أرضه فليمنحها أخاه أو ليدع
سنن النسائى الصغرى
3895
من كانت له أرض فليمنحها أو ليدعها نهى عن المزابنة المزابنة الرجل يكون له المال العظيم من النخل فيجيء الرجل فيأخذها بكذا وكذا وسقا من تمر
سنن النسائى الصغرى
3896
نهاكم رسول الله عن الحقل الحقل المزارعة بالثلث والربع من كان له أرض فاستغنى عنها فليمنحها أخاه أو ليدع نهاكم عن المزابنة المزابنة الرجل يجيء إلى النخل الكثير بالمال العظيم فيقول خذه بكذا وكذا وسقا من تمر ذلك العام
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3895 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3895
اردو حاشہ:
البتہ مزابنہ کی یہ صورت غریب لوگوں کے لیے تھوڑی مقدار میں (پندرہ بیس من تک) کھانے پینے کے لیے جائز ہے کیونکہ یہ ان کی مجبوری ہے اور شریعت مجبوریوں کا لحاظ رکھتی ہے۔ لیکن تجارتی بنیاد پر کثیر مقدار میں جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3895]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3398
بٹائی کی ممانعت کا بیان۔
اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک ایسے کام سے منع فرما رہے ہیں جس میں تمہارا فائدہ تھا، لیکن اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو «حقل» سے یعنی مزارعت سے روکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنی زمین سے بے نیاز ہو یعنی جوتنے بونے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنی زمین اپنے کسی بھائی کو (مفت) دیدے یا اسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح سے شعبہ او۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3398]
فوائد ومسائل:

علامہ شوکانی نیل الاوطار میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث مختصر روایت آئی ہے۔
تفصیلی روایت میں اسید بن ظہیر کا کلام یوں ہے۔
ہم میں سے جب کوئی اپنی زمین کو خود کاشت نہ کرنا چاہتا۔
یا اس کا ضرورت مند ہوتا تو وہ اسے آدھی تہائی یا چوتھائی پر بٹائی پر دے دیا کرتا تھا۔
اور تین باتوں کی شرط ہوتی تھی کہ نالوں کے ساتھ ساتھ کی کاشت غلہ گاہنے کے بعد نیچے جو باقی رہے گا۔
اور وہ قطعات جو نالوں سے سیرات ہوتے ہوں گے۔
(مالک کے ہوں گے) الخ (نیل الأوطار: 312/5 باب فسادالعقد إذا شرط أحدھما لنفسه التبن أو بقعة یعینھا ونحوہ)

ویسے چھوڑ دینے کی صورت میں بھی بہت سے فائدے ہیں۔
اس زمین میں اگنے والی گھاس جانورچرتے ہیں۔
فطری پودے اور ان میں رہنے والے چھوٹے بڑے جانور ماحولیات کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3398]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2460
مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کو زمین کی حاجت نہیں ہوتی تھی تو اسے تہائی یا چوتھائی یا آدھے کی بٹائی پردے دیتا، اور تین شرطیں لگاتا کہ نالیوں کے قریب والی زمین کی پیداوار، صفائی کے بعد بالیوں میں بچ جانے والا غلہ اور فصل ربیع کے پانی سے جو پیداوار ہو گی وہ میں لوں گا، اس وقت لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی، وہ ان میں پھاؤڑے سے اور ان طریقوں سے جن سے اللہ چاہتا محنت کرتا اور اس سے فائدہ حاصل کرتا، آخر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک کام سے جو تمہارے لیے مفید تھا منع فرما دیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2460]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نصف یا چوتھائی پیداوار کی جو شرط منع ہے وہ اس طرح ہے کہ زمین کےکسی خاص ٹکڑے کی پیداوار زمین کے مالک کے لیے ہو۔
مالک عموما ایسا ٹکڑا منتخب کرتا ہےتھا جوآبی گزر گاہ یا پانی کی نالی وغیرہ کےقریب واقع ہوتا اس لیے اس میں پیداوار زیادہ ہونے کی توقع ہوتی تھی۔

(2)
کھیت کی کل پیداوار میں سے نصف تہائی یا چوتھائی پیداوار کی شرط لگانا جائز ہے۔

(3)
بٹائی کی بجائے زمین عاریتاً دے دینا افضل ہے۔

(4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےحکم کی تعمیل دنیا کےظاہری مفاد سے زیادہ اہم ہے کیونکہ ارشاد نبوی کی تعمیل میں آخرت کا فائدہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2460]