سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : ذكر الأحاديث المختلفة في النهى عن كراء الأرض بالثلث والربع واختلاف ألفاظ الناقلين للخبر
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 3896
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ , فَقَالَ: وَلَمْ أَفْهَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَنْفَعُكُمْ، وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَكُمْ مِمَّا يَنْفَعُكُمْ:" نَهَاكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ، وَالْحَقْلُ: الْمُزَارَعَةُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَمَنْ كَانَ لَهُ أَرْضٌ فَاسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ، وَنَهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ , وَالْمُزَابَنَةُ: الرَّجُلُ يَجِيءُ إِلَى النَّخْلِ الْكَثِيرِ بِالْمَالِ الْعَظِيمِ فَيَقُولُ خُذْهُ بِكَذَا وَكَذَا وَسْقًا مِنْ تَمْرِ ذَلِكَ الْعَامِ".
اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا، اور میں اس (ممانعت کے راز) کو سمجھ نہیں سکا، پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک ایسی بات سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے سود مند تھی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے اس چیز سے جو تمہیں فائدہ دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «حقل» سے روکا ہے۔ اور «حقل» کہتے ہیں: تہائی یا چوتھائی پیداوار کے بدلے زمین کو بٹائی پر دینا۔ لہٰذا جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس سے بے نیاز ہو تو چاہیئے کہ وہ اسے اپنے بھائی کو دیدے، یا اسے ایسی ہی چھوڑ دے، اور آپ نے تمہیں مزابنہ سے روکا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ آدمی بہت سارا مال لے کر کھجور کے باغ میں جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سال کی اس مال کو (یعنی پاس میں موجود کھجور کو) اس سال کی (درخت پر موجود) کھجور کے بدلے اتنے اتنے وسق کے حساب سے لے لو۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3896]
حضرت اسید بن ظہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور کہا: ... لیکن میں (ممانعت کی وجہ) نہیں سمجھ سکا ... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایسے کام سے منع فرما دیا ہے جو تمہارے لیے مفید تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اس مفید کام سے تمہارے لیے بدرجہا بہتر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں «الْحَقْلُ» ”حقل“ سے روک دیا ہے، اور «الْحَقْلُ» سے مراد زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض بٹائی پر دینا ہے، لہٰذا ”جس شخص کے پاس فالتو زمین ہے، جس کی اسے ضرورت نہیں تو وہ اپنے کسی (مسلمان غریب) بھائی کو دے دے یا پھر چھوڑ دے۔“ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُزَابَنَةُ» ”مزابنہ“ سے بھی منع فرمایا ہے، اور «الْمُزَابَنَةُ» یہ ہے کہ ایک شخص کھجور کے بہت سے درختوں کے پاس بہت سی خشک کھجوریں لے کر آئے اور کہے: یہ اتنے اتنے (یعنی معین) «وَسْقٌ» ”وسق“ کھجوروں کے عوض لے لے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3894 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3398
| ينهاكم عن الحقل من استغنى عن أرضه فليمنحها أخاه أو ليدع |
سنن ابن ماجه |
2460
| من استغنى عن أرضه فليمنحها أخاه أو ليدع |
سنن النسائى الصغرى |
3895
| من كانت له أرض فليمنحها أو ليدعها نهى عن المزابنة المزابنة الرجل يكون له المال العظيم من النخل فيجيء الرجل فيأخذها بكذا وكذا وسقا من تمر |
سنن النسائى الصغرى |
3896
| نهاكم رسول الله عن الحقل الحقل المزارعة بالثلث والربع من كان له أرض فاستغنى عنها فليمنحها أخاه أو ليدع نهاكم عن المزابنة المزابنة الرجل يجيء إلى النخل الكثير بالمال العظيم فيقول خذه بكذا وكذا وسقا من تمر ذلك العام |
Sunan an-Nasa'i Hadith 3896 in Urdu
أسيد بن ظهير الأنصاري ← رافع بن خديج الأنصاري