سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : ترك القراءة خلف الإمام فيما لم يجهر فيه
باب: سری نمازوں میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 918
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" مَنْ قَرَأَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى"، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ قَدْ خَالَجَنِيهَا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو پوچھا: سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی؟“ تو اس آدمی نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 12 (398)، سنن ابی داود/الصلاة 138 (828)، (تحفة الأشراف: 10825)، مسند احمد 4/426، 431، 433، 441، ویأتی عند المؤلف برقم: 1745 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥زرارة بن أوفى العامري، أبو حاجب زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← زرارة بن أوفى العامري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
918
| من قرأ سبح اسم ربك الأعلى قال رجل أنا قال قد علمت أن بعضكم قد خالجنيها |
سنن النسائى الصغرى |
919
| عرفت أن بعضكم قد خالجنيها |
سنن النسائى الصغرى |
1745
| من قرأ بسبح اسم ربك الأعلى قال رجل أنا قال قد علمت أن بعضهم خالجنيها |
صحيح مسلم |
888
| ظننت أن بعضكم خالجنيها |
صحيح مسلم |
887
| علمت أن بعضكم خالجنيها |
سنن أبي داود |
828
| صلى الظهر فجاء رجل فقرأ خلفه سبح اسم ربك الأعلى |
سنن أبي داود |
829
| صلى بهم الظهر فلما انفتل قال أيكم قرأ ب سبح اسم ربك الأعلى |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 918 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 918
918 ۔ اردو حاشیہ:
➊ حضرت عمران کا یہ کہنا کہ ”ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ الاعلیٰ پڑھی۔“ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کچھ اونچی میں پڑھی تھی، تبھی تو راویٔ حدیث نے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”کسی نے مجھے خلجان شک و اشتباہ اور اختلاط) میں ڈالا ہے۔“ بھی اسی کے مؤید ہیں کہ اس نے کچھ اونچی آواز سے پڑھنے پر ہے جس سے کسی ساتھی یا امام کو تشویش ہو۔ اگر آہستہ پڑھنے کہ کسی سنائی نہ دے تو کوئی حرج نہیں۔
➋ سری نماز میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ زائد سورت بھی پڑھ سکتا ہے، لہٰذا باب میں امام صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ ”قرأت نہ کرنا“ سے مراد ہے، بلند آواز سے نہ پڑھنا یا فاتحہ سے زائد نہ پڑھنا۔
➊ حضرت عمران کا یہ کہنا کہ ”ایک آدمی نے آپ کے پیچھے سورۃ الاعلیٰ پڑھی۔“ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس نے کچھ اونچی میں پڑھی تھی، تبھی تو راویٔ حدیث نے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”کسی نے مجھے خلجان شک و اشتباہ اور اختلاط) میں ڈالا ہے۔“ بھی اسی کے مؤید ہیں کہ اس نے کچھ اونچی آواز سے پڑھنے پر ہے جس سے کسی ساتھی یا امام کو تشویش ہو۔ اگر آہستہ پڑھنے کہ کسی سنائی نہ دے تو کوئی حرج نہیں۔
➋ سری نماز میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ زائد سورت بھی پڑھ سکتا ہے، لہٰذا باب میں امام صاحب رحمہ اللہ کے الفاظ ”قرأت نہ کرنا“ سے مراد ہے، بلند آواز سے نہ پڑھنا یا فاتحہ سے زائد نہ پڑھنا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 918]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 829
امام زور سے قرآت نہ کرے تو مقتدی قرآت کرے اس کے قائلین کی دلیل۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: ”تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟“، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 829]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر پڑھائی، تو جب آپ پلٹے تو فرمایا: ”تم میں سے کس نے (ہمارے پیچھے) سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی ہے؟“، تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے محسوس ہوا کہ تم میں سے کسی نے میرے دل میں خلجان ڈال دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 829]
829۔ اردو حاشیہ:
➊ قرآن کریم کو لحن عرب میں پڑھنا مستحب اور مطلو ب ہے، اور اس میں اپنی سی کوشش اور محنت کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ مگر بدوی اور عجمی لوگوں کے لئے عربی اسلوب اور قواعد تجوید پر کماحقہ پورا اترنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے آپ نے مختلف طبقات کے لوگوں کی قرأت کی توثیق فرما کر امت پر آسانی اور احسان فرمایا ہے۔
➋ ایسے لوگوں کا پیدا ہو جانا جو قرأت قرآن کو ریا، شہرت اور حطام دنیا (دنیوی ساز و سامان) جمع کرنے کا ذریعہ بنا لیں، آثار قیامت میں سے ہے۔
➌ ظاہر الفاظ کی تجوید میں مبالغہ اور آواز زیر و بم ہی کو قراءت جاننا اور مفہوم و معنی سے صرف نظر کر لینا ازحد معیو ب ہے۔
➍ تلاوت قرآن اور اس کے درس تدریس میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا واجب ہے۔
➎ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «احق ما اخذتم عليه ا جرا كتاب الله» سب سے عمدہ چیز جس پر تم ا جر (عوض و اجرت) لے سکتے ہو، اللہ کی کتاب ہے۔ [صحيح بخاري كتاب الا جارة باب 16]
اور مذکورہ بالا حدیث میں تطبیق یہ ہے کہ عظیمت، عوض نہ لینے میں ہے۔ تاہم امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ معلم اس سلسلے میں کوئی شرط نہ کرے۔ ویسے کچھ دیا جاوے تو قبول کر لے۔ جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں دس درہم ادا کیے۔ [حواله مذكور]
بہرحال مدرس اور داعی حضرات مجاہد کی طرح ہیں، اگر اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت رکھتے ہوں اور عوض لیں تو ان شاء اللہ مباح ہے، کوئی جر م نہیں۔ لیکن نیت محض مال کھانا ہو تو حرام ہے اور دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی خسارے کا سودا نہیں۔
➊ قرآن کریم کو لحن عرب میں پڑھنا مستحب اور مطلو ب ہے، اور اس میں اپنی سی کوشش اور محنت کرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ مگر بدوی اور عجمی لوگوں کے لئے عربی اسلوب اور قواعد تجوید پر کماحقہ پورا اترنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے آپ نے مختلف طبقات کے لوگوں کی قرأت کی توثیق فرما کر امت پر آسانی اور احسان فرمایا ہے۔
➋ ایسے لوگوں کا پیدا ہو جانا جو قرأت قرآن کو ریا، شہرت اور حطام دنیا (دنیوی ساز و سامان) جمع کرنے کا ذریعہ بنا لیں، آثار قیامت میں سے ہے۔
➌ ظاہر الفاظ کی تجوید میں مبالغہ اور آواز زیر و بم ہی کو قراءت جاننا اور مفہوم و معنی سے صرف نظر کر لینا ازحد معیو ب ہے۔
➍ تلاوت قرآن اور اس کے درس تدریس میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا واجب ہے۔
➎ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «احق ما اخذتم عليه ا جرا كتاب الله» سب سے عمدہ چیز جس پر تم ا جر (عوض و اجرت) لے سکتے ہو، اللہ کی کتاب ہے۔ [صحيح بخاري كتاب الا جارة باب 16]
اور مذکورہ بالا حدیث میں تطبیق یہ ہے کہ عظیمت، عوض نہ لینے میں ہے۔ تاہم امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ معلم اس سلسلے میں کوئی شرط نہ کرے۔ ویسے کچھ دیا جاوے تو قبول کر لے۔ جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں دس درہم ادا کیے۔ [حواله مذكور]
بہرحال مدرس اور داعی حضرات مجاہد کی طرح ہیں، اگر اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت رکھتے ہوں اور عوض لیں تو ان شاء اللہ مباح ہے، کوئی جر م نہیں۔ لیکن نیت محض مال کھانا ہو تو حرام ہے اور دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی خسارے کا سودا نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 829]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 919
سری نمازوں میں امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: ”تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 919]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر پڑھائی، اور ایک آدمی آپ کے پیچھے قرآت کر رہا تھا، تو جب آپ نے سلام پھیرا تو پوچھا: ”تم میں سے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے، اور میری نیت صرف خیر کی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے بعض نے مجھ سے سورۃ پڑھنے میں خلجان میں دال دیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 919]
919 ۔ اردو حاشیہ: کوئی بھی ایسا کام جو ظاہراً بڑا خوبصورت اور نیکی معلوم ہو لیکن وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہو یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اس پر ثبت نہ ہو، وہ عنداللہ مقبول نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 919]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1745
اس حدیث میں شعبہ کی قتادہ سے روایت میں شعبہ کے شاگردوں کے اختلاف کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: ” «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟“ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1745]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، تو ایک شخص نے سورۃ «سبح اسم ربك الأعلى» پڑھی، تو جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ نے پوچھا: ” «سبح اسم ربك الأعلى» کس نے پڑھی ہے؟“ تو ایک شخص نے عرض کیا: میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگا کہ تم میں سے کسی نے مجھے خلجان میں ڈال دیا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1745]
1745۔ اردو حاشیہ: جہری نماز میں اثنائے قرأت امام کے پیچھے فاتحہ کے سوا قرأت کرنا منع ہے۔ سری نماز میں زائد قرأت کی جا سکتی ہے مگر وہ کسی کو سنائی نہ دے ورنہ شور ہو سکتا ہے، نیز ایک آدمی کے اونچا پڑھنے سے امام یا ساتھیوں کو غلجان و اشتباہ ہو سکتا ہے اور دوسروں کو پریشان کرنا قطعاً جائز نہیں۔ قرأت کے علاوہ دیگر اور دوتسبیحات بھی دوسروں کو سنائی نہیں دینی چاہییں، البتہ نمازی اکیلا ہو تو مناسب آواز سے پڑھ سکتا ہے۔ فرض ہوں یا نفل، نماز سری ہو یا جہری اور قرأت ہو یا تسبیحات واور اد۔ واللہ اعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1745]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 887
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، اور پوچھا، ”تم میں سے کس نے میرے پیچھے سورة ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلىٰ﴾ پڑھی“ تو ایک آدمی نے جواب دیا، میں نے اور اس سے میرا مقصد صرف خیر ہی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جانا، تم میں سے کوئی میرے ساتھ قراءت میں الجھ رہا ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:887]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے بلند آواز سے قرآءت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح امام کے لیے قرآءت کرنے میں دقّت پیدا ہوتی ہے اور بعض سری نمازوں (ظہر،
عصر)
میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فاتحہ کے بعد کوئی سورت بلند آواز میں پڑھ لیتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاتحہ کے بعد والی قرآءت پر اعتراض کیا اور آہستہ پڑھنے کا حکم دیا۔
جس سے معلوم ہوا سری نمازوں میں فاتحہ کے بعد بھی کوئی سورت آہستہ پڑھی جائے گی جہری نمازوں (رکعتوں)
میں فاتحہ کے سوا کوئی قرآءت نہیں ہے الا یہ کہ مقتدی امام سے اس قدر فاصلہ پر ہو کہ وہاں تک قرآءت کی آواز نہ پہنچ رہی ہو تو پھر وہ فاتحہ کے بعد بھی قرآءت کرے گا لیکن یہ قرآءت آہستہ ہو گی۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے بلند آواز سے قرآءت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس طرح امام کے لیے قرآءت کرنے میں دقّت پیدا ہوتی ہے اور بعض سری نمازوں (ظہر،
عصر)
میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فاتحہ کے بعد کوئی سورت بلند آواز میں پڑھ لیتے تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاتحہ کے بعد والی قرآءت پر اعتراض کیا اور آہستہ پڑھنے کا حکم دیا۔
جس سے معلوم ہوا سری نمازوں میں فاتحہ کے بعد بھی کوئی سورت آہستہ پڑھی جائے گی جہری نمازوں (رکعتوں)
میں فاتحہ کے سوا کوئی قرآءت نہیں ہے الا یہ کہ مقتدی امام سے اس قدر فاصلہ پر ہو کہ وہاں تک قرآءت کی آواز نہ پہنچ رہی ہو تو پھر وہ فاتحہ کے بعد بھی قرآءت کرے گا لیکن یہ قرآءت آہستہ ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 887]
زرارة بن أوفى العامري ← عمران بن حصين الأزدي