سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب ما جاء في القيام للجنازة
باب: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1043
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الحلواني، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَا: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ عَنْ أَعْنَاقِ الرِّجَالِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَقَدَّمُونَ الْجَنَازَةَ فَيَقْعُدُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَيْهِمُ الْجَنَازَةُ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور جو اس کے ساتھ جائے وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے،
۲- یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو کسی جنازے کے ساتھ جائے، وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ لوگوں کی گردنوں سے اتار کر رکھ نہ دیا جائے،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے جاتے تھے اور جنازہ پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہی شافعی کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1043]
۱- ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے،
۲- یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو کسی جنازے کے ساتھ جائے، وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ لوگوں کی گردنوں سے اتار کر رکھ نہ دیا جائے،
۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے جاتے تھے اور جنازہ پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہی شافعی کا قول ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «*تخريج: صحیح البخاری/الجنائز48 (1310) صحیح مسلم/الجنائز24 (959) سنن النسائی/الجنائز44 (1915) و45 (1918) و80 (2000) مسند احمد (3/25، 41، 51) (تحفة الأشراف: 4420) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الجنائز47 (3173) مسند احمد (3/85، 97) من غیر ہذا الوجہ۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1310
| إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع |
صحيح مسلم |
2220
| إذا اتبعتم جنازة فلا تجلسوا حتى توضع |
صحيح مسلم |
2221
| إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يجلس حتى توضع |
جامع الترمذي |
1043
| إذا رأيتم الجنازة فقوموا لها فمن تبعها فلا يقعدن حتى توضع |
سنن أبي داود |
3173
| إذا تبعتم الجنازة فلا تجلسوا حتى توضع |
سنن النسائى الصغرى |
1915
| إذا مرت بكم جنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع |
سنن النسائى الصغرى |
1918
| إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع |
سنن النسائى الصغرى |
1920
| إن رسول الله مرت به جنازة فقام |
سنن النسائى الصغرى |
2000
| إذا رأيتم الجنازة فقوموا ومن تبعها فلا يقعدن حتى توضع |
بلوغ المرام |
464
| إذا رايتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يجلس حتى توضع |
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1043 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري