🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب ما جاء في الرجل يتزوج المرأة فيموت عنها قبل أن يفرض لها
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1145
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ "، فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كلاهما، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ: بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ عُمَرَ، إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ، قَالُوا: لَهَا الْمِيرَاثُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، قَالَ: لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، لَكَانَتِ الْحُجَّةُ فِيمَا رُوِيَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوِي، عَنْ الشَّافِعِيِّ، أَنَّهُ رَجَعَ، بِمِصْرَ، بَعْدُ عَنْ هَذَا الْقَوْلِ، وَقَالَ بِحَدِيثِ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اس سے صحبت کی یہاں تک کہ وہ مر گیا، تو ابن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: اس عورت کے لیے اپنے خاندان کی عورتوں کے جیسا مہر ہو گا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اسے عدت بھی گزارنی ہو گی اور میراث میں بھی اس کا حق ہو گا۔ تو معقل بن سنان اشجعی نے کھڑے ہو کر کہا: بروع بنت واشق جو ہمارے قبیلے کی عورت تھی، کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ تو اس سے ابن مسعود رضی الله عنہ خوش ہوئے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں جراح سے بھی روایت ہے۔
۳- یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے بسند «سفيان عن منصور» سے اسی طرح روایت کی ہے،
۴- ابن مسعود رضی الله عنہ سے یہ اور بھی طرق سے مروی ہے،
۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۲؎ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے،
۶- اور صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ کہتے ہیں: جن میں علی بن ابی طالب، زید بن ثابت، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی عورت سے شادی کرے، اور اس نے اس سے ابھی دخول نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیا ہو اور وہ مر جائے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عورت کو میراث میں حق ملے گا، لیکن کوئی مہر نہیں ہو گا ۳؎ اور اسے عدت گزارنی ہو گی۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ وہ کہتے ہیں: اگر بروع بنت واشق کی حدیث صحیح ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہونے کی وجہ سے حجت ہو گی۔ اور شافعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بعد میں مصر میں اس قول سے رجوع کر لیا اور بروع بنت واشق کی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ النکاح 32 (2115)، سنن النسائی/النکاح 68 (3356، 3359)، والطلاق 57 (3554)، سنن ابن ماجہ/النکاح 18 (1891)، سنن الدارمی/النکاح 47 (2292)، (تحفة الأشراف: 11461) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/النکاح 68 (3360)، و مسند احمد (1/447)، من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کا شوہر عقد کے بعد مہر کے مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو وہ پورے مہر کی مستحق ہو گی اگرچہ دخول اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔
۲؎: اور یہی قول صحیح اور راجح ہے۔
۳؎: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مہر عوض ہے تو جب شوہر عورت اور اس کے صیغے پر قابض نہ ہوا تو مہر لازم نہیں ہو گا جیسے بیع خریدار کے حوالہ نہ ہو تو اس پر ثمن لازم نہیں ہوتا، اور حدیث کا جواب ان لوگوں نے یہ دیا ہے کہ حدیث میں اضطراب ہے کبھی یہ معقل بن سنان سے مروی ہے اور کبھی معقل بن یسار سے اور کبھی بغیر نام کی تعیین کے قبیلہ اشجع کے ایک شخص سے، کبھی اشجع کے کچھ لوگوں سے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ اضطراب قادح نہیں ہے کیونکہ یہ شک و تردد دو صحابیوں کے درمیان ہے اس کی وجہ سے حدیث میں طعن نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1891)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتابثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة متقن
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ له تصانيف
👤←👥معقل بن سنان الأشجعي، أبو يزيد، أبو محمد، أبو سنان، أبو عبد الرحمن، أبو عيسى
Newمعقل بن سنان الأشجعي ← الحسن بن علي الهذلي
صحابي
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسعود ← معقل بن سنان الأشجعي
صحابي
👤←👥علقمة بن قيس النخعي، أبو شبل
Newعلقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم النخعي، أبو عمران
Newإبراهيم النخعي ← علقمة بن قيس النخعي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← إبراهيم النخعي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← سفيان الثوري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3357
لها صداق نسائها لا وكس ولا شطط ولها الميراث وعليها العدة
سنن النسائى الصغرى
3358
لها الصداق وعليها العدة ولها الميراث
جامع الترمذي
1145
صداق نسائها لا وكس ولا شطط وعليها العدة ولها الميراث
سنن ابن ماجه
1891
لها الصداق ولها الميراث وعليها العدة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1145 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1145
اردو حاشہ:
وضاخت:


1؎:
یہ حدیث اس بات پردلالت کرتی ہے کہ عورت کا شوہرعقد کے بعد مہرکے مقررکرنے سے پہلے مرجائے تو وہ پورے مہرکی مستحق ہوگی اگرچہ دخول اورخلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1145]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1891
ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1891]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
نکاح ہو جانے سے عورت کو بیوی والے تمام حقوق حاصل ہو جاتے ہیں اگرچہ رخصتی نہ ہوئی ہو۔

(2)
خاوند اور بیوی کو ایک دوسرے کے ترکے میں سے حصہ ملتا ہے جب کہ نکاح ہو چکا ہو، خواہ رخصتی نہ ہوئی ہو۔

(3)
عورت کی رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اسے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن عدت گزارنا ضروری ہے، البتہ اگر رخصتی سے پہلے طلاق ہو جائے تو عورت کو عدت گزارنے کی ضرورت نہیں۔ (الأحزاب: 49)

(4)
مذکورہ حدیث میں حق مہر کی مقدار کا تعین عورت کے خاندان کی دوسری خواتین کے حق مہر کی روشنی میں کیا جائے گا، یعنی عورت کے خاندان میں عورتوں کا جتنا حق مہر عموماً مقرر ہوتا ہے اسے دیا جائے گا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس معاملے میں یہی فیصلہ دیا تھا۔
جامع ترمذی میں ان کے فیصلے کے یہ الفاظ مروی ہیں:
(لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ......)
 اسے اپنے خاندان کی عورتوں جیسا مہر ملے گا نہ زیادہ نہ کم اور اس پر عدت ہے اور اس کے لیے میراث ہے۔ (جامع الترمذي، النکاح، باب ما جاء فی الرجل یتزوج المراۃ فیموت عنها قبل ان یفرض لها، حدیث: 1145)
تاہم اگر حق مہر مقرر ہو اور خلوت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے تو پھر آدھا حق مہر ادا کیا جائے گا۔ (البقرۃ: 237)

(5)
اگر نکاح کے وقت حق مہر کا تعین نہ ہو تو بھی نکاح صحیح ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ اسی وقت تعین کر لیا جائے۔
حدیث: 1889 میں مذکور واقعہ میں صحیح بخاری کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا تھا:
کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے جو تو اسے حق مہر کے طور پر ادا کرے۔ (صحیح البخاري، النکاح، باب السلطان ولی .....، حدیث: 5135)

(6)
جس مسئلہ میں قرآن و حدیث کی واضح ہدایت معلوم نہ ہو اس میں عالم اجتہاد سے مسئلہ بتا سکتا ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے یہ مسئلہ اجتہاد کر کے بتایا تھا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا تو انہیں بہت خوشی ہوئی۔ (سنن ابی داؤد، النکاح، باب فیمن تزوج ولم یسم لها صداقا حتی مات، حدیث: 2114)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1891]