علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما جاء لا طلاق قبل النكاح
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1181
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نَذْرَ لِابْنِ آدَمَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا عِتْقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، وَلَا طَلَاقَ لَهُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَهُوَ قَوْلُ: أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، رُوِيَ ذَلِكَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَالْحَسَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَشُرَيْحٍ، وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَرُوِيَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الْمَنْصُوبَةِ إِنَّهَا تَطْلُقُ وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَالشَّعْبِيِّ وَغَيْرِهِمَا، مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ قَالُوا: إِذَا وَقَّتَ نُزِّلَ وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، أَنَّهُ إِذَا سَمَّى امْرَأَةً بِعَيْنِهَا، أَوْ وَقَّتَ وَقْتًا، أَوْ قَالَ: إِنْ تَزَوَّجْتُ مِنْ كُورَةِ كَذَا، فَإِنَّهُ إِنْ تَزَوَّجَ، فَإِنَّهَا تَطْلُقُ، وَأَمَّا ابْنُ الْمُبَارَكِ فَشَدَّدَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَالَ: إِنْ فَعَلَ لَا أَقُولُ هِيَ حَرَامٌ، وقَالَ أَحْمَدُ: إِنْ تَزَوَّجَ لَا آمُرُهُ، أَنْ يُفَارِقَ امْرَأَتَهُ، وقَالَ إِسْحَاق: أَنَا أُجِيزُ فِي الْمَنْصُوبَةِ، لِحَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَإِنْ تَزَوَّجَهَا لَا أَقُولُ تَحْرُمُ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، وَوَسَّعَ إِسْحَاق فِي غَيْرِ الْمَنْصُوبَةِ وَذُكِرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ سُئِلَ، عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ بِالطَّلَاقِ، أَنَّهُ لَا يَتَزَوَّجُ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ هَلْ لَهُ رُخْصَةٌ بِأَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ رَخَّصُوا فِي هَذَا؟، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِنْ كَانَ يَرَى هَذَا الْقَوْلَ حَقَّا، مِنْ قَبْلِ أَنْ يُبْتَلَى بِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِمْ فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَذَا فَلَمَّا ابْتُلِيَ أَحَبَّ، أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِمْ فَلَا أَرَى لَهُ ذَلِكَ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کے لیے ایسی چیز میں نذر نہیں جس کا وہ اختیار نہ رکھتا ہو، اور نہ اسے ایسے شخص کو آزاد کرنے کا اختیار ہے جس کا وہ مالک نہ ہو، اور نہ اسے ایسی عورت کو طلاق دینے کا حق حاصل ہے جس کا وہ مالک نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، معاذ بن جبل، جابر، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور یہ سب سے بہتر حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے،
۳- یہی صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا قول ہے۔ اور علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، سعید بن المسیب، حسن، سعید بن جبیر، علی بن حسین، شریح، جابر بن زید رضی الله عنہم، اور فقہاء تابعین میں سے بھی کئی لوگوں سے یہی مروی ہے۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے،
۴- اور ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے منصوبہ ۱؎ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ طلاق ہو جائے گی،
۵- اور اہل علم میں سے ابراہیم نخعی اور شعبی وغیرہ سے مروی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی وقت کی تحدید کرے ۲؎ تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور یہی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا بھی قول ہے کہ جب اس نے کسی متعین عورت کا نام لیا، یا کسی وقت کی تحدید کی یا یوں کہا: اگر میں نے فلاں محلے کی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے۔ تو اگر اس نے شادی کر لی تو اسے طلاق واقع ہو جائے گی،
۶- البتہ ابن مبارک نے اس باب میں شدت سے کام لیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس پر حرام ہو گی،
۷- اور احمد کہتے ہیں: اگر اس نے شادی کی تو میں اسے یہ حکم نہیں دوں گا کہ وہ اپنی بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے،
۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی حدیث کی رو سے منسوبہ عورت سے نکاح کی اجازت دیتا ہوں، اگر اس نے اس سے شادی کر لی، تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی عورت اس پر حرام ہو گی۔ اور غیر منسوبہ عورت کے سلسلے میں اسحاق بن راہویہ نے وسعت دی ہے،
۹- اور عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے طلاق کی قسم کھائی ہو کہ وہ شادی نہیں کرے گا، پھر اسے سمجھ میں آیا کہ وہ شادی کر لے۔ تو کیا اس کے لیے رخصت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے؟ تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: اگر وہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ان کے رخصت کے قول کو درست سمجھتا ہو تو اس کے لیے ان کے قول پر عمل درست ہے اور اگر وہ پہلے اس قول سے مطمئن نہ رہا ہو، اب آزمائش میں پڑ جانے پر ان کے قول پر عمل کرنا چاہے تو میں اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1181]
۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں علی، معاذ بن جبل، جابر، ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور یہ سب سے بہتر حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے،
۳- یہی صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا قول ہے۔ اور علی بن ابی طالب، ابن عباس، جابر بن عبداللہ، سعید بن المسیب، حسن، سعید بن جبیر، علی بن حسین، شریح، جابر بن زید رضی الله عنہم، اور فقہاء تابعین میں سے بھی کئی لوگوں سے یہی مروی ہے۔ اور یہی شافعی کا بھی قول ہے،
۴- اور ابن مسعود سے مروی ہے انہوں نے منصوبہ ۱؎ کے سلسلہ میں کہا ہے کہ طلاق ہو جائے گی،
۵- اور اہل علم میں سے ابراہیم نخعی اور شعبی وغیرہ سے مروی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب وہ کسی وقت کی تحدید کرے ۲؎ تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور یہی سفیان ثوری اور مالک بن انس کا بھی قول ہے کہ جب اس نے کسی متعین عورت کا نام لیا، یا کسی وقت کی تحدید کی یا یوں کہا: اگر میں نے فلاں محلے کی عورت سے شادی کی تو اسے طلاق ہے۔ تو اگر اس نے شادی کر لی تو اسے طلاق واقع ہو جائے گی،
۶- البتہ ابن مبارک نے اس باب میں شدت سے کام لیا ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ اس پر حرام ہو گی،
۷- اور احمد کہتے ہیں: اگر اس نے شادی کی تو میں اسے یہ حکم نہیں دوں گا کہ وہ اپنی بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے،
۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں ابن مسعود کی حدیث کی رو سے منسوبہ عورت سے نکاح کی اجازت دیتا ہوں، اگر اس نے اس سے شادی کر لی، تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی عورت اس پر حرام ہو گی۔ اور غیر منسوبہ عورت کے سلسلے میں اسحاق بن راہویہ نے وسعت دی ہے،
۹- اور عبداللہ بن مبارک سے منقول ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے طلاق کی قسم کھائی ہو کہ وہ شادی نہیں کرے گا، پھر اسے سمجھ میں آیا کہ وہ شادی کر لے۔ تو کیا اس کے لیے رخصت ہے کہ ان فقہاء کا قول اختیار کرے جنہوں نے اس سلسلے میں رخصت دی ہے؟ تو عبداللہ بن مبارک نے کہا: اگر وہ اس معاملے میں پڑنے سے پہلے ان کے رخصت کے قول کو درست سمجھتا ہو تو اس کے لیے ان کے قول پر عمل درست ہے اور اگر وہ پہلے اس قول سے مطمئن نہ رہا ہو، اب آزمائش میں پڑ جانے پر ان کے قول پر عمل کرنا چاہے تو میں اس کے لیے ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1181]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطلاق 17 (2047) (تحفة الأشراف: 8721)، مسند احمد (2/190) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق 7 (2190)، سنن النسائی/البیوع 60 (4616)، مسند احمد (2/189) من غیر ہذا الوجہ۔»
وضاحت: ۱؎: بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی «منسوبہ» ، اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا «منصوبہ» سے مراد متعین عورت ہے۔ مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر ”میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق“ تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑ جائے گی، حالانکہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔ ۲؎: مثلاً یوں کہے «إن نكحت اليوم أو غداً» ”اگر میں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا“۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (2047)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥شعيب بن محمد السهمي شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله عمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي | ثقة | |
👤←👥عامر الأحول عامر الأحول ← عمرو بن شعيب القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← عامر الأحول | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر أحمد بن منيع البغوي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3823
| لا نذر ولا يمين فيما لا تملك لا في معصية لا قطيعة رحم |
سنن النسائى الصغرى |
4616
| ليس على رجل بيع فيما لا يملك |
جامع الترمذي |
1181
| لا نذر لابن آدم فيما لا يملك لا عتق له فيما لا يملك لا طلاق له فيما لا يملك |
سنن أبي داود |
3274
| لا نذر ولا يمين فيما لا يملك ابن آدم في معصية الله في قطيعة رحم من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليدعها وليأت الذي هو خير فإن تركها كفارتها |
سنن أبي داود |
2190
| لا طلاق إلا فيما تملك لا عتق إلا فيما تملك لا بيع إلا فيما تملك لا وفاء نذر إلا فيما تملك |
سنن أبي داود |
3273
| لا نذر إلا فيما يبتغى به وجه الله لا يمين في قطيعة رحم |
سنن ابن ماجه |
2047
| لا طلاق فيما لا تملك |
بلوغ المرام |
926
| لا نذر لابن آدم فيما لا يملك ولا عتق له فيما لا يملك ولا طلاق له فيما لا يملك |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1181 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1181
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی منسوبہ،
اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا منصوبہ سے مراد متعین عورت ہے۔
مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر ”میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق“ تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی،
حالاں کہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔
2؎:
مثلاً یوں کہے ”إن نَكَحتُ اليَومَ أَو غَداً“(اگرمیں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا)
وضاحت:
1؎:
بعض نسخوں میں منصوبہ سین سے ہے یعنی منسوبہ،
اور یہی صحیح ہے اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی قبیلے یا شہر کی طرف منسوب ہو یا منصوبہ سے مراد متعین عورت ہے۔
مثلاً کوئی خاص عورت جس سے ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی ہے یہ کہے کہ اگر ”میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق“ تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی،
حالاں کہ فی الوقت یہ طلاق اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔
2؎:
مثلاً یوں کہے ”إن نَكَحتُ اليَومَ أَو غَداً“(اگرمیں نے آج نکاح کیا یا کل نکاح کروں گا)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1181]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 926
طلاق کا بیان
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس نذر کی کوئی حیثیت نہیں جس کا انسان مالک نہیں اور نہ ایسے غلام کا آزاد کرنا کوئی حیثیت رکھتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں اور نہ طلاق واقع ہو گی جو اس کے دینے والے کے اختیار میں نہ ہو۔“ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے، یہ اس میں صحیح ترین ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 926»
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس نذر کی کوئی حیثیت نہیں جس کا انسان مالک نہیں اور نہ ایسے غلام کا آزاد کرنا کوئی حیثیت رکھتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں اور نہ طلاق واقع ہو گی جو اس کے دینے والے کے اختیار میں نہ ہو۔“ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے، یہ اس میں صحیح ترین ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 926»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في الطلاق قبل النكاح، حديث:2190، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1181.» تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک ہی نہیں اس میں مالکانہ اختیارات استعمال کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
ان اختیارات کا استعمال ناقابل تسلیم ہے۔
2. یہ حدیث دلیل ہے کہ اجنبی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی‘ مثلاً: ایک آدمی کسی دوسرے کی منکوحہ یا کسی غیر منکوحہ خاتون سے کہتا ہے کہ تو مطلقہ ہے اور وہی شخص بعد ازاں کسی وقت اسی عورت سے نکاح کرلیتاہے تو علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ عورت مطلقہ تصور نہیں ہوگی، لیکن کسی عورت کو اس طرح کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق، تواس صورت میں علماء و فقہاء کے تین اقول ہیں: ٭ امام شافعی‘ امام احمد‘ داود ظاہری رحمہم اللہ اور چند دیگر علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسی عورت مطلقہ نہیں ہوگی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بائیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ قول نقل کیا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہی حدیث ہے۔
٭ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسی عورت مطلقہ ہو جائے گی۔
٭ تیسرا قول امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے کہ اگر کسی خاص قبیلے یا شہر کی عورت سے کہے یا کسی دن یا مہینے کے ساتھ مخصوص کرے تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر عمومی طور پر کہے تو واقع نہیں ہوگی۔
غلام کو آزاد کرنے اور نذر ماننے کا حکم بھی اسی طرح ہے۔
ان اقوال میں سے اقرب الی الصواب پہلا قول ہی ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔
«أخرجه أبوداود، الطلاق، باب في الطلاق قبل النكاح، حديث:2190، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1181.»
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کا مالک ہی نہیں اس میں مالکانہ اختیارات استعمال کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
ان اختیارات کا استعمال ناقابل تسلیم ہے۔
2. یہ حدیث دلیل ہے کہ اجنبی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی‘ مثلاً: ایک آدمی کسی دوسرے کی منکوحہ یا کسی غیر منکوحہ خاتون سے کہتا ہے کہ تو مطلقہ ہے اور وہی شخص بعد ازاں کسی وقت اسی عورت سے نکاح کرلیتاہے تو علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ عورت مطلقہ تصور نہیں ہوگی، لیکن کسی عورت کو اس طرح کہے کہ اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق، تواس صورت میں علماء و فقہاء کے تین اقول ہیں: ٭ امام شافعی‘ امام احمد‘ داود ظاہری رحمہم اللہ اور چند دیگر علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسی عورت مطلقہ نہیں ہوگی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے بائیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ قول نقل کیا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہی حدیث ہے۔
٭ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ایسی عورت مطلقہ ہو جائے گی۔
٭ تیسرا قول امام مالک رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے کہ اگر کسی خاص قبیلے یا شہر کی عورت سے کہے یا کسی دن یا مہینے کے ساتھ مخصوص کرے تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر عمومی طور پر کہے تو واقع نہیں ہوگی۔
غلام کو آزاد کرنے اور نذر ماننے کا حکم بھی اسی طرح ہے۔
ان اقوال میں سے اقرب الی الصواب پہلا قول ہی ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 926]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3823
قسم کھانے کے بعد استثنا کرنے یعنی ان شاءاللہ (اگر اللہ نے چاہا) کہنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز میں کوئی نذر، اور کوئی قسم نہیں ہوتی، جس کے تم مالک نہیں ہو اور نہ ہی معصیت اور قطع رحمی میں قسم ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3823]
اردو حاشہ:
(1) ان چیزوں میں نذر اور قسم نہیں ماننی چاہیے‘ منع ہے۔ اور اگر کوئی ان چیزوں کے بارے میں قسم کھا لے یا کوئی نذر مان لے تو وہ پوری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نذر یا قسم کے ساتھ ممنوع کام جائز نہیں ہوسکتا‘ البتہ ایسی قسم کے کفارے کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا معظم ومقدس نام ایسی چیز میں کیوں استعمال کیا جو شرعاً ممنوع ہے۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین ہے‘ لہٰذا ان چیزوں میں نذر اور قسم کے معتبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ندر اور قسم کے باوجود وہ کام جائز نہیں ہوگا بلکہ ایسی نذر یا قسم کو توڑنا واجب ہے۔ اور اس غلطی کا وہ کفارہ ادا کرے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ایسی نذر یا قسم منعقد ہی نہیں ہوتی‘ لہٰذا کفارے کی ضرورت نہیں مگر یہ بات کمزور معلوم ہوتی ہے۔
(2) مباح چیزوں میں نذر ماننا جائز ہے‘ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر ماننا جائز نہیں۔
(1) ان چیزوں میں نذر اور قسم نہیں ماننی چاہیے‘ منع ہے۔ اور اگر کوئی ان چیزوں کے بارے میں قسم کھا لے یا کوئی نذر مان لے تو وہ پوری نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نذر یا قسم کے ساتھ ممنوع کام جائز نہیں ہوسکتا‘ البتہ ایسی قسم کے کفارے کے بارے میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ سزا ہے اس بات کی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا معظم ومقدس نام ایسی چیز میں کیوں استعمال کیا جو شرعاً ممنوع ہے۔ گویا اس نے اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین ہے‘ لہٰذا ان چیزوں میں نذر اور قسم کے معتبر نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ندر اور قسم کے باوجود وہ کام جائز نہیں ہوگا بلکہ ایسی نذر یا قسم کو توڑنا واجب ہے۔ اور اس غلطی کا وہ کفارہ ادا کرے۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ ایسی نذر یا قسم منعقد ہی نہیں ہوتی‘ لہٰذا کفارے کی ضرورت نہیں مگر یہ بات کمزور معلوم ہوتی ہے۔
(2) مباح چیزوں میں نذر ماننا جائز ہے‘ اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر ماننا جائز نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3823]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4616
بیچنے والے کے پاس غیر موجود چیز کے بیچنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4616]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس چیز کا بیچنا آدمی کے لیے جائز نہیں جس کا وہ مالک نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4616]
اردو حاشہ:
کسی کی چیز کوئی اور شخص نہیں بیچ سکتا۔ اگر بیچے تو ایسی بیع نہیں ہو گی، چیز اصل مالک کی رہے گی، لہٰذا خریدار کو چاہیے کہ خریدنے سے پہلے یقین حاصل کرلے کہ بیچنے والا شخص واقعتا مالک ہے، ورنہ خریدار کی رقم ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ وہ چیز تو اصل مالک ہی کو ملے گی۔ خریدار کو بیچنے والے سے رقم واپس مل گئی تو مل گئی ورنہ ضائع ہے کیونکہ اصل مالک سے رقم کا مطالبہ نہیں کیا جا سکے گا۔
کسی کی چیز کوئی اور شخص نہیں بیچ سکتا۔ اگر بیچے تو ایسی بیع نہیں ہو گی، چیز اصل مالک کی رہے گی، لہٰذا خریدار کو چاہیے کہ خریدنے سے پہلے یقین حاصل کرلے کہ بیچنے والا شخص واقعتا مالک ہے، ورنہ خریدار کی رقم ضائع ہو سکتی ہے کیونکہ وہ چیز تو اصل مالک ہی کو ملے گی۔ خریدار کو بیچنے والے سے رقم واپس مل گئی تو مل گئی ورنہ ضائع ہے کیونکہ اصل مالک سے رقم کا مطالبہ نہیں کیا جا سکے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4616]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3274
رشتہ داروں سے بے تعلقی کی قسم کھانے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3274]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو ابن آدم کے اختیار میں نہ ہو، اور نہ اللہ کی نافرمانی میں، اور نہ ناتا توڑنے میں، جو قسم کھائے اور پھر اسے بھلائی اس کے خلاف میں نظر آئے تو اس قسم کو چھوڑ دے (پوری نہ کرے) اور اس کو اختیار کرے جس میں بھلائی ہو کیونکہ اس قسم کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تمام حدیثیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ۱؎ اور چاہیئے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں مگر جو قسمیں بے سوچے کھائی جاتی ہیں اور ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3274]
فوائد ومسائل:
اس روایت میں (من خلف علی یمین)سے آخر تک کا حصہ ضعیف ہے۔
(علامہ البانی)اور جس کام پرقسم کھائی ہے۔
اسے ترک کرے تو کفارہ دینا راحج ہے۔
اس روایت میں (من خلف علی یمین)سے آخر تک کا حصہ ضعیف ہے۔
(علامہ البانی)اور جس کام پرقسم کھائی ہے۔
اسے ترک کرے تو کفارہ دینا راحج ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3274]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1181 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي