🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب تربص الرجم بالحبلى حتى تضع
باب: بچہ جننے کے بعد حاملہ کو رجم کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1435
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلِّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ اعْتَرَفَتْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالزِّنَا , فَقَالَتْ: إِنِّي حُبْلَى فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا , فَقَالَ: " أَحْسِنْ إِلَيْهَا , فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا , فَأَخْبِرْنِي ". فَفَعَلَ , فَأَمَرَ بِهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا , ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا , فَرُجِمَتْ , ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا , فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ , وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زنا کا اقرار کیا، اور عرض کیا: میں حاملہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب بچہ جنے تو مجھے خبر کرو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور پھر آپ نے حکم دیا، چنانچہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ۱؎ پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا ہے، پھر اس کی نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو سب کو شامل ہو جائے گی ۲؎، عمر! اس سے اچھی کوئی چیز تمہاری نظر میں ہے کہ اس نے اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن ابی داود/ الحدود 25 (4440)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10881)، و مسند احمد (4/420، 435، 437، 440)، سنن الدارمی/الحدود 18 (2371) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ عورتوں پر حد جاری کرتے وقت ان کے جسم کی ستر پوشی کا خیال رکھنا چاہیئے۔
۲؎: مسلمانوں کے دیگر اموات کی طرح جس پر حد جاری ہو اس پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، کیونکہ حد کا نفاذ صاحب حد کے لیے باعث کفارہ ہے، اس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے اس تائبہ کے توبہ کی کیا اہمیت ہے اسے واضح کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2555)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥معاوية بن عمرو البصري، أبو المهلب
Newمعاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← معاوية بن عمرو البصري
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1959
لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم وهل وجدت توبة أفضل من أن جادت بنفسها لله
صحيح مسلم
4433
امرأة من جهينة أتت نبي الله وهي حبلى من الزنى فقالت يا نبي الله أصبت حدا فأقمه علي فدعا نبي الله وليها فقال أحسن إليها فإذا وضعت فأتني بها ففعل فأمر بها نبي الله فشكت عليها ثيابها ثم أمر بها فرجمت
جامع الترمذي
1435
لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم وهل وجدت شيئا أفضل من أن جادت بنفسها لله
سنن أبي داود
4440
لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من أهل المدينة لوسعتهم
سنن ابن ماجه
2555
أمر بها فشكت عليها ثيابها ثم رجمها ثم صلى عليها
المعجم الصغير للطبراني
925
أتصلي عليها وقد زنت ورجمتها ؟ ! فقال النبى صلى الله عليه وآله وسلم : لقد تابت توبة لو تاب بها سبعون من أهل المدينة لقبل منهم ، هل وجدت أفضل أن جادت بنفسها ؟
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1435 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1435
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ عورتوں پر حد جاری کرتے وقت ان کے جسم کی سترپوشی کا خیال رکھنا چاہئے۔

2؎:
مسلمانوں کے دیگر اموات کی طرح جس پر حد جاری ہو اس پربھی صلاۃِ جنازہ پڑھی جائے گی،
کیونکہ حد کا نفاذ صاحب حد کے لیے باعث کفارہ ہے،
اس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے،
یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس تائبہ کے توبہ کی کیا اہمیت ہے اسے واضح کیا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1435]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1959
رجم کئے ہوئے شخص کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا: اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے، تو آپ نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ (کی شریعت کے پاس و لحاظ میں) اپنی جان (تک) قربان کر دی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1959]
1959۔ اردو حاشیہ:
ولی کے سپرد کر دیا کیونکہ حرام کاری سے پیدا ہونے والا بچہ تو بے قصور ہے، لہٰذا اسے ہلاک نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی حفاظت کی جائے گی، نیز یہ طریقہ زنا روکنے میں ممد ہو گا کیونکہ بچے کی صورت میں زانیوں کے لیے ابدی عار موجود رہے گی۔
بچہ جن لیا جننے کے فوراًً بعد رجم نہیں کیا گیا بلکہ دیگر روایات میں ہے جب بچہ اس کے دودھ سے بے نیاز ہو گیا اور روٹی کھانے لگا۔ قربان جائیں ایسے شفیق و کریم نبی پر۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
➌ شادی شدہ عورت اگر زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو بھی رجم کیا جائے گا جس طرح مرد کو رجم کیا جاتا ہے۔
➍ حاملہ عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا جب تک وضع حمل نہ ہو جائے اور بچہ دودھ کے علاوہ کچھ کھانے پینے لگ جائے۔
➎ کپڑے باندھ لینا مستحب ہے تاکہ بے پردگی نہ ہو۔
➏ قاضی یا حاکم کا رجم میں شرکت کرنا ضروری نہیں۔
➐ گناہ کیے ہوئے زیادہ عرصہ گزر جائے تو اس سے حد ساقط نہیں ہو جاتی بلکہ جب بھی عدالت میں کیس ثابت ہو گیا تو حد قائم کی جائے گی۔
➑ حد لگنے کے بعد آدمی کو اس گناہ کا طعنہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ حد گناہ کو ختم کر دیتی ہے، اب وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے وہ گناہ کیا ہی نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1959]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2555
زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2555]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کپڑے جسم پراچھی طرح سمیٹ کر باندھ دینے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کے جسم کی بے پردگی نہ ہو۔

(2)
جسے حد لگی ہو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2555]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1435 in Urdu