🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب ما جاء في النفل
باب: نفل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُنَفِّلُ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلُثَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَمَعْنِ بْنِ يَزِيدَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام (نفل) دیتے تھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے،
۲- یہ حدیث ابوسلام سے مروی ہے، انہوں نے ایک صحابی سے اس کی روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے،
۳- اس باب میں ابن عباس، حبیب بن مسلمہ، معن بن یزید، ابن عمر اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 35 (2852)، (تحفة الأشراف: 5091) (صحیح) (سند میں ”عبدالرحمن“ اور سلیمان اموی کے حافظہ میں کمزوری ہے، مگر حبیب بن مسلمہ رضی الله عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، دیکھئے: صحیح أبی داود رقم 2455)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ لڑائی سے واپس آنے کے بعد پھر واپس جہاد کے لیے جانا مشکل کام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامة
Newصدي بن عجلان الباهلي ← عبادة بن الصامت الأنصاري
صحابي
👤←👥ممطور الأسود الحبشي، أبو سلام
Newممطور الأسود الحبشي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة يرسل
👤←👥مكحول بن أبي مسلم الشامي، أبو مسلم، أبو عبد الله، أبو أيوب
Newمكحول بن أبي مسلم الشامي ← ممطور الأسود الحبشي
ثقة فقيه كثير الإرسال
👤←👥سليمان بن موسى القرشي، أبو الربيع، أبو أيوب، أبو هاشم
Newسليمان بن موسى القرشي ← مكحول بن أبي مسلم الشامي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الرحمن بن عياش المخزومي، أبو الحارث
Newعبد الرحمن بن عياش المخزومي ← سليمان بن موسى القرشي
صدوق له أوهام
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عياش المخزومي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1561
ينفل في البدأة الربع في القفول الثلث
سنن ابن ماجه
2852
نفل في البدأة الربع في الرجعة الثلث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1561
تنفل سيفه ذا الفقار يوم بدر وهو الذي رأى فيه الرؤيا يوم أحد
سنن ابن ماجه
2808
تنفل سيفه ذا الفقار يوم بدر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1561 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1561
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
کیونکہ لڑائی سے واپس آنے کے بعد پھرواپس جہاد کے لیے جانا مشکل کا م ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1561]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2852
مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2852]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر جنگ کے شروع میں کوئی دستہ بہادری کا خاص انجام دے مثلاً دشمن پر حملہ کرنے میں پہل کرے اور غنیمت حاصل کرے اور غنیمت حاصل کرے تو انھیں اس میں سے چوتھائی حصہ بطور انعام دیا جائے اور اگر کوئی دستہ اس قسم کا کارنامہ اس وقت انجام دے جب لشکر واپس ہو رہا ہو تو انھیں اس غنیمت میں سے تیسرا حصہ انعام دیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2852]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561M
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفَلِ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ فِي أَوَّلِ الْمَغْنَمِ وَآخِرِهِ، قَالَ إِسْحَاقُ ابْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفَّلَ إِذَا فَصَلَ بِالرُّبُعِ بَعْدَ الْخُمُسِ، وَإِذَا قَفَلَ بِالثُّلُثِ بَعْدَ الْخُمُسِ "، فَقَالَ: يُخْرِجُ الْخُمُسَ ثُمَّ يُنَفِّلُ مِمَّا بَقِيَ، وَلَا يُجَاوِزُ هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا الْحَدِيثُ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: النَّفَلُ مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ إِسْحَاق: هُوَ كَمَا قَالَ.
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن نفل میں اپنی تلوار ذوالفقار لے لی تھی، اسی کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو اس سند سے صرف ابن ابی زناد ہی کی روایت سے جانتے ہیں،
۲- خمس میں سے نفل دینے کی بابت اہل علم کا اختلاف ہے، مالک بن انس کہتے ہیں: مجھے کوئی روایت نہیں پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام غزوات میں نفل دیا ہے، آپ نے بعض غزوات میں نفل دیا ہے، لیکن یہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے کہ شروع میں دے، یا آخر میں دے،
۳- اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت خمس نکالنے کے بعد بطور نفل ربع دیا ہے اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ثلث دیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ خمس نکالتے تھے پھر جو باقی بچتا اسی سے نفل دیتے تھے، آپ کبھی ثلث سے تجاوز نہیں کرتے تھے ۳؎، یہ حدیث مسیب کے قول کے موافق ہے کہ نفل خمس سے دیا جائے گا، اسحاق بن راہویہ نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1561M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 18 (2808)، (تحفة الأشراف: 5827) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خواب دیکھا تھا وہ یہ تھا کہ آپ نے اپنی تلوار ذوالفقار کو حرکت دی تو وہ درمیان سے ٹوٹ گئی پھر دوبارہ حرکت دی تو پہلے سے بہتر حالت میں آ گئی۔
۳؎: مجاہد کو مال غنیمت میں سے مقرر حصہ کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے، اور یہی «نفل» کہلاتا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ زائد حصہ مال غنیمت میں سے ہو گا یا خمس میں سے یا خمس الخمس میں سے؟ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اصل غنیمت میں سے دیا جائے گا، اس اضافی حصہ کی مقدار کی بابت سب کا اتفاق ہے کہ سربراہ و امام یہ حصہ غنیمت کے تہائی حصہ سے زائد دینے کا مجاز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
إمام ثقة ثبت
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
وكان فقيها، صدوق تغير حفظه لما قدم بغداد
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← عبد الرحمن بن أبي الزناد القرشي
ثقة
Sunan at-Tirmidhi Hadith 1561 in Urdu