علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء أن مفتاح الصلاة الطهور
باب: وضو نماز کی کنجی ہے۔
حدیث نمبر: 3
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَهَنَّادٌ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ: هُوَ صَدُوقٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , وَالْحُمَيْدِيُّ يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ , وَأَبِي سَعِيدٍ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ہے، اور اس کا تحریمہ صرف «اللہ اکبر» کہنا ہے ۱؎ اور نماز میں جو چیزیں حرام تھیں وہ «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے ہی سے حلال ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے،
۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں،
۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3]
۱- اس باب میں یہ حدیث سب سے صحیح اور حسن ہے،
۲- عبداللہ بن محمد بن عقیل صدوق ہیں ۳؎، بعض اہل علم نے ان کے حافظہ کے تعلق سے ان پر کلام کیا ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن حنبل، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ اور حمیدی: عبداللہ بن محمد بن عقیل کی روایت سے حجت پکڑتے تھے، اور وہ مقارب الحدیث ۴؎ ہیں،
۳- اس باب میں جابر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 31 (61) سنن ابن ماجہ/الطہارة3 (275) (تحفة الأشراف: 10265) مسند احمد (1/123، 129) سنن الدارمی/ الطہارة 22 (714) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ اکبر ہی کہہ کر نماز میں داخل ہونے سے وہ سارے کام حرام ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے نماز میں حرام کیا ہے، «اللہ اکبر» کہہ کر نماز میں داخل ہونا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا دائمی عمل تھا، اس لیے کسی دوسرے عربی لفظ یا عجمی لفظ سے نماز کی ابتداء صحیح نہیں ہے۔ ۲؎: یعنی صرف «السلام علیکم ورحمة اللہ» ہی کے ذریعہ نماز سے نکلا جا سکتا ہے۔ دوسرے کسی اور لفظ یا عمل کے ذریعہ نہیں۔ ۳؎: یہ کلمات تعدیل میں سے ہے اور جمہور کے نزدیک یہ کلمہ راوی کے تعدیل کے چوتھے مرتبے پر دلالت کرتا ہے جس میں راوی کی عدالت تو واضح ہوتی ہے لیکن ضبط واضح نہیں ہوتا، امام بخاری رحمہ اللہ جب کسی کو صدوق کہتے ہیں تو اس سے مراد ثقہ ہوتا ہے جو تعدیل کا تیسرا مرتبہ ہے۔ ۴؎: مقارب الحدیث حفظ و تعدیل کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے، لفظ مقارب دو طرح پڑھا جاتا ہے: راء پر زبر کے ساتھ، اور راء کے زیر کے ساتھ، زبر کے ساتھ مقارَب الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی حدیث اس کی حدیث سے قریب ہے، اور زیر کے ساتھ مقارِب الحدیث سے یہ مراد ہے کہ اس کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے، یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکر روایت نہیں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ صیغہ ولید بن رباح اور عبداللہ بن محمد بن عقیل کے بارے میں استعمال کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (275)
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشکوۃ المصابیح: 312
وللحدیث شاھد موقوف عند البیھقي (2/ 16) وسندہ صحیح ولہ حکم الرفع فالحدیث بہ حسن
"
مشکوۃ المصابیح: 312
وللحدیث شاھد موقوف عند البیھقي (2/ 16) وسندہ صحیح ولہ حکم الرفع فالحدیث بہ حسن
"
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3
| مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم |
سنن أبي داود |
61
| مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم |
سنن الدارمي |
710
| مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم |
سنن ابن ماجه |
275
| مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم |
سنن أبي داود |
618
| مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 3 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی ”اللہُ أکْبَرْ“ ہی کہہ کر نماز میں داخل ہونے سے وہ سارے کام حرام ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے نماز میں حرام کیا ہے،
”اللہُ أکْبَرْ“ کہہ کر نماز میں داخل ہونا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل تھا،
اس لیے کسی دوسرے عربی لفظ یا عجمی لفظ سے نماز کی ابتداء صحیح نہیں ہے۔
2؎:
یعنی صرف ”السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللہِ“ ہی کے ذریعہ نماز سے نکلا جاسکتا ہے۔
دوسرے کسی اور لفظ یا عمل کے ذریعہ نہیں۔
3؎:
یہ کلمات تعدیل میں سے ہے اور جمہور کے نزدیک یہ کلمہ راوی کے تعدیل کے چوتھے مرتبے پر دلالت کرتا ہے جس میں راوی کی عدالت تو واضح ہوتی ہے لیکن ضبط واضح نہیں ہوتا،
امام بخاری رحمہ اللہ جب کسی کو صدوق کہتے ہیں تو اس سے مراد ثقہ ہوتا ہے جو تعدیل کا تیسرا مرتبہ ہے۔
4؎:
مقارب الحدیث حفظ و تعدیل کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے،
لفظ مقارب دو طرح پڑھا جاتا ہے:
راء پر زبر کے ساتھ،
اور راء کے زیر کے ساتھ،
زبر کے ساتھ مقارَب الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی حدیث اس کی حدیث سے قریب ہے،
اور زیر کے ساتھ مقارِب الحدیث سے یہ مراد ہے کہ اس کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے،
یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکر روایت نہیں ہے،
امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ صیغہ ولید بن رباح اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل کے بارے میں استعمال کیا ہے۔
1؎:
یعنی ”اللہُ أکْبَرْ“ ہی کہہ کر نماز میں داخل ہونے سے وہ سارے کام حرام ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے نماز میں حرام کیا ہے،
”اللہُ أکْبَرْ“ کہہ کر نماز میں داخل ہونا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی عمل تھا،
اس لیے کسی دوسرے عربی لفظ یا عجمی لفظ سے نماز کی ابتداء صحیح نہیں ہے۔
2؎:
یعنی صرف ”السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَةُ اللہِ“ ہی کے ذریعہ نماز سے نکلا جاسکتا ہے۔
دوسرے کسی اور لفظ یا عمل کے ذریعہ نہیں۔
3؎:
یہ کلمات تعدیل میں سے ہے اور جمہور کے نزدیک یہ کلمہ راوی کے تعدیل کے چوتھے مرتبے پر دلالت کرتا ہے جس میں راوی کی عدالت تو واضح ہوتی ہے لیکن ضبط واضح نہیں ہوتا،
امام بخاری رحمہ اللہ جب کسی کو صدوق کہتے ہیں تو اس سے مراد ثقہ ہوتا ہے جو تعدیل کا تیسرا مرتبہ ہے۔
4؎:
مقارب الحدیث حفظ و تعدیل کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے،
لفظ مقارب دو طرح پڑھا جاتا ہے:
راء پر زبر کے ساتھ،
اور راء کے زیر کے ساتھ،
زبر کے ساتھ مقارَب الحدیث کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی حدیث اس کی حدیث سے قریب ہے،
اور زیر کے ساتھ مقارِب الحدیث سے یہ مراد ہے کہ اس کی حدیث دیگر ثقہ راویوں کی حدیث سے قریب تر ہے،
یعنی اس میں کوئی شاذ یا منکر روایت نہیں ہے،
امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ صیغہ ولید بن رباح اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل کے بارے میں استعمال کیا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 61
اللہ اکبر کہنے ہی سے نماز شروع ہوتی ہے
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 60]
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کی کنجی طہارت، اس کی تحریم تکبیر کہنا، اور تحلیل سلام پھیرنا ہے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 60]
فوائد و مسائل:
➊ نماز کے لیے وضو لازمی اور شرط ہے۔ اثنائے نماز میں اگر وضو ٹوٹ جائے تو نماز چھوڑ کر وضو کیا جائے۔
➋ اللہ اکبر کہنے ہی سے نماز شروع ہوتی ہے اور اس دوران میں باتیں اور دوسرے اعمال حرام ہو جاتے ہیں، اس لیے اسے تکبیر تحریمہ کہا جاتا ہے اور اس کا اختتام سلام پر ہوتا ہے اور اس طرح یہ پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے۔
➊ نماز کے لیے وضو لازمی اور شرط ہے۔ اثنائے نماز میں اگر وضو ٹوٹ جائے تو نماز چھوڑ کر وضو کیا جائے۔
➋ اللہ اکبر کہنے ہی سے نماز شروع ہوتی ہے اور اس دوران میں باتیں اور دوسرے اعمال حرام ہو جاتے ہیں، اس لیے اسے تکبیر تحریمہ کہا جاتا ہے اور اس کا اختتام سلام پر ہوتا ہے اور اس طرح یہ پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 61]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 618
آخری رکعت کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد امام کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کلید (کنجی) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم (سلام) ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 618]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کلید (کنجی) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم (سلام) ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 618]
618۔ اردو حاشیہ:
تکبیر یعنی «الله اكبر» کہنے سے عام مشاغل حرام ہو جاتے ہیں اور «السلام عليكم» کہنے سے یہ مشاغل حلال ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کی ابتداء لفظ «الله اكبر» سے ہے اور اس سے نکلنے کے لیے «السلام عليكم ورحمةالله» مشروع ہے نہ کوئی اور کلمات یا اعمال۔
تکبیر یعنی «الله اكبر» کہنے سے عام مشاغل حرام ہو جاتے ہیں اور «السلام عليكم» کہنے سے یہ مشاغل حلال ہو جاتے ہیں۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کی ابتداء لفظ «الله اكبر» سے ہے اور اس سے نکلنے کے لیے «السلام عليكم ورحمةالله» مشروع ہے نہ کوئی اور کلمات یا اعمال۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 618]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث275
نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت (وضو) ہے، اور (دوران نماز ممنوع چیزوں کو) حرام کر دینے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے، اور (نماز سے باہر) امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 275]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی طہارت (وضو) ہے، اور (دوران نماز ممنوع چیزوں کو) حرام کر دینے والی چیز تکبیر (تحریمہ) ہے، اور (نماز سے باہر) امور کو حلال کر دینے والی چیز سلام ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 275]
اردو حاشہ:
(1)
جس طرح کنجی کے بغیر تالا نہیں کھلتا اسی طرح حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہوئے بغیر نماز میں داخل ہونا ممکن نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔
(2)
تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنے سے نماز کے منافی تمام امور ممنوع ہوجاتے ہیں اس لیے نماز میں داخل ہوتے ہی وقت کہی جانے والی تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔
اس لحاظ سے نماز میں اس کی وہی حیثیت ہے جو حج میں احرام باندھنے کی ہے۔
جس سے حاجی پر کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔
(3)
تکبیر تحریمہ سے لگنے والی پابندیاں اس وقت اٹھتی ہیں جب نمازی سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتا ہے اس لیے اسے تحلیل کہا گیا ہے، یعنی جو چیزیں نماز میں حرام اور ممنوع تھیں اب وہ حلال اور جائز ہو گئیں۔
(4)
نماز میں داخل ہونے کا طریقہ تکبیر ہی ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کلمے سے یا کسی دوسری زبان میں اللہ کا نام لیکر انسان نماز میں داخل نہیں ہوسکتا بعض علماء کا یہ موقف درست نہیں کہ اللہ کا نام کسی طرح سے بھی لے لیا جائے نماز شرع ہوجاتی ہے۔
خواہ ”اللہ اعظم“ کہا جائے یا ”اللہ کبیر“ وغیرہ۔
(5)
بعض علماء کی رائے ہے کہ نمازی نماز کے باقی اعمال پورے کرنے کے بعد سلام کی بجائے کوئی ایسا عمل کرلے جونماز کے منافی ہوتو نماز مکمل ہوجاتی ہے۔
جبکہ اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے سلام۔
اس کے متعلق احادیث (حدیث: 914 تا 917)
آگے آئیں گی۔
(1)
جس طرح کنجی کے بغیر تالا نہیں کھلتا اسی طرح حدث اصغر اور حدث اکبر سے پاک ہوئے بغیر نماز میں داخل ہونا ممکن نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔
(2)
تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنے سے نماز کے منافی تمام امور ممنوع ہوجاتے ہیں اس لیے نماز میں داخل ہوتے ہی وقت کہی جانے والی تکبیر کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔
اس لحاظ سے نماز میں اس کی وہی حیثیت ہے جو حج میں احرام باندھنے کی ہے۔
جس سے حاجی پر کچھ پابندیاں لگ جاتی ہیں۔
(3)
تکبیر تحریمہ سے لگنے والی پابندیاں اس وقت اٹھتی ہیں جب نمازی سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتا ہے اس لیے اسے تحلیل کہا گیا ہے، یعنی جو چیزیں نماز میں حرام اور ممنوع تھیں اب وہ حلال اور جائز ہو گئیں۔
(4)
نماز میں داخل ہونے کا طریقہ تکبیر ہی ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کلمے سے یا کسی دوسری زبان میں اللہ کا نام لیکر انسان نماز میں داخل نہیں ہوسکتا بعض علماء کا یہ موقف درست نہیں کہ اللہ کا نام کسی طرح سے بھی لے لیا جائے نماز شرع ہوجاتی ہے۔
خواہ ”اللہ اعظم“ کہا جائے یا ”اللہ کبیر“ وغیرہ۔
(5)
بعض علماء کی رائے ہے کہ نمازی نماز کے باقی اعمال پورے کرنے کے بعد سلام کی بجائے کوئی ایسا عمل کرلے جونماز کے منافی ہوتو نماز مکمل ہوجاتی ہے۔
جبکہ اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے سلام۔
اس کے متعلق احادیث (حدیث: 914 تا 917)
آگے آئیں گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 275]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 618
اور سلام پھیرنا واجب ہے۔
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «..... وتحليلها التسليم» ”صرف نماز کو سلام کے ساتھ ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔“ [حسن: صحيح أبو داود: 577، كتاب الصلاة: باب الإمام يحدث بعد ما يرفع رأسه من آخر ركعة، أبو داود: 618، ترمذي: 3، ابن ماجة: 275]
امام شوکانیؒ رقمطراز ہیں کہ «تحليلها» میں اضافت حصر کا تقاضا کرتی ہے گویا اس کا معنی یہ ہے «لا تحليل لها غيره» یعنی سلام کے علاوہ کسی چیز سے نماز کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ [نيل الأوطار: 142/2]
یہ سلام کے وجوب کی واضح دلیل ہے۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر مداومت اختیار فرمائی جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ «وكان يختم الصلاة بالتسليم» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے تھے۔“ [مسلم: 498، كتاب الصلاة: باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتتح به........، ابن ماجة: 296/1، دارمي: 310/1]
اس مسئلے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ، احمدؒ، جمہور صحابہ و تابعین) ایک طرف سلام واجب ہے اور دوسری طرف سنت ہے۔
(مالکؒ) محض ایک سلام ہی مسنون ہے۔
(احناف) نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام واجب نہیں ہے بلکہ اگر نماز کے منافی کسی عمل یا حدث وغیرہ سے بھی نماز ختم کر دی جائے تو جائز ہے البتہ سلام پھیرنا سنت بہرحال ہے۔ [المجموع: 462/3، الأم: 234/1، رد المختار: 162/2، الهداية: 53/1، المبسوط: 30/1]
(شوکانیؒ) حدیث مسیئ الصلاۃ کی تاریخ کے بعد اگر وجوب ثابت ہو جائے (تو اسے قبول کیا جائے گا)۔ [السيل الجرار: 220/1 - 221]
سلام کو سنت کہنے والوں کے دلائل:
➊ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام نماز مکمل کر کے بیٹھے «فاأحدث قبل أن يسلم فقد تمت صلاحه» ”اور سلام پھیرنے سے پہلے بے وضوء ہو جائے تو اس کی نماز پوری ہو گئی۔“ [ضعيف: ضعيف أبو داود: 122، ضعيف الجامع: 635، أبو داود: 617، كتاب الصلاة: باب الإمام يحدث بعد ما يرفع رأسه، ترمذي: 408، شرح معاني الآثار: 274/1، دار قطني: 379/1، بيهقي: 17232، شرح السنة: 329/2، اس حديث كي سند ميں عبدالرحمن بن زياد بن انعم لا فريقي راوي هے كه جسے بعض اهل علم نے ضعيف كها هے۔ نيل الأوطار: 143/2، امام نوويؒ رقمطراز هيں كه حفاظ كا اتفاق هے كه يه راوي ضعيف هے۔ المجموع: 462/3]
➋ مسیئ الصلاۃ کی حدیث میں سلام کا ذکر نہیں اس لیے یہ واجب نہیں۔ اور
«تاخير البيان عن وقت الحاجة لايحجوز .»
اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ مسیئ الصلاۃ کی حدیث اس کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ (صحیح حدیث میں موجود) زیادتی ہے جو کہ مقبول ہوتی ہے۔ [سبل السلام: 455/1]
(راجح) وجوب کا قول ہی راجح ہے۔ «والله اعلم»
(ابن تیمیہؒ) جو شخص سلام سے پہلے بے وضوء ہو گیا اس کی نماز باطل ہے خواہ فرض ہو یا فل۔ [مجموع الفتاوى: 613/22]
(نوویؒ) صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں میں سے جمہور علماء وجوب کے قائل ہیں۔ [شرح مسلم: 90/3]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) وجوب کے قائل ہیں۔ [تحفة الأحوذى: 44/1]
(امیر صنعانیؒ) اس کے قائل ہیں۔ [سبل السلام: 455/1]
(ابن حزمؒ) سلام فرض ہے اور اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔ [المحلى بالآثار: 304/2]
(البانیؒ) اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ [التعليقات الرضية على الروضة الندية: 275/1، صفة صلاة النبى: ص/188]
❀ واضح رہے کہ تین سلاموں کے بارے میں کوئی قابل اعتبار چیز وارد نہیں ہے۔ [السيل الجرار: 221/1]
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «..... وتحليلها التسليم» ”صرف نماز کو سلام کے ساتھ ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔“ [حسن: صحيح أبو داود: 577، كتاب الصلاة: باب الإمام يحدث بعد ما يرفع رأسه من آخر ركعة، أبو داود: 618، ترمذي: 3، ابن ماجة: 275]
امام شوکانیؒ رقمطراز ہیں کہ «تحليلها» میں اضافت حصر کا تقاضا کرتی ہے گویا اس کا معنی یہ ہے «لا تحليل لها غيره» یعنی سلام کے علاوہ کسی چیز سے نماز کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ [نيل الأوطار: 142/2]
یہ سلام کے وجوب کی واضح دلیل ہے۔
➋ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر مداومت اختیار فرمائی جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ «وكان يختم الصلاة بالتسليم» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے تھے۔“ [مسلم: 498، كتاب الصلاة: باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتتح به........، ابن ماجة: 296/1، دارمي: 310/1]
اس مسئلے میں علماء نے اختلاف کیا ہے۔
(شافعیؒ، احمدؒ، جمہور صحابہ و تابعین) ایک طرف سلام واجب ہے اور دوسری طرف سنت ہے۔
(مالکؒ) محض ایک سلام ہی مسنون ہے۔
(احناف) نماز سے خارج ہونے کے لیے سلام واجب نہیں ہے بلکہ اگر نماز کے منافی کسی عمل یا حدث وغیرہ سے بھی نماز ختم کر دی جائے تو جائز ہے البتہ سلام پھیرنا سنت بہرحال ہے۔ [المجموع: 462/3، الأم: 234/1، رد المختار: 162/2، الهداية: 53/1، المبسوط: 30/1]
(شوکانیؒ) حدیث مسیئ الصلاۃ کی تاریخ کے بعد اگر وجوب ثابت ہو جائے (تو اسے قبول کیا جائے گا)۔ [السيل الجرار: 220/1 - 221]
سلام کو سنت کہنے والوں کے دلائل:
➊ حضرت ابن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام نماز مکمل کر کے بیٹھے «فاأحدث قبل أن يسلم فقد تمت صلاحه» ”اور سلام پھیرنے سے پہلے بے وضوء ہو جائے تو اس کی نماز پوری ہو گئی۔“ [ضعيف: ضعيف أبو داود: 122، ضعيف الجامع: 635، أبو داود: 617، كتاب الصلاة: باب الإمام يحدث بعد ما يرفع رأسه، ترمذي: 408، شرح معاني الآثار: 274/1، دار قطني: 379/1، بيهقي: 17232، شرح السنة: 329/2، اس حديث كي سند ميں عبدالرحمن بن زياد بن انعم لا فريقي راوي هے كه جسے بعض اهل علم نے ضعيف كها هے۔ نيل الأوطار: 143/2، امام نوويؒ رقمطراز هيں كه حفاظ كا اتفاق هے كه يه راوي ضعيف هے۔ المجموع: 462/3]
➋ مسیئ الصلاۃ کی حدیث میں سلام کا ذکر نہیں اس لیے یہ واجب نہیں۔ اور
«تاخير البيان عن وقت الحاجة لايحجوز .»
اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ مسیئ الصلاۃ کی حدیث اس کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ (صحیح حدیث میں موجود) زیادتی ہے جو کہ مقبول ہوتی ہے۔ [سبل السلام: 455/1]
(راجح) وجوب کا قول ہی راجح ہے۔ «والله اعلم»
(ابن تیمیہؒ) جو شخص سلام سے پہلے بے وضوء ہو گیا اس کی نماز باطل ہے خواہ فرض ہو یا فل۔ [مجموع الفتاوى: 613/22]
(نوویؒ) صحابہ و تابعین اور ان کے بعد آنے والوں میں سے جمہور علماء وجوب کے قائل ہیں۔ [شرح مسلم: 90/3]
(عبد الرحمن مبارکپوریؒ) وجوب کے قائل ہیں۔ [تحفة الأحوذى: 44/1]
(امیر صنعانیؒ) اس کے قائل ہیں۔ [سبل السلام: 455/1]
(ابن حزمؒ) سلام فرض ہے اور اس کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی۔ [المحلى بالآثار: 304/2]
(البانیؒ) اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ [التعليقات الرضية على الروضة الندية: 275/1، صفة صلاة النبى: ص/188]
❀ واضح رہے کہ تین سلاموں کے بارے میں کوئی قابل اعتبار چیز وارد نہیں ہے۔ [السيل الجرار: 221/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 397]
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظ الله، فوائد و مسائل، ابوداود 618
تکبیر کہنا واجب ہے
«وَلَا يَجِبُ مِنْ أَذْكَارِهَا إِلَّا التَّكْبِيرُ»
اس کے اذکار میں سے صرف تکبیر کہنا ہی واجب ہے۔
......
۱؎ . ➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ «وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ» [المدثر: 3] ”اپنے رب کی کبریائی بیان کرو۔“
➋ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
«مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم»
”نماز کی کنجی وضوء ہے اسکی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام ہے۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 577، كتاب الصلاة: باب الإمام يحدث بعد ما يرفع رأسه .....، أبو داود: 618، ترمذي: 3، ابن ماجة: 275، أحمد: 129/1، دارمي: 175/1]
➌ مسیئ الصلاۃ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تکبیر کہنے کا بھی حکم دیا۔
[بخاري: 6251، كتاب الاستئذان: باب من رد فقال عليك السلام، مسلم: 397]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی انسان کی نماز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضوء نہ کرے ... اور تکبیر نہ کہے۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 723، كتاب الصلاة: باب صلاة من لا يقيم صلبه فى الركوع والسجود، أبو داود: 857]
➎ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے ساتھ نماز شروع کرتے تھے۔“
[مسلم: 498، كتاب الصلاة: باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتتح به.......]
ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ ابتدائے نماز میں صرف تکبیر کہنا ہی واجب ہے۔
(جمہور) اسی کے قائل ہیں۔
(ابوحنیفہؒ) ہر ایسے لفظ کے ساتھ نماز کی ابتدا کی جاسکتی ہے جسے تعظیم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاََ اللہ اجل یا اعظم یا الرحمٰن اکبر۔
(ابو یوسفؒ، محمدؒ) یہ الفاظ جائز نہیں ہیں البتہ اللہ اکبر یا واللہ اکبر یا واللہ الکبیر کہنا درست ہے۔
[شرح المهذب: 252/3، الحاوى للماوردي: 93/2، روضة الطالبين: 336/1، المبسوط: 35/1، شرح فتح القدير: 246/1، قدوري: ص/39-40]
(راجح) صرف اللہ اکبر ہی کہا جائے گا جیسا کہ احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔
«وَلَا يَجِبُ مِنْ أَذْكَارِهَا إِلَّا التَّكْبِيرُ»
اس کے اذکار میں سے صرف تکبیر کہنا ہی واجب ہے۔
......
۱؎ . ➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ «وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ» [المدثر: 3] ”اپنے رب کی کبریائی بیان کرو۔“
➋ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
«مفتاح الصلاة الطهور وتحريمها التكبير وتحليلها التسليم»
”نماز کی کنجی وضوء ہے اسکی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام ہے۔“
[حسن: صحيح أبو داود: 577، كتاب الصلاة: باب الإمام يحدث بعد ما يرفع رأسه .....، أبو داود: 618، ترمذي: 3، ابن ماجة: 275، أحمد: 129/1، دارمي: 175/1]
➌ مسیئ الصلاۃ کی حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تکبیر کہنے کا بھی حکم دیا۔
[بخاري: 6251، كتاب الاستئذان: باب من رد فقال عليك السلام، مسلم: 397]
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی انسان کی نماز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضوء نہ کرے ... اور تکبیر نہ کہے۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 723، كتاب الصلاة: باب صلاة من لا يقيم صلبه فى الركوع والسجود، أبو داود: 857]
➎ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے ساتھ نماز شروع کرتے تھے۔“
[مسلم: 498، كتاب الصلاة: باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتتح به.......]
ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ ابتدائے نماز میں صرف تکبیر کہنا ہی واجب ہے۔
(جمہور) اسی کے قائل ہیں۔
(ابوحنیفہؒ) ہر ایسے لفظ کے ساتھ نماز کی ابتدا کی جاسکتی ہے جسے تعظیم کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاََ اللہ اجل یا اعظم یا الرحمٰن اکبر۔
(ابو یوسفؒ، محمدؒ) یہ الفاظ جائز نہیں ہیں البتہ اللہ اکبر یا واللہ اکبر یا واللہ الکبیر کہنا درست ہے۔
[شرح المهذب: 252/3، الحاوى للماوردي: 93/2، روضة الطالبين: 336/1، المبسوط: 35/1، شرح فتح القدير: 246/1، قدوري: ص/39-40]
(راجح) صرف اللہ اکبر ہی کہا جائے گا جیسا کہ احادیث سے واضح طور پر ثابت ہے۔
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 382]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 3 in Urdu
محمد بن الحنفية الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي