🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ يَقْصُرُ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَوْضِعِهِ:
باب: جب آدمی سفر کی نیت سے اپنی بستی سے نکل جائے تو قصر کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1089
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے، محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1089]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت ادا کیں اور ذوالحلیفہ پہنچ کر دوگانہ شروع کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1089]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 495
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ بِالْبَطْحَاءِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا عون بن ابی حجیفہ سے، کہا میں نے اپنے باپ (وہب بن عبداللہ) سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بطحاء میں نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ (ڈنڈا جس کے نیچے پھل لگا ہوا ہو) گاڑ دیا گیا تھا۔ (چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسافر تھے اس لیے) ظہر کی دو رکعت اور عصر کی دو رکعت ادا کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 495]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی بطحاء میں لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے نیزہ گاڑ دیا گیا۔ آپ نے (سفر کی وجہ سے) ظہر کی دو رکعت ادا کیں، اسی طرح عصر کی بھی دو رکعات پڑھیں۔ آپ کے سامنے سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 495]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ فَصَلَّى بِالْبَطْحَاءِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَنَصَبَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةً وَتَوَضَّأَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے حکم بن عیینہ سے، انہوں نے ابوحجیفہ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس دوپہر کے وقت تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عنزہ گاڑ دیا گیا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو اپنے بدن پر لگا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 501]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں ظہر اور عصر کی دو رکعات پڑھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ نماز اپنے سامنے ایک چھوٹا نیزہ کھڑا کر لیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو اپنے منہ پر ملنے لگے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1001
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ:" سُئِلَ أَنَسُ، أَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: أَوَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ؟ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے محمد بن سیرین نے، انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد تھوڑے دنوں تک۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1001]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ پھر پوچھا گیا: آیا آپ نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: رکوع کے بعد تھوڑے دنوں کے لیے ایسا کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1001]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَقَامَ كَمَا هُوَ ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهِيَ أَدْنَى مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا طَوِيلًا ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ جس دن سورج میں خسوف (گرہن) لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تکبیر کہی پھر دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے۔ لیکن اس کے بعد ایک طویل رکوع کیا۔ رکوع سے سر اٹھایا تو کہا «سمع الله لمن حمده‏» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی کی طرح کھڑے ہو گئے اور دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے لیکن اس مرتبہ کی قرآت پہلے سے کچھ کم تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے اور بہت دیر تک سجدہ میں رہے پھر دوسری رکعت میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ سورج اور چاند کا «كسوف» (گرہن) اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے اور ان میں «خسوف» (گرہن) کسی کی موت و زندگی پر نہیں لگتا۔ لیکن جب تم سے دیکھو تو فوراً نماز کے لیے لپکو۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1047]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بتایا: جس دن سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہا اور لمبی قراءت فرمائی، پھر طویل رکوع کیا، اس کے بعد اپنا سر مبارک اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی سن لی کہا اور ایسے کھڑے ہو گئے جیسے (رکوع سے) پہلے کھڑے تھے، پھر لمبی قراءت فرمائی جو پہلی قراءت سے کم تھی۔ پھر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت کو بھی اسی طرح ادا کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور شمس و قمر کے گرہن کے متعلق فرمایا: یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے۔ تم جب انہیں اس حالت میں دیکھو تو خوف زدہ ہو کر نماز کی طرف توجہ کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ"، وَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَارِثِ، وَشُعْبَةُ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهَا عِبَادَهُ، وَتَابَعَهُ مُوسَى، عَنْ مُبَارَكٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَتَابَعَهُ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یونس بن عبید نے، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ عبدالوارث، شعبہ، خالد بن عبداللہ اور حماد بن سلمہ ان سب حافظوں نے یونس سے یہ جملہ کہ اللہ تعالیٰ ان کو گرہن کر کے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے بیان نہیں کیا اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو موسیٰ نے مبارک بن فضالہ سے، انہوں نے امام حسن بصری سے روایت کیا۔ اس میں یوں ہے کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ ان کو گرہن کر کے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو اشعث بن عبداللہ نے بھی امام حسن بصری سے روایت کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1048]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورج اور چاند اللہ کی آیات میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ دونوں کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں: عبدالوارث، شعبہ، خالد بن عبداللہ اور حماد بن سلمہ نے یونس سے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اشعث نے حسن رحمہ اللہ سے مذکورہ الفاظ بیان نہ کرنے میں یونس کی متابعت کی ہے۔ موسیٰ نے مبارک کے واسطے سے مذکورہ الفاظ بیان کرنے میں یونس کی متابعت کی ہے۔ وہ (مبارک) حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: مجھے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1080
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:"أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا، ان سے عاصم احول اور حصین سلمی نے، ان سے عکرمہ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر) انیس دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے۔ اس لیے انیس دن کے سفر میں ہم بھی قصر کرتے رہتے ہیں اور اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پوری نماز پڑھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1080]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انیس دن پڑاؤ کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصر کرتے رہے، لہٰذا ہم بھی دورانِ سفر انیس روز پڑاؤ کریں تو قصر کریں گے اور اگر زیادہ عرصہ اقامت کریں تو پوری پڑھیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قُلْتُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا".
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعت پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1081]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکل کر مدینہ سے مکہ تک کا سفر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سفر کے دوران میں مدینہ واپسی تک نماز دو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔ راویِ حدیث کہتے ہیں: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ لوگ مکہ مکرمہ کچھ عرصہ ٹھہرے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، وہاں ہم نے دس دن قیام کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتِ:" الصَّلَاةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ، قَالَ: تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری (چار رکعت) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1090]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پہلے پہل (سفر و حضر کی) نماز دو رکعتیں فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز تو برقرار رہی، البتہ صلاۃِ حضر میں اضافہ کر کے اسے مکمل کر دیا گیا۔ امام زہری رحمہ اللہ نے حضرت عروہ رحمہ اللہ سے سوال کیا: ایسے حالات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دورانِ سفر میں نماز کو پورا کیوں پڑھتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے وہی تاویل کی ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُ، قَالَ:" سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ، وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان کوفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن یزید نے بیان کیا کہ حفص بن عاصم بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1101]
حفص بن عاصم سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں تھے کہ فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سفر رہا ہوں، میں نے آپ کو کبھی دوران سفر میں نفل پڑھتے نہیں دیکھا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی میں بہترین نمونہ ہے﴾ [سورة الأحزاب: 21] ۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ:" صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ"، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ كَذَلِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عیسیٰ بن حفص بن عاصم نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو رکعت (فرض) سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1102]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا ہوں، آپ دوران سفر دو رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔ اس طرح حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بھی دو رکعت سے زیادہ نماز ادا نہیں کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1102]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1546
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعتیں پڑھیں لیکن ذوالحلیفہ میں دو رکعت ادا فرمائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات وہیں گزاری۔ صبح کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک پکاری۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1546]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں (ظہر کی) چار رکعات اور ذوالحلیفہ میں (عصر کی) دو رکعات ادا کیں، پھر صبح تک ذوالحلیفہ میں قیام فرمایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے اور وہ سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1546]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1547
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بالمدينة أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی لیکن ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعت۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ رات صبح تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ہی گزار دی۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1547]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں نماز ظہر کی چار رکعتیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعتیں ادا کیں۔ اس کے بعد میرے خیال کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تک ذوالحلیفہ میں ٹھہرے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1547]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ , قَالَ:" وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بالمدينة كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مُخْتَصَرًا".
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے مختصر حدیث بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1712]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ایک طویل حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر فرمائے اور مدینہ طیبہ میں دو چتکبرے بڑے سینگوں والے مینڈھے بطور قربانی ذبح کیے۔ اس حدیث کو مختصراً ذکر کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1714
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَبَاتَ بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَجَعَلَ يُهَلِّلُ وَيُسَبِّحُ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى الْبَيْدَاءِ لَبَّى بِهِمَا جَمِيعًا، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا، وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ".
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات۔ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں گزاری، پھر جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر تہلیل و تسبیح کرنے لگے۔ جب بیداء پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ساتھ تلبیہ کہا، جب مکہ پہنچے (اور عمرہ ادا کر لیا) تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ حلال ہو جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1714]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں ظہر کی نماز چار رکعت ادا کی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی اور وہیں رات بسر کی۔ جب صبح ہوئی تو اپنی سواری پر سوار ہوئے اور تہلیل و تسبیح کرنے لگے۔ پھر جب مقام بیداء پر تشریف فرما ہوئے تو حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا۔ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول دیں۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر فرمائے جبکہ مدینہ طیبہ میں (عید کے موقع پر) دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کیے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1714]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1715
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات پڑھی تھیں۔ ایوب نے ایک شخص کے واسطہ سے بروایت انس رضی اللہ عنہ کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں رات گزاری۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز پڑھی اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے، پھر جب مقام بیداء پہنچے تو عمرہ اور حج دونوں کا نام لے کر لبیک پکارا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1715]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت ادا کیں۔ راوی حدیث اسماعیل بن علیّہ نے ایوب سے، انہوں نے ایک آدمی سے، اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر ذوالحلیفہ میں رہے حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔ پھر صبح کی نماز پڑھ کر اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ جب آپ کی سواری مقام بیداء پر پہنچی تو حج اور عمرہ دونوں کا لبیک کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1715]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2951
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی پھر عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی اور میں نے سنا کہ صحابہ حج اور عمرہ دونوں کا لبیک ایک ساتھ پکار رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 2951]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں ظہر کی چار رکعتیں ادا کیں اور ذوالحلیفہ پہنچ کر عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ بآواز بلند کہتے ہوئے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 2951]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2986
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 2986]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3566
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ أَبِي جُحَيْفَةَ ذَكَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" دُفِعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ كَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلَالٌ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَأْخُذُونَ مِنْهُ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ سَاقَيْهِ فَرَكَزَ الْعَنَزَةَ، ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ".
ہم سے حسن بن صباح بزار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن مغول نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عون بن ابی جحیفہ سے سنا، وہ اپنے والد (ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ) سے نقل کرتے تھے کہ میں سفر کے ارادہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں (محصب میں) خیمہ کے اندر تشریف رکھتے تھے۔ کڑی دوپہر کا وقت تھا۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ نے باہر نکل کر نماز کے لیے اذان دی اور اندر آ گئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے لینے کے لیے ٹوٹ پڑے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے ایک نیزہ نکالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، گویا آپ کی پنڈلیوں کی چمک اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے (سترہ کے لیے) نیزہ گاڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعت قصر نماز پڑھائی، گدھے اور عورتیں آپ کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 3566]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جبکہ آپ ابطح نامی وادی میں ایک خیمے کے اندر تشریف فرما تھے۔ دوپہر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ باہر آئے اور نماز کے لیے اذان کہی۔ پھر اندر چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے بچا پانی لے کر برآمد ہوئے تو لوگ اس پانی پر ٹوٹ پڑے اور اس پانی کو حاصل کرنے لگے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ پھر اندر گئے اور ایک نیزہ باہر نکال لائے۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی باہر تشریف لائے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی چمک کو اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نیزہ گاڑ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھائیں اور آپ کے آگے سے گدھے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔ (جس سے نماز میں کوئی خلل نہ پڑا)۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3935
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا وَتُرِكَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْأُولَى". تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (پہلے) نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو وہ فرض رکعات چار رکعات ہو گئیں۔ البتہ سفر کی حالت میں نماز اپنی حالت میں باقی رکھی گئی۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے معمر سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 3935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: آغاز میں نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو فرض نماز چار رکعت کر دی گئی، البتہ نمازِ سفر کو سابقہ حالت میں باقی رکھا گیا۔ معمر سے روایت کرنے میں عبدالرزاق نے یزید بن زریع کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَقَمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا نَقْصُرُ الصَّلَاةَ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ میں) دس دن ٹھہرے تھے اور اس مدت میں ہم نماز قصر کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 4297]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دس دن اقامت کی، اس دوران میں ہم نماز قصر کرتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4298
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا ہم کو عاصم نے خبر دی ‘ انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں انیس دن قیام فرمایا تھا اور اس مدت میں نماز دو رکعتیں (قصر) پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 4298]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں انیس روز قیام فرمایا۔ آپ دو، دو رکعت نماز (قصر) پڑھتے رہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 4298]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4300
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ" وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ وَجْهَهُ عَامَ الْفَتْحِ".
اور لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا مجھ کو عبداللہ بن ثعلبی بن صعیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن ان کے چہرے پر (شفقت کی راہ سے) ہاتھ پھیرا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 4300]
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن (از راہِ شفقت) ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 4300]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5406
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَكَّةَ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) دوسری سند (حدیث دیکھیں 5407) [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 5406]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 5406]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1046
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَكَبَّرَ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ: فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ"، وَكَانَ يُحَدِّثُ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يُحَدِّثُ يَوْمَ خَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: إِنَّ أَخَاكَ يَوْمَ خَسَفَتْ بِالْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ مِثْلَ الصُّبْحِ، قَالَ: أَجَلْ لِأَنَّهُ أَخْطَأَ السُّنَّةَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عروہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا، اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور بہت دیر قرآن مجید پڑھتے رہے پھر تکبیر کہی اور بہت لمبا رکوع کیا پھر «سمع الله لمن حمده‏» کہہ کر کھڑے ہو گئے اور سجدہ نہیں کیا (رکوع سے اٹھنے کے بعد) پھر بہت دیر تک قرآن مجید پڑھتے رہے۔ لیکن پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے گئے اور دیر تک رکوع میں رہے، یہ رکوع بھی پہلے رکوع سے کم تھا۔ اب «سمع الله لمن حمده‏» اور «ربنا ولك الحمد‏» کہا پھر سجدہ میں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا (ان دونوں رکعتوں میں) پورے چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو چکا تھا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ فرمایا اور پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں ان میں گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا لیکن جب تم گرہن دیکھا کرو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔ زہری نے کہا کہ کثیر بن عباس اپنے بھائی عبداللہ بن عباس سے روایت کرتے تھے وہ سورج گرہن کا قصہ اس طرح بیان کرتے تھے جیسے عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا۔ زہری نے کہا میں نے عروہ سے کہا تمہارے بھائی عبداللہ بن زبیر نے جس دن مدینہ میں سورج گرہن ہوا صبح کی نماز کی طرح دو رکعت پڑھی اور کچھ زیادہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہاں مگر وہ سنت کے طریق سے چوک گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1046]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سورج بے نور ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی، پھر لمبی قراءت فرمائی۔ اس کے بعد «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر ایک طویل رکوع کیا۔ پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہا تو کھڑے رہے اور سجدہ نہ کیا بلکہ طویل قراءت کی جو پہلی قراءت سے قدرے کم تھی۔ پھر «اَللّٰهُ أَکْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہہ کر طویل رکوع کیا جو پہلے رکوع سے قدرے کم تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ» اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں کہا اور سجدے میں چلے گئے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز مکمل کی۔ نماز ختم ہونے سے پہلے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا: یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں بایں حالت دیکھو تو اللہ سے التجا کرتے ہوئے نماز کی طرف آ جاؤ۔ کثیر بن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی سورج گرہن کے متعلق اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تھی۔ میں نے عروہ رحمہ اللہ سے کہا: جس دن مدینہ طیبہ میں سورج کو گرہن لگا تھا تو آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نماز کسوف میں نماز فجر کی طرح دو سے زیادہ رکوع نہیں کیے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں، لیکن انہوں نے سنت کے خلاف کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تقصير الصلاة/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں