صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب ما ذكر فى الحجر الأسود:
باب: حجر اسود کا بیان۔
حدیث نمبر: 1597
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں عابس بن ربیعہ نے کہ عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا ”میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1597]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجرِ اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے کر فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا تیرے بس میں نہیں، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1605
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قال: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال لِلرُّكْنِ:" أَمَا وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَلَمَكَ مَا اسْتَلَمْتُكَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ قَالَ: فَمَا لَنَا وَلِلرَّمَلِ إِنَّمَا كُنَّا رَاءَيْنَا بِهِ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: شَيْءٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نُحِبُّ أَنْ نَتْرُكَهُ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو خطاب کر کے فرمایا ”بخدا مجھے خوب معلوم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے جو نہ کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بوسہ نہ دیتا۔“ اس کے بعد آپ نے بوسہ دیا۔ پھر فرمایا ”اور اب ہمیں رمل کی بھی کیا ضرورت ہے۔ ہم نے اس کے ذریعہ مشرکوں کو اپنی قوت دکھائی تھی تو اللہ نے ان کو تباہ کر دیا۔“ پھر فرمایا ”جو عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اسے اب چھوڑنا بھی ہم پسند نہیں کرتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1605]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حجر اسود کو مخاطب کر کے فرمایا: میں یقیناً جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، کسی کو نقصان یا نفع نہیں دے سکتا، اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ آپ نے تجھے بوسہ دیا تھا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا۔ اس کے بعد کہا: اب ہمیں رمل کی کیا ضرورت ہے؟ یہ تو ہم نے مشرکین کو اپنی طاقت دکھانے کے لیے کیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا ہے، پھر کہنے لگے کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اسے ترک کرنا پسند نہیں کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1610
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ:" لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ".
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں ورقاء نے خبر دی، انہیں زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور پھر فرمایا کہ ”اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1610]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1610]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قال:" سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ، أَرَأَيْتَ إِنْ غُلِبْتُ، قَالَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے زبیر بن عربی نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کے بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کو بوسہ دیتے دیکھا ہے۔“ اس پر اس شخص نے کہا اگر ہجوم ہو جائے اور میں عاجز ہو جاؤں تو کیا کروں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”اس اگر وگر کو یمن میں جا کر رکھو میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس کو بوسہ دیتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1611]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے ہاتھ لگاتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ اس شخص کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا: اچھا بتائیے اگر مجمع زیادہ ہو اور لوگ مجھ پر غالب آ جائیں تو میں کیا کروں؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس قسم کی اگر مگر یمن میں رہنے دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے بوسہ دیتے ہوئے اور چومتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة