🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
106. باب من أشعر وقلد بذي الحليفة ثم أحرم:
باب: جس نے ذو الحلیفہ میں اشعار کیا اور قلادہ پہنایا پھر احرام باندھا!۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1694
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے تقریباً اپنے ایک ہزار ساتھیوں کے ساتھ (حج کے لیے نکلے) جب ذی الحلیفہ پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا پھر عمرہ کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1694]
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ حدیبیہ میں ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانیوں کو «قَلَادَة» قلادہ پہنایا اور ان کا «إِشْعَار» اشعار کیا، پھر عمرے کا احرام باندھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1811
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ".
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1811]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جس سال آپ عمرے سے روک دیے گئے تھے) پہلے قربانی کی، پھر سر منڈوایا اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ سورة الممتحنة آية 10.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مکہ سے بھاگ کر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن (مکہ سے نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا «{‏ إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن‏ }‏ إلى قوله ‏ {‏ ولا هم يحلون لهن‏ }‏‏.‏» ‏‏‏‏ جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 2712]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو نے صلح حدیبیہ کے دن صلح نامہ لکھوایا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو آدمی بھی آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو، آپ کو اسے ہمارے ہاں واپس کرنا ہوگا، آپ اس کے اور ہمارے درمیان راستہ خالی کر دیں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور وہ اس کے باعث غصے سے بھر گئے لیکن سہیل اس شرط کے بغیر صلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کر لی اور اسی روز ابو جندل رضی اللہ عنہ کو اس کے والد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ پھر مردوں میں سے جو بھی آتا آپ اسے اس مدت کے دوران میں واپس کرتے رہے اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آتا۔ اب کچھ اہل ایمان خواتین بھی ہجرت کر کے آئیں، ان عورتوں میں عقبہ بن ابو معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہوں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ ان کے اہل خانہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن آپ نے اسے ان کی طرف واپس نہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق حکم نازل کیا تھا: ﴿جب اہل ایمان خواتین تمہاری طرف ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو (ان کی جانچ پڑتال کرو۔) اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ہی ان کے لیے حلال ہیں﴾ [سورة الممتحنة: 10] ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 2712]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2731
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ، قَالَا:‏‏‏‏"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةٌ، فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ، فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ حَلْ، حَلْ، فَأَلَحَّتْ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ، قَالَ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبِّثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ، وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ، وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ وَمَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرْ، فَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي وَلَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ بُدَيْلٌ:‏‏‏‏ سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا، فَقَالَ سُفَهَاؤُهُمْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، أَلَسْتُمْ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظَ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ لَكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ، اقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِيهِ، قَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَأَتَاهُ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ، فَقَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ أَمْرَ قَوْمِكَ، هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى وُجُوهًا وَإِنِّي لَأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏أَبُو بَكْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ، قَالَ:‏‏‏‏ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا تَكَلَّمَ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ غُدَرُ، أَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا الْإِسْلَامَ فَأَقْبَلُ، وَأَمَّا الْمَالَ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ، وَكِسْرَى، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا، وَاللَّهِ إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا فُلَانٌ، وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ، فَابْعَثُوهَا لَهُ، فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ يُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا مِكْرَزٌ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو". قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَهُلَ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ. قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَجَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ:‏‏‏‏ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَاتِبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ أَمَّا الرَّحْمَنُ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا نَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ:‏‏‏‏ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ، أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَةً، وَلَكِنْ ذَلِكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَكَتَبَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ، وَعَلَى:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، قَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ هَذَا يَا مُحَمَّدُ، أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ إِذًا لَمْ أُصَالِحْكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَأَجِزْهُ لِي، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ، قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَافْعَلْ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِكْرَزٌ:‏‏‏‏ بَلْ قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ، قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ:‏‏‏‏ أَيْ مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ وَهُوَ نَاصِرِي، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَوَلَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالًا، قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ قُومُوا فَانْحَرُوا، ثُمَّ احْلِقُوا، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ، ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ، فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ بُدْنَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سورة الممتحنة آية 10، فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ، لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ:‏‏‏‏ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ، فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ، قَالَ:‏‏‏‏ وَيَنْفَلِتُ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّأْمِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ بِاللَّهِ وَالرَّحِمِ لَمَّا أَرْسَلَ، فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ حَتَّى بَلَغَ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ سورة الفتح آية 24 - 26، وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَحَالُوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْبَيْتِ. وَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ مَعَرَّةٌ الْعُرُّ الْجَرَبُ تَزَيَّلُوا تَمَيَّزُوا، وَحَمَيْتُ الْقَوْمَ مَنَعْتُهُمْ حِمَايَةً، وَأَحْمَيْتُ الْحِمَى جَعَلْتُهُ حِمًى لَا يُدْخَلُ، وَأَحْمَيْتُ الْحَدِيدَ، وَأَحْمَيْتُ الرَّجُلَ إِذَا أَغْضَبْتَهُ إِحْمَاءً.
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان بن حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی حدیث کی تصدیق کرتا ہے، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (معجزانہ طور پر) فرمایا: خالد بن ولید مقام غمیم میں قریش کے سواروں کے ہمراہ موجود ہے اور یہ قریش کا ہراول دستہ ہے، لہٰذا تم دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو۔ تو اللہ کی قسم! خالد کو ان کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی یہاں تک کہ جب لشکر کا غبار ان تک پہنچا تو وہ فوراً قریش کو مطلع کرنے کے لیے وہاں سے دوڑا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترا جاتا تھا تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ اس پر لوگوں نے اسے چلانے کے لیے «حَلْ حَلْ» چل چل کہا مگر اس نے کوئی حرکت نہ کی۔ لوگ کہنے لگے: قصواء بیٹھ گئی، قصواء اڑ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء نہیں بیٹھی اور نہ یوں اڑنا ہی اس کی عادت ہے، مگر جس (اللہ) نے ہاتھیوں (کے لشکر) کو (مکہ میں داخل ہونے سے) روکا تھا اس نے اس (قصواء کو بھی) روک دیا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر کفارِ قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں اس کو ضرور منظور کروں گا۔ پھر آپ نے اس اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ نے ان (اہل مکہ) کی طرف سے رخ پھیرا اور حدیبیہ کے انتہائی (آخری) حصے میں ایک ندی پر پڑاؤ کیا جس میں بہت کم پانی تھا۔ لوگ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لینے لگے اور چند لمحات میں اس کو صاف کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ نے ایک تیر اپنی ترکش سے نکالا اور ارشاد فرمایا کہ اس کو اس پانی میں گاڑ دیں۔ (پھر کیا تھا) اللہ کی قسم! پانی جوش مارنے لگا اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا اور ان کی واپسی تک یہی حال رہا۔ اسی حالت میں بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لیے ہوئے آ پہنچا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ اور با اعتماد تہامہ کے لوگوں میں سے تھا۔ اس نے کہا: میں نے کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ حدیبیہ کے عمیق چشموں پر فروکش ہیں اور ان کے ساتھ دودھ والی اونٹنیاں ہیں اور وہ لوگ آپ سے جنگ کرنا اور بیت اللہ سے آپ کو روکنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے نہیں بلکہ صرف عمرہ کرنے آئے ہیں اور بے شک قریش کو لڑائی نے کمزور کر دیا ہے اور ان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا اگر وہ چاہیں تو میں ان سے ایک مدت طے کر لیتا ہوں اور وہ اس مدت میں میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل نہ ہوں (اگر اس دوران میں کوئی مجھ پر غالب آجائے تو یہ ان کی مراد ہے اور) اگر میں غالب ہو جاؤں اور وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں اور لوگ داخل ہو گئے ہیں ورنہ وہ مزید چند روز آرام حاصل کر لیں گے۔ اگر وہ یہ بات نہ مانیں تو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو اس دین پر ان سے لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ میری گردن کٹ جائے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ضرور اپنے اس دین کو جاری کرے گا۔ اس پر بدیل نے کہا: میں آپ کا پیغام ان کو پہنچا دیتا ہوں، چنانچہ وہ چلا گیا اور قریش کے پاس جا کر کہنے لگا: ہم یہاں اس شخص کے پاس آ رہے ہیں اور ہم نے ان کو کچھ کہتے ہوئے سنا ہے، اگر تم چاہو تو تمہیں سناؤں۔ اس پر کچھ بے وقوف لوگوں نے کہا: ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں ان کی کسی بات کی خبر دو، مگر ان میں سے عقل مند لوگوں نے کہا: اچھا بتلاؤ تم کیا بات سن کر آئے ہو؟ بدیل نے کہا: میں نے ان کو ایسا ایسا کہتے سنا ہے، پھر جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ اس نے بیان کر دیا۔ اتنے میں عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میری قوم کے لوگو! کیا تم اولاد کی طرح (میرے خیر خواہ) اور میں تم پر باپ کی طرح شفقت نہیں کرتا؟ انہوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم مجھ پر کوئی الزام لگاتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے اہل عکاظ کو تمہاری مدد کے لیے بلایا مگر انہوں نے جب میرا کہا نہ مانا تو میں اپنے بال بچے، تعلق دار اور پیروکاروں کو لے کر تمہارے پاس آ گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ عروہ نے کہا: اس شخص، یعنی بدیل نے تمہاری خیر خواہی کی بات کی ہے، اس کو منظور کر لو اور اجازت دو کہ میں اس کے پاس جاؤں۔ سب لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے باتیں کرنے لگا۔ آپ نے اس سے بھی وہی گفتگو کی جو بدیل سے کی تھی۔ عروہ یہ سن کر کہنے لگا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اگر تم اپنی قوم کی جڑ بالکل کاٹ دو گے تو (کیا فائدہ ہو گا؟) کیا تم نے اپنے سے پہلے کسی عرب کو سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا استیصال کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوئی، یعنی تم مغلوب ہو گئے تو اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھیوں کے منہ دیکھتا ہوں کہ یہ مختلف لوگ جنہیں بھاگنے کی عادت ہے، تمہیں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: جا اور لات کی شرمگاہ پر منہ مار! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہارا ایک احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا ابھی تک بدلہ نہیں دے سکا تو میں تمہیں سخت جواب دیتا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر عروہ باتیں کرنے لگا اور جب بات کرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو پکڑتا۔ اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس کھڑے تھے جن کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھا، لہٰذا جب عروہ اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کے ہاتھ پر تلوار کا نچلا حصہ مارتے اور کہتے کہ अपना ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے دور رکھ۔ یہ سن کر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہنے لگا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اے دغاباز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ ہوا یوں کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کافروں کی کسی قوم کے ساتھ گئے تھے، پھر انہیں قتل کر کے ان کا مال لوٹا اور چلے آئے، اس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن جو مال تو لایا ہے، اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔ اس کے بعد عروہ گوشہ چشم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھنے لگا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اللہ کی قسم! اس نے دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر ہی پڑتا تھا اور وہ اسے اپنے چہرے اور بدن پر ملتا تھا۔ اور جب آپ انہیں کوئی حکم دیتے تو وہ فوراً اس کی تعمیل کرتے تھے۔ اور جب آپ وضو کرتے تو وہ آپ کے وضو کا گرا ہوا پانی لینے پر جھپٹ پڑتے تھے اور ہر شخص اسے لینے کی خواہش کرتا۔ وہ لوگ کبھی بات کرتے تو آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھتے تھے۔ یہ حال دیکھ کر عروہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر گیا اور ان سے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اور قیصر و کسریٰ، نیز نجاشی کے دربار بھی دیکھ آیا ہوں مگر میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جس طرح محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ اس کو اپنے چہرے پر مل لیتا ہے۔ اور جب وہ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے لیے لڑتے مرتے ہیں اور جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے۔ بے شک انہوں نے تمہیں ایک اچھی بات کی پیش کش کی ہے، تم اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: اب مجھے اس کے پاس جانے کی اجازت دو، لوگوں نے کہا: اچھا اب تم ان کے پاس جاؤ۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فلاں شخص ہے اور یہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں، لہٰذا تم قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ چنانچہ قربانی اس کے سامنے پیش کی گئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ حال دیکھا تو کہنے لگا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا زیب نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گیا اور کہنے لگا: میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ ان کے گلے میں ہار پڑے ہوئے ہیں اور ان کے کوہان زخمی ہیں، میں تو ایسے لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب خیال نہیں کرتا۔ پھر ان میں سے ایک اور شخص جس کا نام مکرز بن حفص تھا کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مجھے اجازت دو کہ میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں، لوگوں نے کہا: اچھا تم بھی جاؤ۔ جب وہ مسلمانوں کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مکرز ہے اور یہ بد کردار آدمی ہے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔ ابھی وہ آپ سے گفتگو ہی کر رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ جب سہیل بن عمرو آیا تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمہارا کام آسان ہو گیا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کی دستاویز تحریر کریں، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلا کر اس سے فرمایا: لکھو: «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» اس پر سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمن کون ہے؟ آپ اس طرح لکھوائیں: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» جیسا کہ آپ پہلے لکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے کہا: ہم تو «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ہی لکھوائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» ہی لکھ دو۔ پھر آپ نے فرمایا: لکھو کہ یہ وہ تحریر ہے جس کی بنیاد پر محمد رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے صلح کی۔ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم یقین رکھتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ ہی کرتے، لہٰذا محمد بن عبد اللہ لکھوائیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم میری تکذیب ہی کرو۔ اچھا محمد بن عبد اللہ ہی لکھو... امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درج ذیل فرمان کی وجہ سے کیا: اگر کفارِ قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں ضرور اس کو منظور کروں گا... نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: لیکن اس شرط پر کہ تم ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل نہیں ہو گے تاکہ ہم کعبہ کا طواف کر لیں۔ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ عرب باتیں کریں گے کہ ہم دباؤ میں آگئے ہیں، البتہ آئندہ سال یہ بات ہو جائے گی، چنانچہ آپ نے یہی لکھوا دیا۔ پھر سہیل نے کہا: یہ شرط بھی ہے کہ ہماری طرف سے جو شخص تمہاری طرف آئے، اگرچہ وہ تمہارے دین پر ہو، اس کو آپ نے ہماری طرف واپس کرنا ہو گا۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! وہ کس لیے مشرکوں کے حوالے کیا جائے جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے؟ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما بیڑیاں پہنے ہوئے آہستہ آہستہ مکہ کی نشیبی طرف سے آتے ہوئے معلوم ہوئے یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں پہنچ گئے۔ سہیل نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! سب سے پہلی بات جس پر ہم صلح کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس کو مجھے واپس کر دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تو صلح نامہ پورا لکھا بھی نہیں گیا۔ سہیل نے کہا: تو پھر اللہ کی قسم! میں تم سے کسی بات پر صلح نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم اس کی مجھے اجازت دے دو۔ سہیل نے کہا: میں تمہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم مجھے اس کی اجازت دے دو۔ اس نے کہا: میں نہیں دوں گا۔ مکرز بولا: اچھا ہم آپ کی خاطر اس کی اجازت دیتے ہیں۔ (مگر اس کی بات نہیں مانی گئی۔) بالآخر حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہما بول اٹھے: اے مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کر دیا جاؤں گا، حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے کیا کیا مصیبتیں اٹھائی ہیں؟ درحقیقت اسلام کی راہ میں اسے سخت تکلیف دی گئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا آپ اللہ کے سچے پیغمبر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں، ایسے ہی ہے۔ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا، وہ میرا مدد گار ہے۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر کیا میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال (بیت اللہ) جائیں گے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تم (ایک وقت) بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابوبکر! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر ہم دین کے متعلق یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں، اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اللہ ان کا مدد گار ہے، لہٰذا وہ جو حکم دیں اس کی تعمیل کرو اور ان کی رکاب کو تھام لو کیونکہ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ ہم سے یہ بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، کہا تھا مگر کیا یہ بھی کہا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بیت اللہ پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اس (بے ادبی اور گستاخی کی تلافی کے لیے) بہت سے نیک عمل کیے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ لکھا جا چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہا: اٹھو اور قربانی کے جانور ذبح کرو، نیز سر کے بال منڈاؤ۔ راوی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! یہ سن کر کوئی بھی نہ اٹھا، پھر آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا، جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا تو آپ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا جو لوگوں سے آپ کو پیش آیا تھا۔ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ یہ بات چاہتے ہیں تو باہر تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی کے ساتھ کلام نہ فرمائیں بلکہ آپ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر کے سر مونڈنے والے کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر مونڈ دے۔ چنانچہ آپ باہر تشریف لائے اور کسی سے گفتگو نہ کی حتیٰ کہ آپ نے تمام کام کر لیے، آپ نے قربانی کے جانور ذبح کیے اور سر مونڈنے والے کو بلایا جس نے آپ کا سر مونڈا، چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے یہ دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے قربانی کے جانور ذبح کیے، پھر ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ غم کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کر دیں گے۔ اس کے بعد چند مسلمان خواتین آپ کے ہاں حاضرِ خدمت ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ ۖ ... وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] (ترجمہ: مسلمانو! جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان لو... کافر عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو)۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے اس دن اپنی دو مشرک عورتوں کو طلاق دے دی جو ان کے نکاح میں تھیں، ان میں ایک کے ساتھ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ابوبصیر نامی ایک شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آیا جو قریشی تھا اور کفارِ مکہ نے اس کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہلوا بھیجا کہ جو عہد آپ نے ہم سے کیا ہے اس کا خیال کریں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کے حوالے کر دیا اور وہ دونوں اسے لے کر ذوالحلیفہ پہنچے اور وہاں اتر کر کھجوریں کھانے لگے تو حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ایک سے کہا: اللہ کی قسم! تیری تلوار بہت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اس نے سونت کر کہا: بے شک عمدہ ہے، میں اسے کئی دفعہ آزما چکا ہوں۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دکھاؤ میں بھی تو دیکھوں کیسی اچھی ہے؟ چنانچہ وہ تلوار اس نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے اسی تلوار سے وار کر کے اسے ٹھنڈا کر دیا۔ دوسرا شخص بھاگتا ہوا مدینہ آیا اور دوڑتا ہوا مسجد میں گھس آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: یہ کچھ خوفزدہ ہے۔ پھر جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے اور میں بھی نہیں بچوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی آپہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کر دیا ہے، آپ نے مجھے کفار کو واپس کر دیا تھا مگر اللہ نے مجھے نجات دی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں کے لیے خرابی ہو! یہ تو لڑائی کی آگ ہے، اگر کوئی اس کا مددگار ہوتا تو ضرور بھڑک اٹھتی۔ جب حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو وہ سمجھ گئے کہ آپ اس کو پھر ان (کفار) کے حوالے کریں گے، لہٰذا وہ سیدھے نکل کر سمندر کے کنارے جا پہنچے۔ دوسری طرف سے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہما بھی مکہ سے بھاگ کر اس سے مل گئے۔ اس طرح جو شخص بھی قریش کا مسلمان ہو کر آتا وہ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے مل جاتا تھا یہاں تک کہ وہاں ایک جماعت وجود میں آگئی، پھر اللہ کی قسم! وہ قریش کے جس قافلے کی بابت سنتے کہ وہ شام کی جانب جا رہا ہے اس کی گھات میں رہتے، اس کے آدمیوں کو قتل کر کے ان کا ساز و سامان لوٹ لیتے، پھر آخر کار قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا اور آپ کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیا کہ ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجیں کہ وہ ایذا رسانی سے باز آجائے اور اب سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اس کو امن ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی بابت پیغام بھیجا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] (ترجمہ: وہی اللہ جس نے عین مکہ میں تمہیں ان پر فتح دی اور ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے جبکہ اس سے پہلے تمہیں ان پر غالب کر چکا تھا)۔ ﴿إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ [سورة الفتح: 26] (ترجمہ: جب کفار نے اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت کی نخوت ٹھان لی)۔ اور جاہلانہ نخوت یہ تھی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو نہ مانا اور «بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھنے دیا، نیز مسلمانوں اور کعبہ کے درمیان حائل ہوئے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا: «مَعَرَّة» «عَرَّة» سے مشتق ہے، اس کے معنی خارش کے ہیں اور «تَزَيَّلُوا» کے معنی ہیں: وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ (اور «حَمِيَّة» کا لفظ) «حَمَيْتُ الْقَوْمَ» سے ہے، اس کے معنی ہیں: میں نے لوگوں کو شر سے بچایا، اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ میں نے چراگاہ کی حفاظت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4178
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ , وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يَزِيدُ , أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ , قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ , وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ , وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ , قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا , وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ , وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ , فَقَالَ:" أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ , أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنْ الْبَيْتِ؟ فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ , فَتَوَجَّهْ لَهُ , فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ , قَالَ:" امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوئی ہے) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا۔ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے بیان کیا ‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر جب آپ ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا اور اس پر نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابی کو جاسوسی کے لیے بھیجا اور خود بھی سفر جاری رکھا۔ جب آپ غدیر الاشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس بھی خبریں لے کر آ گئے۔ جنہوں نے بتایا کہ قریش نے آپ کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور بہت سے قبائل کو بلایا ہے۔ وہ آپ سے جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو کیا تمہارے خیال میں یہ مناسب ہو گا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلے پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک ہاری ہوئی قوم جان کر چھوڑ دیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ تو صرف بیت اللہ کے عمرہ کے لیے نکلے ہیں نہ آپ کا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا ہے اور نہ کسی سے لڑائی کا۔ اس لیے آپ بیت اللہ تشریف لے چلیں۔ اگر ہمیں پھر بھی کوئی بیت اللہ تک جانے سے روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4178]
حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے کچھ زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنائے اور ان کا شعار کیا۔ وہاں سے آپ نے عمرے کا احرام باندھا، پھر قبیلہ خزاعہ سے ایک جاسوس بھیجا اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے۔ جب غدیر اشطاط پہنچے تو آپ کے جاسوس نے اطلاع دی کہ قریش نے آپ (کے مقابلے) کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف قبائل کو اکٹھا کر رکھا ہے اور وہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں، نیز آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تم مناسب سمجھتے ہو کہ میں ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دوں جو ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ لوگ (اپنے اہل و عیال کو بچانے کی خاطر) ہمارے پاس (لڑائی کرنے) آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو بچا لیا ہے۔ اور اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کے بال بچوں پر حملہ کر کے انہیں جنگ کی حالت میں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ تو بیت اللہ کا ارادہ کر کے روانہ ہوئے ہیں، نہ تو ہم کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہمارا کسی سے لڑنے کا پروگرام ہی ہے، اس لیے آپ سیدھے بیت اللہ تشریف لے جائیں، جو شخص اس سلسلے میں رکاوٹ بنے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ کا نام لے کر اپنا سفر جاری رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4181
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ , سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ,وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ , فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا:" أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ , وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا , وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ , وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ , فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا فَتَكَلَّمُوا فِيهِ , فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا , وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ , فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے چچا محمد بن مسلم بن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ دونوں راویوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا تو عروہ نے مجھے اس میں جو کچھ خبر دی تھی ‘ اس میں یہ بھی تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور (قریش کا نمائندہ) سہیل بن عمرو حدیبیہ میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح کی دستاویز لکھ رہے تھے اور اس میں سہیل نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ ہمارا اگر کوئی آدمی آپ کے یہاں پناہ لے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو جائے تو آپ کو اسے ہمارے حوالے کرنا ہی ہو گا تاکہ ہم اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ سہیل اس شرط پر اڑ گیا اور کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کر لیں اور مسلمان اس شرط پر کسی طرح راضی نہ تھے۔ مجبوراً انہوں نے اس پر گفتگو کی (کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مسلمان کو کافر کے سپرد کر دیں) سہیل نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا تو صلح بھی نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی تسلیم کر لی اور ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کر دیا (جو اسی وقت مکہ سے فرار ہو کر بیڑی کو گھسیٹتے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے تھے) (شرط کے مطابق مدت صلح میں مکہ سے فرار ہو کر) جو بھی آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کر دیتے ‘ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا۔ اس مدت میں بعض مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے مکہ سے آئیں۔ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط بھی ان میں سے ہیں جو اس مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں ‘ وہ اس وقت نوجوان تھیں ‘ ان کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کر دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں وہ آیت نازل کی جو شرط کے مناسب تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4181]
امام ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم سے سنا، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ حدیبیہ کا قصہ بیان کرتے ہیں (امام زہری نے کہا:) عروہ نے مجھے ان دونوں سے جو خبر دی اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح نامہ لکھنے کا ارادہ کیا تو سہیل بن عمرو کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ آپ کے پاس ہم سے جو شخص بھی آئے گا، اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ کو اسے ہمارے پاس واپس کرنا ہو گا۔ آپ ہمارے اور اس کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کریں گے۔ سہیل، اسی شرط پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرنے میں اڑا رہا لیکن مسلمان اس شرط پر صلح کرنے سے بہت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اسے بہت گراں خیال کرتے تھے اور اس بارے میں گفتگو کر رہے تھے جبکہ سہیل کو اسی شرط پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرنے پر اصرار تھا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی صلح نامہ میں لکھ دی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن سہیل کے بیٹے حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کے پاس لوٹا دیا، بلکہ اس کے بعد جو بھی مرد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے معینہ مدت میں واپس کرتے رہے۔ اس دوران میں کچھ اہل ایمان خواتین (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں۔ عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی ان مہاجر خواتین میں سے تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آئی تھیں اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ اس کے اہل خانہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مہاجر خواتین کے متعلق آیات نازل فرمائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4181]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2711
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلَّا ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ وَهِيَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَلا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ سورة الممتحنة آية 10.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ جب سہیل بن عمرو نے (حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں (فرار ہو کر) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا (معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (مکہ سے بھاگ کر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے حوالے کر دیا۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن (مکہ سے نکل کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تھیں، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ (سورۃ الممتحنہ میں) ارشاد فرما چکا تھا «{‏ إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن الله أعلم بإيمانهن‏ }‏ إلى قوله ‏ {‏ ولا هم يحلون لهن‏ }‏‏.‏» ‏‏‏‏ جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 2711]
حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کرتے ہیں کہ جب سہیل بن عمرو نے صلح حدیبیہ کے دن صلح نامہ لکھوایا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شرط رکھی کہ ہمارا جو آدمی بھی آپ کے پاس آئے گا، خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو، آپ کو اسے ہمارے ہاں واپس کرنا ہوگا، آپ اس کے ہمارے درمیان راستہ خالی کر دیں گے۔ مسلمانوں نے اس شرط کو ناپسند کیا اور وہ اس کے باعث غصے سے بھر گئے، لیکن سہیل اس شرط کے بغیر صلح کرنے پر تیار نہ ہوا۔ آخر کار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح کر لی اور اسی روز ابو جندل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا، پھر مردوں میں سے جو بھی آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس مدت کے دوران میں واپس کرتے رہے اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آتا۔ اب کچھ اہل ایمان خواتین بھی ہجرت کر کے آئیں، ان عورتوں میں عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی تھیں جنہوں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ ان کے اہل خانہ آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کی طرف واپس نہ کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق حکم نازل کیا تھا: ﴿جب اہل ایمان خواتین تمہاری طرف ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو (ان کی جانچ پڑتال کرو)۔ اللہ تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہیں ان کے ایمان کا یقین ہو جائے تو پھر انہیں کفار کی طرف واپس نہ کرو۔ ایسی عورتیں کافروں کے لیے حلال نہیں اور نہ کافر ہی ان کے لیے حلال ہیں۔﴾ [سورة الممتحنة: 10] [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 2711]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2732
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ يُصَدِّقُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدِيثَ صَاحِبِهِ، قَالَا:‏‏‏‏"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ بِالْغَمِيمِ فِي خَيْلٍ لِقُرَيْشٍ طَلِيعَةٌ، فَخُذُوا ذَاتَ الْيَمِينِ، فَوَاللَّهِ مَا شَعَرَ بِهِمْ خَالِدٌ حَتَّى إِذَا هُمْ بِقَتَرَةِ الْجَيْشِ، فَانْطَلَقَ يَرْكُضُ نَذِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ حَلْ، حَلْ، فَأَلَحَّتْ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ، وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ، قَالَ:‏‏‏‏ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يُلَبِّثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ، وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشُ، فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ خُزَاعَةَ، وَكَانُوا عَيْبَةَ نُصْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ نَزَلُوا أَعْدَادَ مِيَاهِ الْحُدَيْبِيَةِ وَمَعَهُمُ الْعُوذُ الْمَطَافِيلُ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَجِئْ لِقِتَالِ أَحَدٍ وَلَكِنَّا جِئْنَا مُعْتَمِرِينَ، وَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ نَهِكَتْهُمُ الْحَرْبُ وَأَضَرَّتْ بِهِمْ، فَإِنْ شَاءُوا مَادَدْتُهُمْ مُدَّةً، وَيُخَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَ النَّاسِ فَإِنْ أَظْهَرْ، فَإِنْ شَاءُوا أَنْ يَدْخُلُوا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ النَّاسُ فَعَلُوا وَإِلَّا فَقَدْ جَمُّوا، وَإِنْ هُمْ أَبَوْا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ عَلَى أَمْرِي هَذَا حَتَّى تَنْفَرِدَ سَالِفَتِي وَلَيُنْفِذَنَّ اللَّهُ أَمْرَهُ، فَقَالَ بُدَيْلٌ:‏‏‏‏ سَأُبَلِّغُهُمْ مَا تَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قُرَيْشًا، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا قَدْ جِئْنَاكُمْ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ قَوْلًا، فَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ نَعْرِضَهُ عَلَيْكُمْ فَعَلْنَا، فَقَالَ سُفَهَاؤُهُمْ:‏‏‏‏ لَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ تُخْبِرَنَا عَنْهُ بِشَيْءٍ، وَقَالَ ذَوُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ:‏‏‏‏ هَاتِ مَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَحَدَّثَهُمْ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، أَلَسْتُمْ بِالْوَالِدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ أَوَلَسْتُ بِالْوَلَدِ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَهَلْ تَتَّهِمُونِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي اسْتَنْفَرْتُ أَهْلَ عُكَاظَ، فَلَمَّا بَلَّحُوا عَلَيَّ جِئْتُكُمْ بِأَهْلِي وَوَلَدِي، وَمَنْ أَطَاعَنِي؟ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ هَذَا قَدْ عَرَضَ لَكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ، اقْبَلُوهَا وَدَعُونِي آتِيهِ، قَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَأَتَاهُ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَحْوًا مِنْ قَوْلِهِ لِبُدَيْلٍ، فَقَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ عِنْدَ ذَلِكَ أَيْ مُحَمَّدُ، أَرَأَيْتَ إِنِ اسْتَأْصَلْتَ أَمْرَ قَوْمِكَ، هَلْ سَمِعْتَ بِأَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ اجْتَاحَ أَهْلَهُ قَبْلَكَ وَإِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى وُجُوهًا وَإِنِّي لَأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ:‏‏‏‏ امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ ذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏أَبُو بَكْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا يَدٌ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي لَمْ أَجْزِكَ بِهَا لَأَجَبْتُكَ، قَالَ:‏‏‏‏ وَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلَّمَا تَكَلَّمَ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ، فَكُلَّمَا أَهْوَى عُرْوَةُ بِيَدِهِ إِلَى لِحْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ، وَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا:‏‏‏‏ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ غُدَرُ، أَلَسْتُ أَسْعَى فِي غَدْرَتِكَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ صَحِبَ قَوْمًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَتَلَهُمْ وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ فَأَسْلَمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَمَّا الْإِسْلَامَ فَأَقْبَلُ، وَأَمَّا الْمَالَ فَلَسْتُ مِنْهُ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ إِنَّ عُرْوَةَ جَعَلَ يَرْمُقُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنَيْهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا تَنَخَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، فَرَجَعَ عُرْوَةُ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيْ قَوْمِ، وَاللَّهِ لَقَدْ وَفَدْتُ عَلَى الْمُلُوكِ وَوَفَدْتُ عَلَى قَيْصَرَ، وَكِسْرَى، وَالنَّجَاشِيِّ، وَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ مَلِكًا قَطُّ يُعَظِّمُهُ أَصْحَابُهُ مَا يُعَظِّمُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدًا، وَاللَّهِ إِنْ تَنَخَّمَ نُخَامَةً إِلَّا وَقَعَتْ فِي كَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَدَلَكَ بِهَا وَجْهَهُ وَجِلْدَهُ، وَإِذَا أَمَرَهُمُ ابْتَدَرُوا أَمْرَهُ، وَإِذَا تَوَضَّأَ كَادُوا يَقْتَتِلُونَ عَلَى وَضُوئِهِ، وَإِذَا تَكَلَّمَ خَفَضُوا أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ، وَمَا يُحِدُّونَ إِلَيْهِ النَّظَرَ تَعْظِيمًا لَهُ، وَإِنَّهُ قَدْ عَرَضَ عَلَيْكُمْ خُطَّةَ رُشْدٍ فَاقْبَلُوهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا فُلَانٌ، وَهُوَ مِنْ قَوْمٍ يُعَظِّمُونَ الْبُدْنَ، فَابْعَثُوهَا لَهُ، فَبُعِثَتْ لَهُ وَاسْتَقْبَلَهُ النَّاسُ يُلَبُّونَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ، قَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِهَؤُلَاءِ أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ الْبُدْنَ قَدْ قُلِّدَتْ وَأُشْعِرَتْ، فَمَا أَرَى أَنْ يُصَدُّوا عَنِ الْبَيْتِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ دَعُونِي آتِيهِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ ائْتِهِ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هَذَا مِكْرَزٌ، وَهُوَ رَجُلٌ فَاجِرٌ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُكَلِّمُهُ إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو". قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَهُلَ لَكُمْ مِنْ أَمْرِكُمْ. قَالَ مَعْمَرٌ:‏‏‏‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَجَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ:‏‏‏‏ هَاتِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابًا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَاتِبَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ أَمَّا الرَّحْمَنُ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ كَمَا كُنْتَ تَكْتُبُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا نَكْتُبُهَا إِلَّا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اكْتُبْ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ، ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ، وَلَكِنْ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ وَذَلِكَ لِقَوْلِهِ:‏‏‏‏ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلَى أَنْ تُخَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَطُوفَ بِهِ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا تَتَحَدَّثُ الْعَرَبُ، أَنَّا أُخِذْنَا ضُغْطَةً، وَلَكِنْ ذَلِكَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَكَتَبَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ، وَعَلَى:‏‏‏‏ أَنَّهُ لَا يَأْتِيكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، قَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، كَيْفَ يُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ جَاءَ مُسْلِمًا؟ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو يَرْسُفُ فِي قُيُودِهِ، وَقَدْ خَرَجَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ حَتَّى رَمَى بِنَفْسِهِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ سُهَيْلٌ:‏‏‏‏ هَذَا يَا مُحَمَّدُ، أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّا لَمْ نَقْضِ الْكِتَابَ بَعْدُ، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ إِذًا لَمْ أُصَالِحْكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَأَجِزْهُ لِي، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِمُجِيزِهِ لَكَ، قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَافْعَلْ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِفَاعِلٍ، قَالَ مِكْرَزٌ:‏‏‏‏ بَلْ قَدْ أَجَزْنَاهُ لَكَ، قَالَ أَبُو جَنْدَلٍ:‏‏‏‏ أَيْ مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أُرَدُّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ جِئْتُ مُسْلِمًا، أَلَا تَرَوْنَ مَا قَدْ لَقِيتُ وَكَانَ قَدْ عُذِّبَ عَذَابًا شَدِيدًا فِي اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيهِ وَهُوَ نَاصِرِي، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَوَلَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ، قَالَ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ هَذَا نَبِيَّ اللَّهِ حَقًّا؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَى الْبَاطِلِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، قُلْتُ:‏‏‏‏ فَلِمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا، إِذًا قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّهَا الرَّجُلُ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِي رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللَّهِ إِنَّهُ عَلَى الْحَقِّ، قُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوفُ بِهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا، قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّكَ آتِيهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ فَعَمِلْتُ لِذَلِكَ أَعْمَالًا، قَالَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:‏‏‏‏ قُومُوا فَانْحَرُوا، ثُمَّ احْلِقُوا، قَالَ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتُحِبُّ ذَلِكَ اخْرُجْ، ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ، فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ بُدْنَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ بَعْضًا حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا، ثُمَّ جَاءَهُ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ حَتَّى بَلَغَ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ سورة الممتحنة آية 10، فَطَلَّقَ عُمَرُ يَوْمَئِذٍ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا لَهُ فِي الشِّرْكِ، فَتَزَوَّجَ إِحْدَاهُمَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَالْأُخْرَى صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ، فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ، فَقَالُوا:‏‏‏‏ الْعَهْدَ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ، فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَنَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا فَاسْتَلَّهُ الْآخَرُ، فَقَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَجَيِّدٌ، لَقَدْ جَرَّبْتُ بِهِ ثُمَّ جَرَّبْتُ، فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ:‏‏‏‏ أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ، فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ:‏‏‏‏ لَقَدْ رَأَى هَذَا ذُعْرًا، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:‏‏‏‏ قُتِلَ وَاللَّهِ صَاحِبِي وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ، فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ، فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ وَاللَّهِ أَوْفَى اللَّهُ ذِمَّتَكَ، قَدْ رَدَدْتَنِي إِلَيْهِمْ، ثُمَّ أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْهُمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَيْلُ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ، فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ، قَالَ:‏‏‏‏ وَيَنْفَلِتُ مِنْهُمْ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ، فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ، فَوَاللَّهِ مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّأْمِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا، فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ، فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ بِاللَّهِ وَالرَّحِمِ لَمَّا أَرْسَلَ، فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ حَتَّى بَلَغَ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ سورة الفتح آية 24 - 26، وَكَانَتْ حَمِيَّتُهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُقِرُّوا أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، وَلَمْ يُقِرُّوا بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَحَالُوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْبَيْتِ. وَقَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:‏‏‏‏ مَعَرَّةٌ الْعُرُّ الْجَرَبُ تَزَيَّلُوا تَمَيَّزُوا، وَحَمَيْتُ الْقَوْمَ مَنَعْتُهُمْ حِمَايَةً، وَأَحْمَيْتُ الْحِمَى جَعَلْتُهُ حِمًى لَا يُدْخَلُ، وَأَحْمَيْتُ الْحَدِيدَ، وَأَحْمَيْتُ الرَّجُلَ إِذَا أَغْضَبْتَهُ إِحْمَاءً.
حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی حدیث کی تصدیق کرتا ہے، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے زمانے میں تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (معجزانہ طور پر) فرمایا: خالد بن ولید مقام غمیم میں قریش کے سواروں کے ہمراہ موجود ہے اور یہ قریش کا ہر اول دستہ ہے، لہٰذا تم دائیں جانب کا راستہ اختیار کرو۔ تو اللہ کی قسم! خالد کو ان کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی یہاں تک کہ جب لشکر کا غبار ان تک پہنچا تو وہ فوراً قریش کو مطلع کرنے کے لیے وہاں سے دوڑا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جس سے مکہ میں اترا جاتا تھا تو آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی۔ اس پر لوگوں نے اسے چلانے کے لیے حل حل کہا مگر اس نے کوئی حرکت نہ کی۔ لوگ کہنے لگے: قصواء بیٹھ گئی، قصواء اڑ گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصواء نہیں بیٹھی اور نہ یوں اڑنا ہی اس کی عادت ہے، مگر جس (اللہ) نے ہاتھیوں (کے لشکر) کو (مکہ میں داخل ہونے سے) روکا تھا اس نے اس (قصواء) کو بھی روک دیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر کفار قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں اس کو ضرور منظور کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹنی کو ڈانٹا تو وہ جست لگا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (اہل مکہ) کی طرف سے رخ پھیرا اور حدیبیہ کے انتہائی (آخری) حصے میں ایک ندی پر پڑاؤ کیا جس میں بہت کم پانی تھا۔ لوگ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لینے لگے اور چند لمحات میں اس کو صاف کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیاس کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تیر اپنی ترکش سے نکالا اور ارشاد فرمایا کہ اس کو اس پانی میں گاڑ دیں۔ (پھر کیا تھا) اللہ کی قسم! پانی جوش مارنے لگا اور سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا اور ان کی واپسی تک یہی حال رہا۔ اسی حالت میں بدیل بن ورقاء خزاعی اپنی قوم خزاعہ کے چند آدمیوں کو لیے ہوئے آ پہنچا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیر خواہ اور با اعتماد تہامہ کے لوگوں میں سے تھا۔ اس نے کہا: میں نے کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ حدیبیہ کے عمیق چشموں پر فروکش ہیں اور ان کے ساتھ دودھ والی اونٹنیاں ہیں اور وہ لوگ آپ سے جنگ کرنا اور بیت اللہ سے آپ کو روکنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے نہیں بلکہ صرف عمرہ کرنے آئے ہیں اور بے شک قریش کو لڑائی نے کمزور کر دیا ہے اور ان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، لہٰذا اگر وہ چاہیں تو میں ان سے ایک مدت طے کر لیتا ہوں اور وہ اس مدت میں میرے اور دوسرے لوگوں کے درمیان حائل نہ ہوں (اگر اس دوران میں کوئی مجھ پر غالب آ جائے تو یہ ان کی مراد ہے اور) اگر میں غالب ہو جاؤں اور وہ چاہیں تو اس دین میں داخل ہو جائیں جس میں اور لوگ داخل ہو گئے ہیں ورنہ وہ مزید چند روز آرام حاصل کر لیں گے۔ اگر وہ یہ بات نہ مانیں تو اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تو اس دین پر ان سے لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ میری گردن کٹ جائے۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ ضرور اپنے اس دین کو جاری کرے گا۔ اس پر بدیل نے کہا: میں آپ کا پیغام ان کو پہنچا دیتا ہوں، چنانچہ وہ چلا گیا اور قریش کے پاس جا کر کہنے لگا: ہم یہاں اس شخص کے پاس آ رہے ہیں اور ہم نے ان کو کچھ کہتے ہوئے سنا ہے، اگر تم چاہو تو تمھیں سناؤں۔ اس پر کچھ بے وقوف لوگوں نے کہا: ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم ہمیں ان کی کسی بات کی خبر دو، مگر ان میں سے عقل مند لوگوں نے کہا: اچھا بتلاؤ تم کیا بات سن کر آئے ہو؟ بدیل نے کہا: میں نے ان کو ایسا ایسا کہتے سنا ہے، پھر جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ اس نے بیان کر دیا۔ اتنے میں عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: میری قوم کے لوگو! کیا تم اولاد کی طرح (میرے خیر خواہ) اور میں تم پر باپ کی طرح شفقت نہیں کرتا؟ انھوں نے کہا: ہاں، کیوں نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم مجھ پر کوئی الزام لگاتے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ عروہ نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں نے اہل عکاظ کو تمھاری مدد کے لیے بلایا مگر انھوں نے جب میرا کہا نہ مانا تو میں اپنے بال بچے، تعلق دار اور پیروکاروں کو لے کر تمھارے پاس آ گیا؟ انھوں نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ عروہ نے کہا: اس شخص، یعنی بدیل نے تمھاری خیر خواہی کی بات کی ہے، اس کو منظور کر لو اور اجازت دو کہ میں اس کے پاس جاؤں۔ سب لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی وہی گفتگو کی جو بدیل سے کی تھی، عروہ یہ سن کر کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر تم اپنی قوم کی جڑ بالکل کاٹ دو گے تو (کیا فائدہ ہو گا؟) کیا تم نے اپنے سے پہلے کسی عرب کو سنا ہے کہ اس نے اپنی قوم کا استیصال کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوئی، یعنی تم مغلوب ہو گئے تو اللہ کی قسم! میں تمھارے ساتھیوں کے منہ دیکھتا ہوں کہ یہ مختلف لوگ جنھیں بھاگنے کی عادت ہے، تمھیں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: جا اور لات کی شرمگاہ پر منہ مار! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ عروہ نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمھارا ایک احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا ابھی تک بدلہ نہیں دے سکا تو میں تمھیں سخت جواب دیتا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر عروہ باتیں کرنے لگا اور جب بات کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو پکڑتا، اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے پاس کھڑے تھے جن کے ہاتھ میں تلوار اور سر پر خود تھا، لہٰذا جب عروہ اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی طرف بڑھاتا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس کے ہاتھ پر تلوار کا نچلا حصہ مارتے اور کہتے کہ اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے دور رکھ۔ یہ سن کر عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور کہنے لگا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ عروہ نے کہا: اے دغا باز! کیا میں نے تیری دغا بازی کی سزا سے تجھ کو نہیں بچایا؟ ہوا یوں کہ زمانہ جاہلیت میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کافروں کی کسی قوم کے ساتھ گئے تھے، پھر انھیں قتل کر کے ان کا مال لوٹا اور چلے آئے، اس کے بعد وہ مسلمان ہو گئے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمھارا اسلام تو میں قبول کرتا ہوں لیکن جو مال تو لایا ہے، اس سے مجھے کوئی غرض نہیں۔ اس کے بعد عروہ گوشہ چشم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھنے لگا، راوی بیان کرتا ہے کہ اللہ کی قسم! اس نے دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے تھے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر ہی پڑتا تھا اور وہ اسے اپنے چہرے اور بدن پر ملتا تھا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کوئی حکم دیتے تو وہ فوراً اس کی تعمیل کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تو وہ آپ کے وضو کا گرا ہوا پانی لینے پر جھپٹ پڑتے تھے اور ہر شخص اسے لینے کی خواہش کرتا۔ وہ لوگ کبھی بات کرتے تو آپ کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے اور آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھتے تھے۔ یہ حال دیکھ کر عروہ اپنے لوگوں کے پاس لوٹ کر گیا اور ان سے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اور قیصر و کسریٰ، نیز نجاشی کے دربار بھی دیکھ آیا ہوں مگر میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس کے ساتھی اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں، اللہ کی قسم! جب وہ تھوکتے ہیں تو ان میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ پر پڑتا ہے اور وہ اس کو اپنے چہرے پر مل لیتا ہے، اور جب وہ کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو وہ فوراً ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور وہ وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے لیے لڑتے مرتے ہیں اور جب گفتگو کرتے ہیں تو ان کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور تعظیم کی وجہ سے ان کی طرف نظر بھر کر نہیں دیکھتے، بے شک انھوں نے تمھیں ایک اچھی بات کی پیش کش کی ہے، تم اسے قبول کر لو۔ اس پر بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: اب مجھے اس کے پاس جانے میں اجازت دو۔ لوگوں نے کہا: اچھا اب تم ان کے پاس جاؤ۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فلاں شخص ہے اور یہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں، لہٰذا تم قربانی کے جانور اس کے سامنے کر دو۔ چنانچہ قربانی اس کے سامنے پیش کی گئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے لبیک پکارتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔ جب اس نے یہ حال دیکھا تو کہنے لگا: سبحان اللہ! ان لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا زیب نہیں دیتا، چنانچہ وہ بھی اپنی قوم کے پاس لوٹ کر گیا اور کہنے لگا: میں نے قربانی کے جانوروں کو دیکھا کہ ان کے گلے میں ہار پڑے ہوئے ہیں اور ان کے کوہان زخمی ہیں، میں تو ایسے لوگوں کو بیت اللہ سے روکنا مناسب خیال نہیں کرتا۔ پھر ان میں سے ایک اور شخص جس کا نام مکرز بن حفص تھا کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: مجھے اجازت دو کہ میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں۔ لوگوں نے کہا: اچھا تم بھی جاؤ۔ جب وہ مسلمانوں کے پاس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مکرز ہے اور یہ بد کردار آدمی ہے۔ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا، ابھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو ہی کر رہا تھا کہ سہیل بن عمرو آ گیا۔ جب سہیل بن عمرو آیا تو اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تمھارا کام آسان ہو گیا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان صلح کی دستاویز تحریر کریں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کو بلا کر اس سے فرمایا: لکھو: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» اس پر سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں جانتے کہ رحمٰن کون ہے، آپ اس طرح لکھوائیں: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» جیسا کہ آپ پہلے لکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے کہا: ہم تو «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» ہی لکھوائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ» ہی لکھ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکھو کہ یہ وہ تحریر ہے جس کی بنیاد پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کی۔ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! اگر ہم یقین رکھتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم نہ تو آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ ہی کرتے، لہٰذا محمد بن عبداللہ لکھوائیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم میری تکذیب ہی کرو، اچھا محمد بن عبداللہ ہی لکھو۔ امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درج ذیل فرمان کی وجہ سے کیا: اگر کفار قریش مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ کریں جس میں وہ اللہ کی طرف سے حرمت و عزت والی چیزوں کی تعظیم کریں تو میں ضرور اس کو منظور کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: لیکن اس شرط پر کہ تم ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان حائل نہیں ہو گے تاکہ ہم کعبہ کا طواف کر لیں۔ سہیل نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ عرب باتیں کریں گے کہ ہم دباؤ میں آ گئے ہیں، البتہ آئندہ سال یہ بات ہو جائے گی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی لکھوا دیا۔ پھر سہیل نے کہا: یہ شرط بھی ہے کہ ہماری طرف سے جو شخص تمھاری طرف آئے، اگرچہ وہ تمھارے دین پر ہو، اس کو آپ نے ہماری طرف واپس کرنا ہو گا۔ مسلمانوں نے کہا: سبحان اللہ! وہ کس لیے مشرکوں کے حوالے کیا جائے جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے؟ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوجندل بن سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہما بیڑیاں پہنے ہوئے آہستہ آہستہ مکہ کی نشیبی طرف سے آتے ہوئے معلوم ہوئے یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کی جماعت میں پہنچ گئے۔ سہیل نے کہا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سب سے پہلی بات جس پر ہم صلح کرتے ہیں کہ اس کو مجھے واپس کر دو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی تو صلح نامہ پورا لکھا بھی نہیں گیا۔ سہیل نے کہا: تو پھر اللہ کی قسم! میں تم سے کسی بات پر صلح نہیں کرتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم اس کی مجھے اجازت دے دو۔ سہیل نے کہا: میں تمھیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکرز سے فرمایا: نہیں، تم مجھے اس کی اجازت دے دو۔ اس نے کہا: میں نہیں دوں گا۔ مکرز بولا: اچھا ہم آپ کی خاطر اس کی اجازت دیتے ہیں۔ (مگر اس کی بات نہیں مانی گئی۔) بالآخر حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ بول اٹھے: اے مسلمانو! کیا میں مشرکین کی طرف واپس کر دیا جاؤں گا، حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے کیا کیا مصیبتیں اٹھائی ہیں؟ درحقیقت اسلام کی راہ میں اسے سخت تکلیف دی گئی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: کیا آپ اللہ کے سچے پیغمبر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ایسے ہی ہے۔ میں نے عرض کیا: تو پھر ہم اپنے دین کو کیوں ذلیل کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلا شبہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا، وہ میرا مدد گار ہے۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، مگر کیا میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم اسی سال (بیت اللہ) جائیں گے؟ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (ایک وقت) بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ پھر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: اے ابوبکر! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا: کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر ہم دین کے متعلق یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: بھلے آدمی! وہ اللہ کے رسول ہیں، اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے، اللہ ان کا مدد گار ہے، لہٰذا وہ جو حکم دیں اس کی تعمیل کرو اور ان کے رکاب کو تھام لو کیونکہ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ میں نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ بیان نہیں کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ جا کر اس کا طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں کہا تھا، مگر کیا یہ بھی کہا تھا کہ تم اسی سال بیت اللہ جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بیت اللہ پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس (بے ادبی اور گستاخی کی تلافی کے لیے) بہت سے نیک عمل کیے۔ راوی کا بیان ہے کہ جب صلح نامہ لکھا جا چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے کہا: اٹھو اور قربانی کے جانور ذبح کرو، نیز سر کے بال منڈاؤ۔ راوی کہتا ہے کہ اللہ کی قسم! یہ سن کر کوئی بھی نہ اٹھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا، جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے یہ واقعہ بیان کیا جو لوگوں سے آپ کو پیش آیا تھا۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ یہ بات چاہتے ہیں تو باہر تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی کے ساتھ کلام نہ فرمائیں بلکہ آپ اپنے قربانی کے جانور ذبح کر کے سر مونڈنے والے کو بلائیں تاکہ وہ آپ کا سر مونڈ دے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور کسی سے گفتگو نہ کی حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کام کر لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور ذبح کیے اور سر مونڈنے والے کو بلایا جس نے آپ کا سر مونڈا، چنانچہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے یہ دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انھوں نے قربانی کے جانور ذبح کیے، پھر ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے۔ غم کی وجہ سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو ہلاک کر دیں گے۔ اس کے بعد چند مسلمان خواتین آپ کے ہاں حاضر خدمت ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10] مسلمانو! جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کا امتحان لو... اور ﴿وَلَا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ [سورة الممتحنة: 10] کافر عورتوں کو نکاح میں نہ رکھو۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن اپنی دو مشرک عورتوں کو طلاق دے دی جو ان کے نکاح میں تھیں، ان میں ایک کے ساتھ حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما اور دوسری سے صفوان بن امیہ نے نکاح کر لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ واپس آئے تو ابوبصیر نامی ایک شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آیا جو قریشی تھا اور کفار مکہ نے اس کے تعاقب میں دو آدمی بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہلوا بھیجا کہ جو عہد آپ نے ہم سے کیا ہے اس کا خیال کریں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کے حوالے کر دیا اور وہ دونوں اسے لے کر ذوالحلیفہ پہنچے اور وہاں اتر کر کھجوریں کھانے لگے تو حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے ایک سے کہا: اللہ کی قسم! تیری تلوار بہت عمدہ معلوم ہوتی ہے۔ اس نے سونت کر کہا: بے شک عمدہ ہے، میں اسے کئی دفعہ آزما چکا ہوں۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے دکھاؤ میں بھی تو دیکھوں کیسی اچھی ہے؟ چنانچہ وہ تلوار اس نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے اسی تلوار سے وار کر کے اسے ٹھنڈا کر دیا۔ دوسرا شخص بھاگتا ہوا مدینہ آیا اور دوڑتا ہوا مسجد میں گھس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: یہ کچھ خوفزدہ ہے۔ پھر جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرا ساتھی قتل کر دیا گیا ہے اور میں بھی نہیں بچوں گا۔ اتنے میں حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ بھی آ پہنچے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ نے آپ کا عہد پورا کر دیا ہے، آپ نے مجھے کفار کو واپس کر دیا تھا مگر اللہ نے مجھے نجات دی ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری ماں کے لیے خرابی ہو! یہ تو لڑائی کی آگ ہے، اگر کوئی اس کا مدد گار ہوتا تو ضرور بھڑک اٹھتی۔ جب حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پھر ان (کفار) کے حوالے کریں گے، لہٰذا وہ سیدھے نکل کر سمندر کے کنارے جا پہنچے۔ دوسری طرف سے حضرت ابوجندل رضی اللہ عنہ بھی مکہ سے بھاگ کر اس سے مل گئے۔ اس طرح جو شخص بھی قریش کا مسلمان ہو کر آتا وہ حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ سے مل جاتا تھا یہاں تک کہ وہاں ایک جماعت وجود میں آ گئی، پھر اللہ کی قسم! وہ قریش کے جس قافلے کی بابت سنتے کہ وہ شام کی جانب جا رہا ہے اس کی گھات میں رہتے، اس کے آدمیوں کو قتل کر کے ان کا ساز و سامان لوٹ لیتے، پھر آخر کار قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آدمی بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ اور قرابت کا واسطہ دیا کہ ابوبصیر رضی اللہ عنہ کو کہلا بھیجیں کہ وہ ایذا رسانی سے باز آ جائے اور اب سے جو شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اس کو امن ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی بابت پیغام بھیجا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الفتح: 24] وہی اللہ جس نے عین مکہ میں تمھیں ان پر فتح دی اور ان کے ہاتھ تم سے روک دیے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے جبکہ اس سے پہلے تمھیں ان پر غالب کر چکا تھا... اور ﴿إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ [سورة الفتح: 26] (جب کفار نے اپنے دلوں میں) زمانہ جاہلیت کی نخوت ٹھان لی... اور جاہلانہ نخوت یہ تھی کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو نہ مانا اور «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» نہ لکھنے دیا، نیز مسلمانوں اور کعبہ کے درمیان حائل ہوئے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: «مَعَرَّة» «عَرَّة» سے مشتق ہے، اس کے معنی خارش کے ہیں، اور «تَزَيَّلُوا» کے معنی ہیں: وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، اور ( «حَمِيَّة» کا لفظ) «حَمَيْتُ الْقَوْمَ» سے ہے، اس کے معنی ہیں: میں نے لوگوں کو شر سے بچایا، اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ میں نے چراگاہ کی حفاظت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4157
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ مَرْوَانَ، والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , قَالَا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا" , لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ , يَقُولُ: لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ , فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ , أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عروہ نے ‘ ان سے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کر سکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4157]
حضرت مروان اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا، پھر وہاں سے عمرے کا احرام باندھا۔ راویِ حدیث (علی بن عبداللہ المدینی) نے کہا: میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے اس حدیث کو سفیان سے کتنی مرتبہ سنا، حتیٰ کہ میں نے ایک مرتبہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور ہار پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا، اس لیے میں نہیں جانتا کہ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور ہار پہنانے سے تھی یا اس سے مراد پوری حدیث تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4157]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4179
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ حَفِظْتُ بَعْضَهُ , وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يَزِيدُ , أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ , قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ , وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ , وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الْأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ , قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا , وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الْأَحَابِيشَ وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ , وَصَادُّوكَ عَنْ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ , فَقَالَ:" أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ , أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنْ الْبَيْتِ؟ فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ لَا تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلَا حَرْبَ أَحَدٍ , فَتَوَجَّهْ لَهُ , فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ , قَالَ:" امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ جب زہری نے یہ حدیث بیان کی (جو آگے مذکور ہوئی ہے) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا۔ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے بیان کیا ‘ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر جب آپ ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا اور اس پر نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابی کو جاسوسی کے لیے بھیجا اور خود بھی سفر جاری رکھا۔ جب آپ غدیر الاشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس بھی خبریں لے کر آ گئے۔ جنہوں نے بتایا کہ قریش نے آپ کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور بہت سے قبائل کو بلایا ہے۔ وہ آپ سے جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو کیا تمہارے خیال میں یہ مناسب ہو گا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلے پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک ہاری ہوئی قوم جان کر چھوڑ دیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ تو صرف بیت اللہ کے عمرہ کے لیے نکلے ہیں نہ آپ کا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا ہے اور نہ کسی سے لڑائی کا۔ اس لیے آپ بیت اللہ تشریف لے چلیں۔ اگر ہمیں پھر بھی کوئی بیت اللہ تک جانے سے روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4179]
حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے کچھ زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانوروں کو ہار پہنائے اور ان کا شعار کیا۔ وہاں سے آپ نے عمرے کا احرام باندھا، پھر قبیلہ خزاعہ سے ایک جاسوس بھیجا اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرتے رہے۔ جب غدیر اشطاط پہنچے تو آپ کے جاسوس نے اطلاع دی کہ قریش نے آپ (کے مقابلے) کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف قبائل کو اکٹھا کر رکھا ہے اور وہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں، نیز آپ کو بیت اللہ سے روکنے کا پروگرام رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! مجھے مشورہ دو، کیا تم مناسب سمجھتے ہو کہ میں ان کے اہل و عیال پر حملہ کر دوں جو ہمیں بیت اللہ سے روکنا چاہتے ہیں؟ اگر وہ لوگ (اپنے اہل و عیال کو بچانے کی خاطر) ہمارے پاس (لڑائی کرنے) آ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو بچا لیا ہے۔ اور اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کے بال بچوں پر حملہ کر کے انہیں جنگ کی حالت میں چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ تو بیت اللہ کا ارادہ کر کے روانہ ہوئے ہیں، نہ تو ہم کسی کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہمارا کسی سے لڑنے کا پروگرام ہی ہے، اس لیے آپ سیدھے بیت اللہ تشریف لے جائیں، جو شخص اس سلسلے میں رکاوٹ بنے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ کا نام لے کر اپنا سفر جاری رکھو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4180
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ , أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ , سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ,وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ , فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا:" أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ , وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: لَا يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا , وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ , وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ , فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا فَتَكَلَّمُوا فِيهِ , فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى ذَلِكَ كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلَّا رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا , وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عَاتِقٌ , فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ".
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے چچا محمد بن مسلم بن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ دونوں راویوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا تو عروہ نے مجھے اس میں جو کچھ خبر دی تھی ‘ اس میں یہ بھی تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور (قریش کا نمائندہ) سہیل بن عمرو حدیبیہ میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح کی دستاویز لکھ رہے تھے اور اس میں سہیل نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ ہمارا اگر کوئی آدمی آپ کے یہاں پناہ لے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو جائے تو آپ کو اسے ہمارے حوالے کرنا ہی ہو گا تاکہ ہم اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ سہیل اس شرط پر اڑ گیا اور کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کر لیں اور مسلمان اس شرط پر کسی طرح راضی نہ تھے۔ مجبوراً انہوں نے اس پر گفتگو کی (کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مسلمان کو کافر کے سپرد کر دیں) سہیل نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا تو صلح بھی نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی تسلیم کر لی اور ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کر دیا (جو اسی وقت مکہ سے فرار ہو کر بیڑی کو گھسیٹتے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے تھے) (شرط کے مطابق مدت صلح میں مکہ سے فرار ہو کر) جو بھی آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کر دیتے ‘ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا۔ اس مدت میں بعض مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے مکہ سے آئیں۔ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط بھی ان میں سے ہیں جو اس مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں ‘ وہ اس وقت نوجوان تھیں ‘ ان کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کر دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں وہ آیت نازل کی جو شرط کے مناسب تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4180]
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ حدیبیہ کا قصہ بیان کرتے ہیں (امام زہری نے کہا:) عروہ نے مجھے ان دونوں سے جو خبر دی اس میں یہ بھی تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن سہیل بن عمرو سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح نامہ لکھنے کا ارادہ کیا تو سہیل بن عمرو کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ آپ کے پاس ہم سے جو شخص بھی آئے گا، اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو، آپ کو اسے ہمارے پاس واپس کرنا ہو گا۔ آپ ہمارے اور اس کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کریں گے۔ سہیل اسی شرط پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرنے میں اڑا رہا لیکن مسلمان اس شرط پر صلح کرنے سے بہت کبیدہ خاطر تھے۔ وہ اسے بہت گراں خیال کرتے تھے اور اس بارے میں گفتگو کر رہے تھے جبکہ سہیل کو اسی شرط پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح کرنے پر اصرار تھا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی صلح نامہ میں لکھ دی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن سہیل کے بیٹے حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کے پاس لوٹا دیا، بلکہ اس کے بعد جو بھی مرد مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے معینہ مدت میں واپس کرتے رہے۔ اس دوران میں کچھ اہل ایمان خواتین (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں۔ عقبہ بن ابی معیط کی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا بھی ان مہاجر خواتین میں سے تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آئی تھیں اور وہ نوجوان عورت تھیں۔ اس کے اہل خانہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مہاجر خواتین کے متعلق آیات نازل فرمائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 4180]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں