صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. باب بيع المزابنة، وهى بيع الثمر بالتمر وبيع الزبيب بالكرم وبيع العرايا:
باب: بیع مزابنہ کے بیان میں اور یہ خشک کھجور کی بیع درخت پر لگی ہوئی کھجور کے بدلے اور خشک انگور کی بیع تازہ انگور کے بدلے میں ہوتی ہے اور بیع عرایا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2186
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں داؤد بن حصین نے، انہیں ابن ابی احمد کے غلام ابوسفیان نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی کھجور، توڑی ہوئی کھجور کے بدلے میں خریدنے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2186]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2171
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کر کے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2173
قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2185
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ، اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر اور درخت کے انگور کو خشک انگور کے بدلے میں ناپ کر بیچنے کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2185]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2187]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2191
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ سَمِعْتُ بُشَيْرًا، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا"، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا، قَالَ: هُوَ سَوَاءٌ؟ قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى: وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا، فَقَالَ: وَمَا يُدْرِي أَهْلَ مَكَّةَ؟ قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَرْوُونَهُ عَنْ جَابِرٍ، فَسَكَتَ، قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: وَلَيْسَ فِيهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ؟ قَالَ: لَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگی ہوئی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، البتہ عریہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے کہ عریہ والے اس کے بدل تازہ کھجور کھائیں۔ سفیان نے دوسری مرتبہ یہ روایت بیان کی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دے دی تھی۔ کہ اندازہ کر کے یہ بیع کی جا سکتی ہے، کھجور ہی کے بدلے میں۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یحییٰ سے پوچھا، اس وقت میں ابھی کم عمر تھا کہ مکہ کے لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی اجازت دی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ اہل مکہ کو یہ کس طرح معلوم ہوا؟ میں نے کہا کہ وہ لوگ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ سفیان نے کہا کہ میری مراد اس سے یہ تھی کہ جابر رضی اللہ عنہ مدینہ والے ہیں۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حدیث میں یہ ممانعت نہیں ہے کہ پھلوں کو بیچنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا جب تک ان کی پختگی نہ کھل جائے انہوں نے کہا کہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا، وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ"، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2205]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَاضَرَةِ، وَالْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ".
ہم سے اسحاق بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مخاضرہ، ملامسہ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2286
وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ.
اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے بیان کیا، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ (خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وہاں کی زمین کا معاملہ برابر چلتا رہا) یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2286]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2332
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى، سَمِعَ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيَّ، عَنْ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا، وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ، فَيَقُولُ: هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہوں نے حنظلہ زرقی سے سنا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے پاس مدینہ کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زمین زیادہ تھی۔ ہمارے یہاں طریقہ یہ تھا کہ جب زمین بصورت جنس کرایہ پر دیتے تو یہ شرط لگا دیتے کہ اس حصہ کی پیداوار تو میری رہے گی اور اس حصہ کی تمہاری رہے گی۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ ایک حصہ کی پیداوار خوب ہوتی اور دوسرے کی نہ ہوتی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح معاملہ کرنے سے منع فرما دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2344
ثُمَّ حُدِّثَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى كِرَاءِ الْمَزَارِعِ". فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعٍ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ.
پھر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہما رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدل جو نالیوں پر ہو اور تھوڑی گھاس کے بدل دیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2344]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:"كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مجھے معلوم تھا کہ زمین کو بٹائی پر دیا جاتا تھا۔ پھر انہیں ڈر ہوا کہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی نئی ہدایت فرمائی ہو جس کا علم انہیں نہ ہوا ہو۔ چنانچہ انہوں نے (احتیاطاً) زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّايَ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ أَوْ شَيْءٍ يَسْتَثْنِيهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ". فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ هِيَ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، وَقَالَ اللَّيْثُ: وَكَانَ الَّذِي نُهِيَ عَنْ ذَلِكَ مَا لَوْ نَظَرَ فِيهِ ذَوُو الْفَهْمِ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ، لَمْ يُجِيزُوهُ لِمَا فِيهِ مِنَ الْمُخَاطَرَةِ.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن قیس نے بیان کیا، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے چچا (ظہیر اور مہیر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین کو بٹائی پر نہر (کے قریب کی پیداوار) کی شرط پر دیا کرتے۔ یا کوئی بھی ایسا خطہ ہوتا جسے مالک زمین (اپنے لیے) چھانٹ لیتا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ حنظلہ نے کہا کہ اس پر میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا، اگر درہم و دینار کے بدلے یہ معاملہ کیا جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دینار و درہم کے بدلے میں ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور لیث نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح کی بٹائی سے منع فرمایا تھا، وہ ایسی صورت ہے کہ حلال و حرام کی تمیز رکھنے والا کوئی بھی شخص اسے جائز نہیں قرار دے سکتا۔ کیونکہ اس میں کھلا دھوکہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2381
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا، وَأَنْ لَا تُبَاعَ إِلَّا بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا۔ اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا تھا، اور یہ کہ میوہ یا غلہ جو درخت پر لگا ہو، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2381]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2384
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ.
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابواسامہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے ولید بن کثیر نے خبر دی، کہا کہ مجھے بنی حارثہ کے غلام بشیر بن یسار نے خبر دی، ان سے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی تھی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن اسحاق نے کہا کہ مجھ سے بشیر نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی تھی۔ (یہ تعلیق ہے کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن اسحاق کو نہیں پایا۔ حافظ نے کہا کہ مجھ کو یہ تعلیق موصلاً نہیں ملی۔) [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2722
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ:" كُنَّا أَكْثَرَ الْأَنْصَارِ حَقْلًا فَكُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ، فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ، فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ وَلَمْ نُنْهَ عَنِ الْوَرِقِ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے حنظلہ زرقی سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ ہم اکثر انصار کاشتکاری کیا کرتے تھے اور ہم زمین بٹائی پر دیتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کسی کھیت کے ایک ٹکڑے میں پیداوار ہوتی اور دوسرے میں نہ ہوتی، اس لیے ہمیں اس سے منع کر دیا گیا۔ لیکن چاندی (روپے وغیرہ) کے لگان سے منع نہیں کیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2722]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4013
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" , قُلْتُ لِسَالِمٍ فَتُكْرِيهَا أَنْتَ، قَالَ: نَعَمْ إِنَّ رَافِعًا أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ".
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زہری نے، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ ان کے دو چچاؤں (ظہیر اور مظہر رافع بن عدی بن زید انصاری کے بیٹوں) جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا تھا۔ میں نے سالم سے کہا لیکن آپ تو کرایہ پر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، رافع رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر زیادتی کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة