صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. باب كتابة القطائع:
باب: قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا۔
حدیث نمبر: 2377
وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش (مہاجرین) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2377]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ ان کو علاقہ بحرین میں جاگیریں دیں، انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ نے ایسا کرنا ہے تو ہمارے قریشی بھائیوں کو بھی ویسی ہی جاگیروں کی سند لکھ دیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت اتنی زمین نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عنقریب دیکھو گے کہ (تمھیں نظر انداز کر کے) دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ ایسے حالات میں صبر سے کام لینا حتیٰ کہ قیامت کے دن مجھ سے آ ملو۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2377]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2376
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَ الَّذِي تُقْطِعُ لَنَا، قَالَ: سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین میں کچھ قطعات اراضی بطور جاگیر (انصار کو) دینے کا ارادہ کیا تو انصار نے عرض کیا کہ ہم جب لیں گے کہ آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اسی طرح کے قطعات عنایت فرمائیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد (دوسرے لوگوں کو) تم پر ترجیح دی جایا کرے گی تو اس وقت تم صبر کرنا، یہاں تک کہ ہم سے (آخرت میں آ کر) ملاقات کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2376]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ بحرین کے علاقے میں کچھ جاگیریں لوگوں کو دیں۔ انصار نے مشورہ دیا کہ آپ ایسا نہ کریں تاآنکہ ہمارے مہاجرین بھائیوں کو بھی جاگیریں دیں جیسا کہ ہمیں دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عنقریب دیکھو گے کہ لوگوں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ ایسے حالات میں میری ملاقات تک صبر کرنا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 2376]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3146
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُعْطِي قُرَيْشًا أَتَأَلَّفُهُمْ لِأَنَّهُمْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں، کیونکہ ان کی جاہلیت (کفر) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے (ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے)۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 3146]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں قریش کو ان کی تالیف قلبی کے لیے دیتا ہوں کیونکہ ان کی جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 3146]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3147
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالُوا: لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ، قَالَ: لَهُ فُقَهَاؤُهُمْ أَمَّا ذَوُو آرَائِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُوا إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ: لَهُمْ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً شَدِيدَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْحَوْضِ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے بعض آدمیوں کو (تالیف قلب کی غرض سے) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا۔ حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ (قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا) انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلایا۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں جو عقل والے ہیں، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے۔ (اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ کو لے کر واپس جا رہے ہو گے۔ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔ سب انصاریوں نے کہا: بیشک یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا، (دنگا فساد نہ کرنا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر۔“ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 3147]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن کے مال میں سے جتنا بھی بطور غنیمت عطا فرمایا تو اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دیے۔ اس پر انصار کے چند لوگوں نے کہا: «غَفَرَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ» ”اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواروں سے ان (کافروں) کا خون ٹپک رہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک جب ان کی یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر انھیں چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور ان کے ساتھ کسی اور کو نہ بلایا۔ جب وہ جمع ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟“ ان کے عقلمند لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے اہل خرد نے تو کچھ نہیں کہا، البتہ ہمارے چند نو خیز لڑکے ہیں، انھوں نے ہی یہ کہا ہے کہ: «غَفَرَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ» ”اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے، حالانکہ ہماری تلواریں اب بھی ان کے خون ٹپکا رہی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کے کفر کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے (یعنی وہ نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں)۔ کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر واپس جاؤ؟ اللہ کی قسم! جو تم لے کر جاؤ گے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے۔“ انصار نے بیک زبان عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اس پر پوری طرح راضی اور خوش ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر سے کام لینا یہاں تک کہ تم اللہ سے ملو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض (کوثر) پر ملاقات کرو۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن اس کے باوجود ہم سے صبر نہ ہو سکا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3778
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: وَأَعْطَى قُرَيْشًا , وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَاءِ قُرَيْشٍ وَغَنَائِمُنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَعَا الْأَنْصَارَ، قَالَ: فَقَالَ:" مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ" وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، فَقَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، قَالَ:" أَوَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالْغَنَائِمِ إِلَى بُيُوتِهِمْ وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ لَوْ سَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو (غزوہ حنین کی) غنیمت کا سارا مال دے دیا تو بعض نوجوان انصار یوں نے کہا (اللہ کی قسم!) یہ تو عجیب بات ہے ابھی ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا حاصل کیا ہوا مال غنیمت صرف انہیں دیا جا رہا ہے، اس کی خبر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے انصار کو بلایا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو خبر مجھے ملی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے انہوں نے عرض کر دیا کہ آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس سے خوش اور راضی نہیں ہو کہ جب سب لوگ غنیمت کا مال لے کر اپنے گھروں کو واپس ہوں اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیے اپنے گھروں کو جاؤ گے؟ انصار جس نالے یا گھاٹی میں چلیں گے تو میں بھی اسی نالے یا گھاٹی میں چلوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 3778]
ابو تیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو غنیمت کا سارا مال دے دیا تو انصار نے کہا: ”اللہ کی قسم! یقینا یہ عجیب بات ہے کہ ابھی ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے کہ ہمارا مال غنیمت انہی کو دیا جا رہا ہے۔“ جب یہ خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور فرمایا: ”اس خبر کی کیا حقیقت ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟“ وہ (انصار) جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ انہوں نے کہا: ”آپ کو صحیح اطلاع ملی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ تو اپنے گھروں کو مالِ غنیمت لے کر جائیں اور تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لیے اپنے گھروں کو جاؤ؟ اگر انصار کسی میدان یا نشیبی علاقے میں چلیں تو میں بھی انصار کے ساتھ اس میدان یا گھاٹی میں چلوں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 3778]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4331
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا رُؤَسَاؤُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتَجِدُونَ أُثْرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ"، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ يَصْبِرُوا.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، بیان کیا کہ جب قبیلہ ہوازن کے مال میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دینا تھا وہ دیا تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو سو اونٹ دے دئیے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول کی مغفرت کرے، قریش کو تو آپ عنایت فرما رہے ہیں اور ہم کو آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں میں آئی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا، ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو بھی آپ نے نہیں بلایا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ البتہ ہمارے کچھ لوگ جو ابھی نوعمر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، قریش کو آپ دے رہے ہیں اور ہمیں آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ تو مال و دولت لے جائیں اور تم نبی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس وقت صبر کرنا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوض کوثر پر ملوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن انصار نے صبر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4331]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوازن کے اموال بطور انعام عطا فرمائے تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو، سو اونٹ دینا شروع کر دیے۔ انصار نے کہا: ”اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاف فرمائے، آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر دیا ہے، حالانکہ ابھی ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے؟“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی گفتگو بیان کی گئی تو آپ نے انصار کی طرف پیغام بھیج کر چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا۔ آپ نے ان کے ہمراہ کسی اور کو نہ بلایا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟“ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی، البتہ ہمارے کچھ نوخیز لڑکوں نے کہا ہے: ”اللہ تعالیٰ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مغفرت کرے، آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ابھی ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے؟“ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ، میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح ان کی دل جوئی کرنا میرا مقصد ہے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو مال و دولت لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔“ انصار نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس پر خوش ہیں۔ اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، اس وقت صبر سے کام لینا حتیٰ کہ قیامت کے دن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرو۔ یقیناً میں حوضِ کوثر پر ہوں گا۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن انصار نے صبر سے کام نہ لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4332
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، فَغَضِبَتْ الْأَنْصَارُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں (حنین کی) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4332]
حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس روز مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں اموالِ غنیمت تقسیم کیے تو انصار غضبناک ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر جاؤ؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4333
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ، وَالطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ"، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَعْدَيْكَ، لَبَّيْكَ نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ"، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالُوا: فَدَعَاهُمْ، فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَاخْتَرْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد سمان نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عون نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین میں جب قبیلہ ہوازن سے جنگ شروع ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار فوج تھی۔ قریش کے وہ لوگ بھی ساتھ تھے جنہیں فتح مکہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا پھر سب نے پیٹھ پھیر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا: اے انصاریو! انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ! آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کے سامنے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر مشرکین کی ہار ہو گئی۔ جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا لیکن انصار کو کچھ نہیں دیا۔ اس پر انصار رضی اللہ عنہم نے اپنے غم کا اظہار کیا تو آپ نے انہیں بلایا اور ایک خیمہ میں جمع کیا پھر فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ بکری اور اونٹ اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں اور انصار دوسری گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4333]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جس روز غزوہ حنین تھا، ہوازن کے لوگ مسلمانوں کے مقابلے میں آئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دس ہزار کی نفری اور طلقاء بھی تھے۔ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی: ”اے انصار کی جماعت!“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں اور آپ کی مدد کو آ گئے ہیں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم (اپنی سواری سے) اترے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ جب مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلقاء اور مہاجرین کو اموال دیے اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ انہوں نے جو کچھ کہنا تھا کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک خیمے میں جمع کر کے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ وغیرہ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کوئی پہاڑی راستہ اختیار کریں تو میں انصار کا پہاڑی راستہ اختیار کروں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4333]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4334
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کچھ لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ قریش کے کفر کا اور ان کی بربادیوں کا زمانہ قریب ہے۔ میرا مقصد صرف ان کی دلجوئی اور تالیف قلب تھا۔ کیا تم اس پر راضی اور خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا اپنے ساتھ لے کر جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھر لے جاؤ؟ سب انصاری بولے، کیوں نہیں (ہم اسی پر راضی ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر دوسرے لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4334]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کر کے فرمایا: ”قریش ابھی نو مسلم اور تازہ مصیبت اٹھائے ہوئے ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ مال غنیمت سے ان کی دل جوئی کروں۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ دوسرے لوگ تو دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اپنے گھروں کی طرف لوٹو؟“ انہوں نے عرض کی: ہم تو اس پر راضی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دوسرے لوگ وادی کے اندر چلیں اور انصار پہاڑی راستہ منتخب کریں تو میں بھی انصار کی وادی یا گھاٹی ہی کو اختیار کروں گا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِنَعَمِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمِنَ الطُّلَقَاءِ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ، فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا، الْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ"، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ"، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ، فَنَزَلَ، فَقَالَ:" أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ"، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِذَا كَانَتْ شَدِيدَةٌ، فَنَحْنُ نُدْعَى وَيُعْطَى الْغَنِيمَةَ غَيْرُنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَسَكَتُوا، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ"، وَقَالَ هِشَامٌ: قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ وَأَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ، قَالَ: وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ؟.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے، ان سے ہشام بن زید بن انس بن مالک نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حنین کا دن ہوا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان اپنے مویشی اور بال بچوں کو ساتھ لے کر جنگ کے لیے نکلے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار کا لشکر تھا۔ ان میں کچھ لوگ وہ بھی تھے، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا، پھر ان سب نے پیٹھ پھیر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا رہ گئے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ پکارا دونوں پکار ایک دوسرے سے الگ الگ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں طرف متوجہ ہو کر پکارا: اے انصاریو! انہوں نے جواب دیا ہم حاضر ہیں: یا رسول اللہ! آپ کو بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں، لڑنے کو تیار ہیں۔ پھر آپ بائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی، اے انصاریو! انہوں نے ادھر سے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں، یا رسول اللہ! بشارت ہو، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک سفید خچر پر سوار تھے پھر آپ اتر گئے اور فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ انجام کار کافروں کو ہار ہوئی اور اس لڑائی میں بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہاجرین میں اور قریشیوں میں تقسیم کر دیا (جنہیں فتح مکہ کے موقع پر احسان رکھ کر چھوڑ دیا تھا) انصار کو ان میں سے کچھ نہیں عطا فرمایا۔ انصار (کے بعض نوجوانوں) نے کہا کہ جب سخت وقت آتا ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت دوسروں کو تقسیم کر دی جاتی ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے انصار کو ایک خیمہ میں جمع کیا اور فرمایا اے انصاریو! کیا وہ بات صحیح ہے جو تمہارے بارے میں مجھے معلوم ہوئی ہے؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصاریو! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہ کو اپنے گھر لے جاؤ۔ انصاریوں نے عرض کیا ہم اسی پر خوش ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا۔ اس پر ہشام نے پوچھا: اے ابوحمزہ! کیا آپ وہاں موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غائب ہی کب ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4337]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب حنین کی لڑائی ہوئی تو ہوازن، غطفان اور ان کے علاوہ دیگر قبائل اپنے جانوروں اور اہل و عیال سمیت آئے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دس ہزار کی نفری اور کچھ طلقاء تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آوازیں دیں جن میں کوئی خلط ملط نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے گروہ انصار!“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فکر نہ کریں، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے گروہ انصار!“ انصار نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم فکر نہ کریں، ہم حاضر ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفید خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے اتر کر فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ بالآخر مشرکین شکست کھا گئے۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سا مالِ غنیمت پایا اور وہ مہاجرین اور طلقاء میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا۔ انصار نے کہا: ”جب کوئی سخت مصیبت آتی ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے اور غنیمت کا مال ہمارے علاوہ دوسروں کو دیا جاتا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خیمے میں جمع کر کے فرمایا: ”اے جماعتِ انصار! وہ کیا بات ہے جو مجھے پہنچی ہے؟“ وہ خاموش ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو دنیا لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کا رسول لے کر جاؤ؟“ انہوں نے عرض کی: ”کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں۔“ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی گھاٹی کو اختیار کریں تو میں انصار کا پہاڑی راستہ لوں گا۔“ (راوی حدیث) حضرت ہشام رحمہ اللہ نے کہا: ”ابو حمزہ! کیا آپ وہاں حاضر تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں وہاں سے غائب کب ہوا تھا؟“ [صحيح البخاري/كتاب المساقاة/حدیث: 4337]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة