🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ الدُّعَاءِ بِالْجِهَادِ وَالشَّهَادَةِ لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ:
باب: جہاد اور شہادت کے لیے مرد اور عورت دونوں کا دعا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2788
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا، قَالَ: فِي الْأَوَّلِ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا امام مالک سے ‘ انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے جایا کرتے تھے (یہ انس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں) ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں ‘ اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ‘ جب بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے کے لیے دریا کے بیچ میں سوار اس طرح جا رہے ہیں جس طرح بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا جیسے بادشاہ تخت رواں پر سوار ہوتے ہیں یہ شک اسحاق راوی کو تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ دعا فرمایئے کہ اللہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے ‘ اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کئے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں پہلے کی طرح ‘ اس مرتبہ بھی فرمایا انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہیں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تو سب سے پہلی فوج میں شامل ہو گی (جو بحری راستے سے جہاد کرے گی) چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ام حرام رضی اللہ عنہا نے بحری سفر کیا پھر جب سمندر سے باہر آئیں تو ان کی سواری نے انہیں نیچے گرا دیا اور اسی حادثہ میں ان کی وفات ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2788]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلایا پلایا کرتی تھیں۔ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔ فراغت کے بعد وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آگئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ خواب میں میرے سامنے لائے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی تھے اور سمندر کے وسط میں اپنی سواریوں پر سوار تھے، جیسے بادشاہ اپنے تختوں پر ہوتے ہیں یا بادشاہوں کی طرح تختوں پر براجمان ہیں۔ الفاظ کا یہ شک راویِ حدیث اسحاق کو ہوا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ اس مرتبہ بھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اس طرح پیش کیے گئے کہ وہ اللہ کی راہ میں جنگ لڑنے کے لیے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بحری سفر اختیار کیا۔ جب وہ سمندر سے باہر نکلیں تو اپنی سواری سے گر کر ہلاک (شہید) ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2788]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، يَتَبَسَّمُ، فَقُلْتُ: مَا أَضْحَكَكَ، قَالَ: أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَقَالَتْ: مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا، فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آپ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کیا (بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے) ام حرام رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا آپ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو ام حرام رضی اللہ عنہا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہو جائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2799]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی خالہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ کس وجہ سے ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اس سبز سمندر پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ اللہ سے دعا کریں وہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر دوبارہ سو گئے تو پہلی مرتبہ کی طرح کیا اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے بھی پہلی مرتبہ کی طرح عرض کیا جس کا جواب آپ نے پہلی مرتبہ کی طرح دیا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں جبکہ مسلمان پہلی مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے۔ جب وہ غزوے سے واپس آئے تو شام میں پڑاؤ کیا۔ اس دوران میں ایک سواری ان (حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا) کے قریب کی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں لیکن اس سواری نے انہیں زمین پر گرا دیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2877
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَتْ: لِمَ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ لَهُ: مِثْلَ أَوْ مِمَّ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَلَسْتِ مِنَ الْآخِرِينَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَةَ فَلَمَّا، قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ عَنْهَا فَمَاتَتْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے، ہم سے ابواسحاق نے ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہو گی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لیا اور بنت قرظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گر گئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2877]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں تکیہ لگا کر سو گئے۔ پھر (جب اٹھے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ انہوں (حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا) نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہیں، جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» اے اللہ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ (لیٹ کر اٹھے تو) مسکرا رہے تھے تو انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح جواب دیا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کریں کہ اللہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں ہو چکی ہے، بعد والوں میں تیری شرکت نہیں ہو گی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور بنت قرظہ کے ساتھ انہوں نے سمندر کا سفر کیا۔ جب واپس آئیں تو اپنی سواری پر سوار ہوئیں، ان کی سواری اچھلی تو اس سے گر پڑیں اور فوت ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَوْمًا فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُضْحِكُكَ، قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَيَقُولُ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد) گر پڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2894]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جو جہاد کے لیے سمندر میں اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں کے ساتھ ہو گی۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو وہ انہیں بحری غزوے میں اپنے ساتھ لے گئے۔ واپسی کے وقت جب وہ سوار ہونے کے لیے اپنی سواری کے قریب ہوئیں تو سوار ہوتے ہی گر پڑیں، جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور انہوں نے شہادت کی موت پائی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6282
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ: مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، شَكَّ إِسْحَاقُ، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ"، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔ عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے (خواب میں) پیش کئے گئے، جو اس سمندر کے اوپر (کشتیوں میں) سوار ہوں گے (جنت میں وہ ایسے نظر آئے) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا (ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے (معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6282]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں۔ اور حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ وہ اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ یا فرمایا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر ہیں اسحاق راوی کو ان الفاظ میں شک ہے۔ میں نے عرض کی: دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں کر دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر مسکرا رہے تھے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ وہ اس سمندر پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر ہیں۔ میں نے عرض کی: آپ اللہ سے میرے لیے دعا کر دیں کہ مجھے بھی ان میں کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ چنانچہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6282]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7001
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا، فَأَطْعَمَتْهُ، وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7001]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ چنانچہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا اور (عورتوں کی عادت کے مطابق) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں۔ اس دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7001]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2800
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، قَالَتْ: نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، يَتَبَسَّمُ، فَقُلْتُ: مَا أَضْحَكَكَ، قَالَ: أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا، فَقَالَتْ: مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا، فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ان کی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آپ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کیا (بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے) ام حرام رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا آپ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو ام حرام رضی اللہ عنہا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہو جائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2800]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس وجہ سے ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اس سبز سمندر پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کریں وہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر دوبارہ سو گئے تو پہلی مرتبہ کی طرح کیا اور ام حرام رضی اللہ عنہا نے بھی پہلی مرتبہ کی طرح عرض کیا جس کا جواب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ کی طرح دیا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں سے ہے۔ چنانچہ وہ اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں جبکہ مسلمان پہلی مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے۔ جب وہ غزوے سے واپس آئے تو شام میں پڑاؤ کیا۔ اس دوران میں ایک سواری ان (ام حرام رضی اللہ عنہا) کے قریب کی گئی تاکہ وہ اس پر سوار ہوں لیکن اس سواری نے انہیں زمین پر گرا دیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2800]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2878
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَتْ: لِمَ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ لَهُ: مِثْلَ أَوْ مِمَّ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَلَسْتِ مِنَ الْآخِرِينَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَةَ فَلَمَّا، قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ عَنْهَا فَمَاتَتْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے، ہم سے ابواسحاق نے ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہو گی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کر لیا اور بنت قرظ معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گر گئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2878]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے ہاں تکیہ لگا کر سو گئے۔ پھر (جب اٹھے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے (ام حرام رضی اللہ عنہا) پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہیں، جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ» اے اللہ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ (لیٹ کر اٹھے تو) مسکرا رہے تھے تو انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح جواب دیا۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کریں کہ اللہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پہلے لوگوں میں ہو چکی ہے، بعد والوں میں تیری شرکت نہیں ہوگی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا اور بنت قرظہ کے ساتھ انہوں نے سمندر کا سفر کیا۔ جب واپس آئیں تو اپنی سواری پر سوار ہوئیں، ان کی سواری اچھلی تو اس سے گر پڑیں اور فوت ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2878]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَرَامٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَوْمًا فِي بَيْتِهَا فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُضْحِكُكَ، قَالَ: عَجِبْتُ مِنْ قَوْمٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: أَنْتِ مِنْهُمْ ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَيَقُولُ أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ فَتَزَوَّجَ بِهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَخَرَجَ بِهَا إِلَى الْغَزْوِ، فَلَمَّا رَجَعَتْ قُرِّبَتْ دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَوَقَعَتْ فَانْدَقَّتْ عُنُقُهَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کس بات پر آپ ہنس رہے ہیں؟ فرمایا مجھے اپنی امت میں ایک ایسی قوم کو (خواب میں دیکھ کر) خوشی ہوئی جو سمندر میں (غزوہ کے لیے) اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی وہ ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین دفعہ ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ ان کو (اسلام کے سب سے پہلے بحری بیڑے کے ساتھ) غزوہ میں لے گئے، واپسی میں سوار ہونے کے لیے اپنی سواری سے قریب ہوئیں (سوار ہوتے ہوئے یا سوار ہونے کے بعد) گر پڑیں جس سے آپ کی گردن ٹوٹ گئی اور شہادت کی موت پائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2895]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ان کے گھر تشریف لا کر قیلولہ فرمایا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت سے ایسے لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی جو جہاد کے لیے سمندر میں اس طرح جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر فروکش ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی ان میں سے ہو۔ اس کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر ہنس رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی وہی بات بتائی۔ ایسا دو یا تین مرتبہ ہوا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں کے ساتھ ہو گی۔ چنانچہ انھوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو وہ انھیں بحری غزوے میں اپنے ساتھ لے گئے۔ واپسی کے وقت جب وہ سوار ہونے کے لیے اپنی سواری کے قریب ہوئیں تو سوار ہوتے ہی گر پڑیں، جس سے ان کی گردن ٹوٹ گئی (اور انھوں نے شہادت کی موت پائی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2964
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَقَدْ أَتَانِي الْيَوْمَ رَجُلٌ فَسَأَلَنِي عَنْ أَمْرٍ مَا دَرَيْتُ مَا أَرُدُّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا مُؤْدِيًا نَشِيطًا يَخْرُجُ مَعَ أُمَرَائِنَا فِي الْمَغَازِي، فَيَعْزِمُ عَلَيْنَا فِي أَشْيَاءَ لَا نُحْصِيهَا، فَقُلْتُ لَهُ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنَّا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَسَى أَنْ لَا يَعْزِمَ عَلَيْنَا فِي أَمْرٍ إِلَّا مَرَّةً حَتَّى نَفْعَلَهُ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَنْ يَزَالَ بِخَيْرٍ مَا اتَّقَى اللَّهَ، وَإِذَا شَكَّ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ سَأَلَ رَجُلًا فَشَفَاهُ مِنْهُ، وَأَوْشَكَ أَنْ لَا تَجِدُوهُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا أَذْكُرُ مَا غَبَرَ مِنَ الدُّنْيَا، إِلَّا كَالثَّغْبِ شُرِبَ صَفْوُهُ وَبَقِيَ كَدَرُهُ.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس ایک شخص آیا، اور ایسی بات پوچھی کہ میری کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کیا دوں۔ اس نے پوچھا، مجھے یہ مسئلہ بتائیے کہ ایک شخص بہت ہی خوش اور ہتھیار بند ہو کر ہمارے امیروں کے ساتھ جہاد کے لیے جاتا ہے۔ پھر وہ امیر ہمیں ایسی چیزوں کا مکلف قرار دیتے ہیں کہ ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں نے کہا، اللہ کی قسم! میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہاری بات کا جواب کیا دوں، البتہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی معاملہ میں صرف ایک مرتبہ حکم کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہم فوراً ہی اسے بجا لاتے تھے، یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ تم لوگوں میں اس وقت تک خیر رہے گی جب تک تم اللہ سے ڈرتے رہو گے، اور اگر تمہارے دل میں کسی معاملہ میں شبہ پیدا ہو جائے (کہ کیا چاہئے یا نہیں) تو کسی عالم سے اس کے متعلق پوچھ لو تاکہ تشفی ہو جائے، وہ دور بھی آنے والا ہے کہ کوئی ایسا آدمی بھی (جو صحیح صحیح مسئلے بتا دے) تمہیں نہیں ملے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! جتنی دنیا باقی رہ گئی ہے وہ وادی کے اس پانی کی طرح ہے جس کا صاف اور اچھا حصہ تو پیا جا چکا ہے اور گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2964]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: آج میرے پاس ایک آدمی آیا اور ایک مسئلہ پوچھا لیکن میں نے سمجھا کہ اس کا کیا جواب دوں؟ اس نے کہا: آپ بتائیں کہ ایک تندرست و توانا آدمی جو ہتھیاروں سے آراستہ ہے، وہ ہمارے امراء کے ساتھ جہاد میں جاتا ہے مگر وہ چند باتوں میں ایسے احکام دیتے ہیں جن پر ہم عمل پیرا نہیں ہو سکتے، میں نے اس سے کہا: اللہ کی قسم! میری سمجھ سے باہر ہے، میں اس کے سوا تجھے کیا جواب دوں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جاتے تھے تو آپ ہمیں ایک مرتبہ حکم فرماتے جس کو ہم کر لیا کرتے تھے۔ اور بے شک تم میں سے ہر شخص نیکی پر رہے گا جب تک وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے گا، لیکن اگر اس کے دل میں کسی بات کا کھٹکا ہو تو وہ کسی ایسے شخص سے دریافت کرے جو اس کی تشفی کر دے۔ اور ایسا وقت بھی آنے والا ہے کہ تمہیں ایسا شخص نہیں مل سکے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں! جتنی دنیا باقی ہے، اس کی بابت میں یہ کہتا ہوں کہ وہ ایک حوض کی طرح ہے جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہے اور گدلا پانی باقی رہ گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6283
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ: مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، شَكَّ إِسْحَاقُ، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، فَقُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ"، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔ عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے (خواب میں) پیش کئے گئے، جو اس سمندر کے اوپر (کشتیوں میں) سوار ہوں گے (جنت میں وہ ایسے نظر آئے) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا (ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے (معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6283]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء جاتے تو حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ وہ اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ یا فرمایا: وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر ہیں۔ (اسحاق راوی کو ان الفاظ میں شک ہے)۔ میں نے عرض کی: دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں کر دے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو پھر مسکرا رہے تھے، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت سے کچھ لوگ مجھ پر پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ وہ اس سمندر پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں یا وہ بادشاہوں کی طرح تختوں پر ہیں۔ میں نے عرض کی: آپ اللہ سے میرے لیے دعا کر دیں کہ مجھے بھی ان میں کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے لوگوں میں سے ہو۔ چنانچہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6283]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7002
قَالَتْ: فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، شَكَّ إِسْحَاقُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقُلْتُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَا قَالَ فِي الْأُولَى، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ"، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.
انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے پیش کئے گئے، اس دریا کی پشت پر، وہ اس طرح سوار ہیں جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں۔ اسحاق کو شک تھا (حدیث کے الفاظ «ملوكا على الأسرة» تھے یا «مثل الملوك على الأسرة» انہوں نے کہا کہ میں نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی پھر آپ نے سر مبارک رکھا (اور سو گئے) پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے پیش کئے گئے۔ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی۔ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا، معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سمندری سفر پر گئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7002]
انہوں نے کہا: میں نے آپ سے دریافت کیا: اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں، وہ سمندر کے وسط میں اس طرح سوار ہیں، گویا تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ ہیں۔ ام ملحان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی مرتبہ فرمایا تھا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! دعا فرمائیں مجھے بھی اللہ ان میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی۔ چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندری سفر پر روانہ ہوئیں اور جب سمندر سے باہر آئیں تو سواری سے گر کر شہید ہو گئیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 7002]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں