صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب ما لقي النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه من المشركين بمكة:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مکہ میں مشرکین کے ہاتھوں جن مشکلات کا سامنا کیا ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَوْ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، قَالَ: سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مَا أَمْرُهُمَا وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الأنعام آية 151 ,وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ"، قَالَ: مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ , وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ , وَقَدْ أَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ سورة مريم آية 60 الْآيَةَ , فَهَذِهِ لِأُولَئِكَ , وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ: الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ ثُمَّ قَتَلَ , فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ , فَذَكَرْتُهُ لِمُجَاهِدٍ، فَقَالَ:" إِلَّا مَنْ نَدِمَ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا یا (منصور نے) اس طرح بیان کیا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دونوں آیتوں کے متعلق پوچھو کہ ان میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے (ایک آیت «ولا تقتلوا النفس التي حرم الله» اور دوسری آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ جب سورۃ الفرقان کی آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا ہم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی «إلا من تاب وآمن» ”وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں“ تو یہ آیت ان کے حق میں نہیں ہے لیکن سورۃ النساء کی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام اور شرائع اسلام کے احکام جان کر بھی کسی کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے۔ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس ارشاد کا ذکر مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3855]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دونوں آیات میں مطابقت کے متعلق سوال کرو: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے“، دوسری آیت: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جس نے کسی مسلمان کو دانستہ قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے۔““ چنانچہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”جب سورہ فرقان کی آیت نازل ہوئی تو مشرکینِ مکہ نے کہا: ہم نے ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا۔ ہم تو اللہ کے سوا دوسرے معبودانِ باطلہ کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ﴾ [سورة الفرقان: 70] ”کہ جو لوگ توبہ کر لیں اور ایمان لائیں“ تو وہ اس حکم میں شامل نہیں ہیں، یعنی یہ آیت مشرکینِ مکہ کے لیے ہے۔ اور جو آیت سورہ نساء میں ہے وہ اس شخص کے لیے ہے جو اسلام اور اس کے حکم کو جاننے پہچاننے کے بعد کسی کو دانستہ قتل کرتا ہے تو اس کی سزا ابدی جہنم ہے۔“ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا موقف جب امام مجاہد رحمہ اللہ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4590
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ:" آيَةٌ اخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَرَحَلْتُ فِيهَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 هِيَ آخِرُ مَا نَزَلَ وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، کہا میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ علماء کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا تھا۔ چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں اس کے لیے سفر کر کے گیا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ”اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا دوزخ ہے۔“ نازل ہوئی اور اس باب کی یہ سب سے آخری آیت ہے اسے کسی آیت نے منسوخ نہیں کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4590]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اس آیت کے متعلق علمائے کوفہ کا اختلاف ہو گیا تھا، تو میں اس کے لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفر کر کے حاضر ہوا اور اس کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ آیت ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی سزا دوزخ ہے“ اس موضوع سے متعلق آخری آخری ہے، اسے کسی دوسری آیت نے منسوخ نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4590]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4762
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ:" أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، هَلْ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، فَقَالَ سَعِيدٌ: قَرَأْتُهَا عَلَىابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا قَرَأْتَهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ الَّتِي فِي سُورَةِ النِّسَاءِ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ (ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» کہ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4762]
حضرت قاسم بن ابو بزہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ”اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کے لیے توبہ ہے؟“ اور میں نے ان کے سامنے یہ آیت بھی پڑھی: ﴿وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”وہ کسی کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے۔“ حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے بھی یہ آیت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے اسی طرح پڑھی تھی جیسے تو نے میرے سامنے اسے پڑھا ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ آیت مکی ہے، اس کو سورہ نساء کی مدنی آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4764
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: لَا تَوْبَةَ لَهُ، وَعَنْ قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: كَانَتْ هَذِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ".
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «فجزاؤه جهنم» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد «لا يدعون مع الله إلها آخر» کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4764]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”(جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے) اس کی سزا جہنم ہے۔“ کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس قاتل کی کوئی توبہ نہیں“ اور دوسری آیت ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں...“ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ دورِ جاہلیت کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4764]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4765
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبْزَى، سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى:"وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93، وَقَوْلِهِ: وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 حَتَّى بَلَغَ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 68 - 69، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ، قَالَ أَهْلُ مَكَّةَ: فَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة الفرقان آية 70".
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ان سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے۔“ اور سورۃ الفرقان کی آیت «لا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» ”اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ“ «إلا من تاب» تک، میں نے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کئے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا» کہ ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے“ تک۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4765]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عبدالرحمن بن ابی ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت ﴿جو کسی مومن کو قصداً قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے﴾ [سورة النساء: 93] اور آیت ﴿اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہو مگر حق کے ساتھ﴾ [سورة الفرقان: 68] کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا: ہم نے تو اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرائے ہیں اور ناحق قتل بھی کیے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا ارتکاب بھی کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ﴿ہاں جو شخص توبہ کر لے، ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے (تو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور) اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا انتہائی مہربان ہے﴾ [سورة الفرقان: 70] ۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4765]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4766
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ وَعَنْ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں یعنی «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ”اور جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا“ الخ۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کسی چیز سے بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ (اور دوسری آیت جس کے) بارے میں مجھے انہوں نے پوچھنے کا حکم دیا وہ یہ تھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» ”اور جو لوگ کسی معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے“ آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4766]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مجھے حضرت عبدالرحمٰن بن ابزٰی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے درج ذیل دو آیات کے متعلق سوال کروں: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جو کسی مومن کو قصداً قتل کرتا ہے تو اس کی سزا جہنم ہے۔“ میں نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت کسی دوسری آیت سے منسوخ نہیں ہوئی“۔ اور دوسری آیت: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے“ کے متعلق پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ آیت تو مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی“۔“ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة