🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب قوله: {كأنه جمالات صفر} :
باب: آیت کی تفسیر ”گویا کہ وہ انگارے پیلے پیلے رنگ والے اونٹ ہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4933
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ، قَالَ:" كُنَّا نَعْمِدُ إِلَى الْخَشَبَةِ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ، كَأَنَّهُ جِمَالَاتٌ صُفْرٌ حِبَالُ السُّفُنِ، تُجْمَعُ حَتَّى تَكُونَ كَأَوْسَاطِ الرِّجَالِ".
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، آیت «ترمي بشرر‏ كالقصر» کے متعلق۔ آپ نے فرمایا کہ ہم تین ہاتھ یا اس سے بھی لمبی لکڑیاں اٹھا کر جاڑوں کے لیے رکھ لیتے تھے۔ ایسی لکڑیوں کو ہم «قصر‏.‏» کہتے تھے، «كأنه جمالات صفر‏» سے مراد کشتی کی رسیاں ہیں جو جوڑ کر رکھی جائیں، وہ آدمی کی کمر برابر موٹی ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4933]
عبد الرحمن بن عابس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو آیت ﴿تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ﴾ [سورة المرسلات: 32] کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: ہم تین تین ہاتھ یا اس سے بھی زیادہ لمبی لکڑیاں سردی کے موسم کے لیے اٹھا کر رکھ لیتے تھے اور ہم ایسی لکڑیوں کو «الْقَصْر» کہتے تھے۔ اور آیت ﴿كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ﴾ [سورة المرسلات: 33] سے مراد کشتی کی وہ رسیاں ہیں جنہیں جوڑ جوڑ کر رکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ آدمی کی کمر کے برابر ہو جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4933]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصَرِ، قَالَ:" كُنَّا نَرْفَعُ الْخَشَبَ بِقَصَرٍ ثَلَاثَةَ أَذْرُعِ، أَوْ أَقَلَّ، فَنَرْفَعُهُ لِلشِّتَاءِ، فَنُسَمِّيهِ الْقَصَرَ".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے (تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں) اور ان کا نام «قصر‏.‏» رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4932]
حضرت عبد الرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو آیت ﴿إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ﴾ [سورة المرسلات: 32] کی تفسیر کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا: ہم تین تین ہاتھ یا اس سے بھی کم مقدار کی لکڑیاں سردیوں کے دنوں میں اٹھا کر رکھ لیتے تھے اور ہم ایسی لکڑیوں کو «الْقَصْرُ» کہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں