صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. باب الجعد:
باب: گھونگھریالے بالوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5900
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَيْسَ بِالْآدَمِ، وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلَا بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ان سے سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت لمبے نہیں تھے اور نہ آپ چھوٹے قد کے ہی تھے (بلکہ آپ کا بیچ والا قد تھا) نہ آپ بالکل سفید بھورے تھے اور نہ گندم گوں ہی تھے، آپ کے بال گھونگھریالے الجھے ہوئے نہیں تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا دس سال آپ نے (نبوت کے بعد) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5900]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”نہ تو انتہائی دراز قد تھے اور نہ بہت پست قامت، نہ بہت سفید رنگت والے اور نہ گندم گوں تھے۔ آپ کے بال سخت پیچ دار الجھے ہوئے نہ تھے اور نہ بالکل سیدھے ہی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا، پھر دس سال تک مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال ہی مدینہ طیبہ میں ٹھہرے۔ تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں آپ کو وفات دی، اس وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5900]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3547
حَدَّثَنِي ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍيَصِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ لَيْسَ بِأَبْيَضَ أَمْهَقَ، وَلَا آدَمَ لَيْسَ بِجَعْدٍ قَطَطٍ وَلَا سَبْطٍ رَجِلٍ أُنْزِلَ عَلَيْهِ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ فَلَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ وَقُبِضَ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعَرَةً بَيْضَاءَ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَرَأَيْتُ شَعَرًا مِنْ شَعَرِهِ فَإِذَا هُوَ أَحْمَرُ فَسَأَلْتُ، فَقِيلَ: احْمَرَّ مِنَ الطِّيبِ".
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف مبارکہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے۔ نہ بہت لمبے اور نہ چھوٹے قد والے۔ رنگ کھلتا ہوا تھا (سرخ و سفید) نہ خالی سفید تھے اور نہ بالکل گندم گوں۔ آپ کے بال نہ بالکل مڑے ہوئے سخت قسم کے تھے اور نہ سیدھے لٹکے ہوئے ہی تھے۔ نزول وحی کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔ مکہ میں آپ نے دس سال تک قیام فرمایا اور اس پورے عرصہ میں آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی آپ کا قیام دس سال تک رہا۔ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے۔ ربیعہ (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال دیکھا تو وہ لال تھا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ خوشبو لگاتے لگاتے لال ہو گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3547]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدمیوں میں متوسط تھے، نہ دراز قد اور نہ پست قامت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ چمک دار تھا، نہ خالص سفید اور نہ نرا گندمی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بھی درمیانے درجے کے تھے، نہ سخت پیچ دار (گھنگریالے) اور نہ بہت سیدھے۔ چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال مکہ میں رہے وحی نازل ہوتی رہی اور دس برس مدینہ میں رہے۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے۔ (راویِ حدیث) ربیعہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے ایک بال دیکھا تو وہ سرخ تھا۔ میں نے پوچھا تو کہا گیا کہ یہ بال خوشبو کے استعمال سے سرخ ہو گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3547]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3548
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَيْسَ بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، فَتَوَفَّاهُ اللَّهُ وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے، نہ بالکل سفید تھے اور نہ گندمی رنگ کے۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دس سال تک قیام کیا اور مدینہ میں دس سال تک قیام کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی تو آپ کے سر اور داڑھی کے بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3548]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ دراز قد تھے نہ پست قامت، جبکہ آپ کا قد درمیانہ تھا۔ آپ کا رنگ نہ تو چونے کی طرح خالص سفید تھا اور نہ گندمی کہ سانولا نظر آئے، بلکہ گورا چمکدار تھا۔ آپ کے بال نہ زیادہ پیچ دار (گھنگریالے) اور نہ بالکل سیدھے تنے ہوئے، بلکہ ہلکا سا خم لیے ہوئے تھے۔ آپ پر وحی کا آغاز چالیس برس کی عمر میں ہوا۔ پھر اس کے بعد آپ دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا، وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں بمشکل بیس بال سفید تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3548]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3549
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا وَأَحْسَنَهُ خَلْقًا لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ".
ہم سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور جسمانی ساخت میں بھی سب سے بہتر تھے۔ آپ کا قد نہ بہت لانبا تھا اور نہ چھوٹا (بلکہ درمیانہ قد تھا)۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3549]
حضرت ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوب رو اور جسمانی اعتبار سے نہایت متناسب الاعضاء تھے۔ آپ نہ تو بہت دراز قامت اور نہ ہی پست قد تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3549]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3550
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا هَلْ خَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا إِنَّمَا كَانَ شَيْءٌ فِي صُدْغَيْهِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب بھی استعمال فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب نہیں لگایا۔ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں کنپٹیوں پر (سر میں) چند بال سفید تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3550]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خضاب بھی استعمال کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، صرف آپ کی کنپٹیوں میں کچھ سفیدی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 3550]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5906
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ شَعَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجِلًا لَا جَعْدَ وَلَا سَبِطَ".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ جیسا (خوبصورت کوئی آدمی) نہیں دیکھا آپ کے سر کے بال میانہ تھے نہ گھونگھریالے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5906]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھ گوشت سے بھرے ہوئے تھے۔ میں نے آپ کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قدرے خمیدہ تھے، نہ تو بہت شکن دار تھے اور نہ انتہائی سیدھے ہی تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5906]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5907
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْيَدَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ حَسَنَ الْوَجْهِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ وَلَا قَبْلَهُ مِثْلَهُ، وَكَانَ بَسِطَ الْكَفَّيْنِ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کی، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں بھرے ہوئے تھے۔ چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ جیسا خوبصورت کوئی نہ پہلے دیکھا اور نہ بعد میں، آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5907]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک گوشت سے پر تھے۔ میں نے آپ جیسا (خوبصورت) کوئی نہ پہلے دیکھا ہے اور نہ بعد میں۔ آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5907]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5912
وَقَالَ أَبُو هِلَالٍ 9، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَخْمَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهُ شَبَهًا لَهُ".
اور ابوہلال نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ یا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے ہوئے تھے، آپ جیسا پھر میں نے کوئی خوبصورت آدمی نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5912]
حضرت انس رضی اللہ عنہ یا حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھلیاں اور قدم مبارک گوشت سے بھرے ہوئے تھے، ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا (خوبصورت) کوئی آدمی نہیں دیکھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب اللباس/حدیث: 5912]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة