صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب: {وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله} :
باب: آیت «وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله» الخ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 6620
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَخْبَرَنَا جَريِرٌ هُوَ ابْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاء بْنِ عَازِب، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَهُوَ يَقُولُ:" وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَالْمُشْرِكُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی جو ابن حازم ہیں، انہیں ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔ ”واللہ، اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے۔ نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ پس اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور جب سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 6620]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2836
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ، وَيَقُولُ:"لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (خندق کھودتے ہوئے مٹی) اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ”(اے اللہ!) اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔“ یعنی تو ہدایت گر نہ ہوتا تو نہ ملتی ہم کو راہ۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں (خندق کھودتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (جسم مبارک پر) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر (دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو فتنہ فساد میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“ آپ یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4104
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ التُّرَابَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى أَغْمَرَ بَطْنَهُ أَوِ اغْبَرَّ بَطْنُهُ , يَقُولُ:" وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا , وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا , فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا , إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا , إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" , وَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ أَبَيْنَا أَبَيْنَا.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق میں (خندق کی کھدائی کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بطن مبارک غبار سے اٹ گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری تھے ”اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس تو ہمارے دلوں پر سکینت و طمانیت نازل فرما اور اگر ہماری کفار سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عنایت فرما۔ جو لوگ ہمارے خلاف چڑھ آئے ہیں جب یہ کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں مانتے۔ «أبينا أبينا» (ہم ان کی نہیں مانتے۔ ہم ان کی نہیں مانتے) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بلند ہو جاتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 4104]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , يُحَدِّثُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ , وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا , وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا , فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا , إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا , وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا" , قَالَ: ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا.
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے (سینے سے پیٹ تک) گھنے بالوں (کی ایک لکیر) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔“ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4196
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَسِرْنَا لَيْلًا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرٍ: يَا عَامِرُ، أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ؟ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا، فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا أَبْقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَبَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟"، قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" يَرْحَمُهُ اللَّهُ"، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذِهِ النِّيرَانُ؟ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ؟"، قَالُوا: عَلَى لَحْمٍ، قَالَ:" عَلَى أَيِّ لَحْمٍ؟"، قَالُوا: لَحْمِ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا؟، قَالَ:" أَوْ ذَاكَ"، فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا , فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ، فَأَصَابَ عَيْنَ رُكْبَةِ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ، قَالَ: فَلَمَّا قَفَلُوا , قَالَ سَلَمَةُ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ:" مَا لَكَ؟"، قُلْتُ لَهُ: فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ مَنْ قَالَهُ، إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ , قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ". حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، قَالَ: نَشَأَ بِهَا.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔ رات کے وقت ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک صاحب (اسید بن حضیر) نے عامر سے کہا: عامر! اپنے کچھ شعر سناؤ ‘ عامر شاعر تھے۔ اس فرمائش پر وہ سواری سے اتر کر حدی خوانی کرنے لگے۔ کہا ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا ‘ نہ ہم صدقہ کر سکتے اور نہ ہم نماز پڑھ سکتے۔ پس ہماری جلدی مغفرت کر، جب تک ہم زندہ ہیں ہماری جانیں تیرے راستے میں فدا ہیں اور اگر ہماری مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت رکھ ہم پر سکینت نازل فرما، ہمیں جب (باطل کی طرف) بلایا جاتا ہے تو ہم انکار کر دیتے ہیں، آج چلا چلا کر وہ ہمارے خلاف میدان میں آئے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کون شعر کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ عامر بن اکوع ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے تو انہیں شہادت کا مستحق قرار دے دیا ‘ کاش! ابھی اور ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے دیتے۔ پھر ہم خیبر آئے اور قلعہ کا محاصرہ کیا ‘ اس دوران ہمیں سخت تکالیف اور فاقوں سے گزرنا پڑا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جس دن قلعہ فتح ہونا تھا ‘ اس کی رات جب ہوئی تو لشکر میں جگہ جگہ آگ جل رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ آگ کیسی ہے ‘ کس چیز کے لیے اسے جگہ جگہ جلا رکھا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ گوشت پکانے کے لیے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کس جانور کا گوشت ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بتایا کہ پالتو گدھوں کا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام گوشت پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسا نہ کر لیں کہ گوشت تو پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں ہی کر لو پھر (دن میں جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنگ کے لیے) صف بندی کی تو چونکہ عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ‘ اس لیے انہوں نے جب ایک یہودی کی پنڈلی پر (جھک کر) وار کرنا چاہا تو خود انہیں کی تلوار کی دھار سے ان کے گھٹنے کا اوپر کا حصہ زخمی ہو گیا اور ان کی شہادت اسی میں ہو گئی۔ بیان کیا کہ پھر جب لشکر واپس ہو رہا تھا تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا ‘ کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا سارا عمل اکارت ہو گیا (کیونکہ خود اپنی ہی تلوار سے ان کی وفات ہوئی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جھوٹا ہے وہ شخص جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے ‘ انہیں تو دوہرا اجر ملے گا پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا ‘ انہوں نے تکلیف اور مشقت بھی اٹھائی اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا ‘ شاید ہی کوئی عربی ہو ‘ جس نے ان جیسی مثال قائم کی ہو۔ ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے حاتم نے (بجائے «مشى بها» کے) «نشأ بها» نقل کیا یعنی کوئی عرب مدینہ میں عامر رضی اللہ عنہ جیسا نہیں ہوا۔ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 4196]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7236
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَارَى التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا نَحْنُ وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا، إِنَّ الْأُلَى، وَرُبَّمَا قَالَ: الْمَلَا، قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا، إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا أَبَيْنَا"، يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان بن جبلہ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ غزوہ خندق کے دن (خندق کھودتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود ہمارے ساتھ مٹی اٹھایا کرتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ مٹی نے آپ کے پیٹ کی سفیدی کو چھپا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”اگر تو نہ ہوتا (اے اللہ!) تو ہم نہ ہدایت پاتے، نہ ہم صدقہ دیتے، نہ نماز پڑھتے۔ پس ہم پر دل جمعی نازل فرما۔ اس معاندین کی جمات نے ہمارے خلاف حد سے آگے بڑھ کر حملہ کیا ہے۔ جب یہ فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات نہیں مانتے، نہیں مانتے۔ اس پر آپ آواز کو بلند کر دیتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب القدر/حدیث: 7236]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة