صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
167. باب صلاة النساء خلف الرجال:
باب: عورتوں کا مردوں کے پیچھے نماز پڑھنا۔
حدیث نمبر: 875
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْد، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلْمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِى تَسْلِيمَهُ وَهُوَ يَمْكُثُ فِي مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ، قَالَتْ: نُرَى وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لِكَيْ يَنْصَرِفَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ الرِّجَالُ".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے بیان کیا، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 875]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 362
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ، قَالَ: كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِي أُزْرِهِمْ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ، وَقَالَ لِلنِّسَاءِ:" لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، انہوں نے سفیان ثوری سے، انہوں نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا سہل بن سعد ساعدی سے، انہوں نے کہا کہ کئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنی گردنوں پر ازاریں باندھے ہوئے نماز پڑھتے تھے اور عورتوں کو (آپ کے زمانے میں) حکم تھا کہ اپنے سروں کو (سجدے سے) اس وقت تک نہ اٹھائیں جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 362]
حضرت سہل (بن سعد) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی چادریں بچوں کی طرح گردنوں پر گرہ لگائے نماز پڑھتے تھے، چنانچہ مستورات کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ”جب تک لوگ سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں اس وقت تک وہ سجدے سے اپنا سر نہ اٹھائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ عَاقِدُوا أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں سفیان نے ابوحازم سلمہ بن دینار کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں گردنوں سے باندھ کر نماز پڑھتے تھے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ جب تک مرد اچھی طرح بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو (سجدہ سے) نہ اٹھاؤ۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 814]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور چادروں کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں گردنوں سے باندھے ہوتے تھے، چنانچہ عورتوں سے کہہ دیا گیا: ”جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اس وقت تک اپنے سر سجدے سے نہ اٹھاؤ۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 837
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِي تَسْلِيمَهُ، وَمَكَثَ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ مُكْثَهُ لِكَيْ يَنْفُذَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ مَنِ انْصَرَفَ مِنَ الْقَوْمِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب زہری نے ہند بنت حارث سے حدیث بیان کی کہ (ام المؤمنین) ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز سے) سلام پھیرتے تو سلام کے ختم ہوتے ہی عورتیں کھڑی ہو جاتیں (باہر آنے کے لیے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے تھے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں اور پورا علم تو اللہ ہی کو ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے ٹھہر جاتے تھے کہ عورتیں جلدی چلی جائیں اور مرد نماز سے فارغ ہو کر ان کو نہ پائیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 837]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تھے تو خواتین آپ کے سلام پھیرتے ہی کھڑی ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہو جاتی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر ٹھہر جاتے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ اصل علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس لیے کچھ دیر ٹھہرے رہتے تھے تاکہ خواتین جلدی چلی جائیں قبل ازیں کہ مرد حضرات نماز سے فارغ ہو کر انہیں پا سکیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 837]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 850
وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيد، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ إِلَيْهِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْفِرَاسِيَّةُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مِنْ صَوَاحِبَاتِهَا، قَالَتْ: كَانَ يُسَلِّمُ فَيَنْصَرِفُ النِّسَاءُ فَيَدْخُلْنَ بُيُوتَهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْصَرِفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
اور ابوسعید بن ابی مریم نے کہا کہ ہمیں نافع بن یزید نے خبر دی انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا کہ ابن شہاب زہری نے انہیں لکھ بھیجا کہ مجھ سے ہند بنت حارث فراسیہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے (ہند ان کی صحبت میں رہتی تھیں) انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو عورتیں لوٹ کر جانے لگتیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اٹھنے سے پہلے اپنے گھروں میں داخل ہو چکی ہوتیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 850]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے تو عورتیں واپس ہو کر اپنے گھروں میں ہو جاتی تھیں قبل ازیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھیں۔ ابن وہب نے یونس عن ابن شہاب کی سند سے بیان کیا تو «ہِنْدٌ فِرَاسِیَّۃٌ» ”ہند فراسیہ“ کہا۔ اور عثمان بن عمر نے یونس عن الزہری بیان کیا تو «ہِنْدٌ قُرَشِیَّۃٌ» ”ہند قرشیہ“ کہا۔ زبیدی نے زہری سے روایت کرتے ہوئے «ہِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْقُرَشِیَّۃُ» ”ہند بنت حارث قرشیہ“ کہا اور (یہ بھی کہا کہ) وہ بنو زہرہ کے حلیف معبد بن مقداد کی بیوی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے ہاں اس کا آنا جانا بھی تھا۔ اور شعیب نے امام زہری سے بیان کیا تو «ہِنْدٌ قُرَشِیَّۃٌ» ”ہند قرشیہ“ کہا جبکہ ابن عتیق نے زہری سے بیان کرتے ہوئے «ہِنْدٌ فِرَاسِیَّۃٌ» ”ہند فراسیہ“ کہا۔ لیث نے کہا کہ یحییٰ بن سعید نے مجھے امام زہری سے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ قریش کی ایک خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 850]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ الْحَارِثِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهَا" أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ الرِّجَالُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یونس بن یزید نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ہند بنت حارث نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فوراً بعد (باہر آنے کے لیے) اٹھ جاتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرد نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے رہتے۔ جب تک اللہ کو منظور ہوتا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 866]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں خواتین فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فوراً بعد اٹھ جاتی تھیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرد حضرات جس قدر اللہ کو منظور ہوتا نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے تو دوسرے مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1215
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ عَاقِدُو أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے، ان کو سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز اس طرح پڑھتے کہ تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی گردنوں سے باندھے رکھتے اور عورتوں کو (جو مردوں کے پیچھے جماعت میں شریک رہتی تھیں) کہہ دیا جاتا کہ جب تک مرد پوری طرح سمٹ کر نہ بیٹھ جائیں تم اپنے سر (سجدے سے) نہ اٹھانا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 1215]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے تھے جبکہ وہ اپنی چادروں کو ان کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے اپنی گردن پر باندھے ہوتے تھے، ان حالات میں عورتوں سے کہا جاتا: ”تم اپنے سر (سجدے سے) مت اٹھاؤ حتی کہ مرد سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأذان (صفة الصلوة)/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة