صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الجمع بين الصلاتين في الحضر:
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1628
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1628]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کو جمع کیا اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1628]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1629
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں خوف اور سفر کے بغیر ظہر اور عصر کو جمع کیا۔“ ابوزبیر کہتے ہیں: ”میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: ”آپ نے ایسا کیوں کیا تھا؟“”انہوں نے جواب دیا: ”جیسے تو نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔“” [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1629]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1630
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔ سعید نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج (اور تنگی) میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1630]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر جو غزوہٴ تبوک کے لیے کیا تھا دو نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا، مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد) سعید کہتے ہیں، میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا اپنی امت کو حرج اور تنگی میں نہ ڈالیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1630]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1633
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح. وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ "، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے حبیب بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے (سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1633]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بلا خوف و خطر اور بلا بارش ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا“، وکیع کی روایت میں ہے سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟“ انہوں نے کہا: ”تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں“ اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کیا چاہا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو دشواری نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1633]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1634
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، " أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ؟ قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ ".
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے (ابوشعشاء) جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اور عصر) اکٹھے اور سات رکعات (مغرب اور عشاء) اکٹھے پڑھیں۔ (عمرو نے کہا) میں نے ابوشعشاء (جابر بن زید) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1634]
جابر بن زید، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ: ”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر و عصر) اکٹھی پڑھیں اور سات رکعات (مغرب و عشاء) اکٹھی پڑھیں“، عمرو کہتے ہیں: ”میں نے ابو الشعثاء (جابر بن زید) سے پوچھا کہ میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں تاخیر کی اور عصر جلدی پڑھی، مغرب کو مؤخر کیا اور عشاء میں تعجیل کی (جلدی کی)؟“ انہوں نے کہا: ”میرا خیال بھی یہی ہے“۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی باب باندھا ہے: «أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ» ”ظہر میں تاخیر کی اور عصر جلدی پڑھی“۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1634]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1635
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا، وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ ".
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (ملا کر پڑھیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1635]
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ”سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی یعنی ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1635]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1636
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ، لَا أُمَّ لَكَ؟ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ.
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: نماز، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ماں نہ ہو! تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا: تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1636]
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد خطاب شروع کیا، حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: ”نماز، نماز“۔ پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ سست پڑتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، ”نماز، نماز“ کہے جا رہا تھا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”بڑے تعجب اور حیرت کی بات ہے، کیا تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟“ پھر کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا“۔ عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ اس سے میرے دل میں خلش اور کھٹکا پیدا ہوا، تو میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 705 ترقیم شاملہ: -- 1637
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ، " وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
عمران بن خدیر نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نماز! آپ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: نماز! آپ پھر چپ رہے، اس نے پھر کہا: نماز! تو آپ (کچھ دیر) چپ رہے، پھر فرمایا: تیری ماں نہ ہو! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1637]
ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ”نماز پڑھو“، آپ رضی اللہ عنہ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: ”نماز پڑھو“، وہ پھر بھی چپ رہے۔ اس نے پھر کہا: ”نماز“، تو آپ رضی اللہ عنہ چپ رہے۔ پھر کہنے لگے: ”تجھ پر حیرت ہے! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1637]
ترقیم فوادعبدالباقی: 705
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة