سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
258. باب الصلاة بعد صلاة العيد
باب: نماز عید کے بعد نفل پڑھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1159
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهُمَا وَلَا بَعْدَهُمَا، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے دو رکعت پڑھی، نہ اس سے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد، پھر عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور اپنے ہار (بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں نکال نکال کر) ڈالنے لگیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1159]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے روز نکلے (عید کی) دو رکعتیں پڑھیں، اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، پھر عورتوں کی طرف آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (عورتوں) کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو کوئی اپنی بالی اتار رہی تھی اور کوئی اپنا ہار۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1159]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 8 (964)، 26 (989)، الزکاة 21 (1431)، اللباس 57 (5881)، 59 (5883)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن الترمذی/الجمعة 35 (537)، سنن النسائی/العیدین 29 (1588)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 160 (1291)، (تحفة الأشراف: 5558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/355)، سنن الدارمی/الصلاة 219 (1646)، وانظر أیضاحدیث رقم: 1142) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (964) صحيح مسلم (884 بعد ح 890)
حدیث نمبر: 1141
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَأَتَى النِّسَاءَ فَذَكَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى يَدِ بِلَالٍ، وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ تُلْقِي فِيهِ النِّسَاءُ الصَّدَقَةَ". قَالَ: تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: فَتَخَتَهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے تو خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر اترے تو عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے، جس میں عورتیں صدقہ ڈالتی جاتی تھیں، کوئی اپنا چھلا ڈالتی تھی اور کوئی کچھ ڈالتی اور کوئی کچھ۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1141]
جناب عطاء، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ میں نے ان کو سنا بیان کرتے تھے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے روز کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز سے ابتدا فرمائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا۔ جب اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو اترے اور عورتوں کے پاس آئے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے اور بلال رضی اللہ عنہ اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے۔ عورتیں اس میں اپنے صدقات ڈالتی جاتی تھیں۔ کوئی اپنی انگوٹھی ڈالتی تھی، کوئی کچھ اور کوئی کچھ۔“ ابن بکر نے ”( «فتخها» کی بجائے) «فتختها» کا لفظ استعمال کیا۔ (یعنی انگوٹھی)“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 7 (961)، صحیح مسلم/العیدین (885)، (تحفة الأشراف: 2449)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العیدین 6 (1563)، 19 (1576)، مسند احمد (3/314، 318)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (978) صحيح مسلم (884)
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَشَهِدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمَ فِطْرٍ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ". قَالَ ابْنُ كَثِيرٍ: أَكْبَرُ عِلْمِ شُعْبَةَ، فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ.
عطاء کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور ابن عباس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق گواہی دی ہے کہ آپ عید الفطر کے دن نکلے، پھر نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر آپ عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ ابن کثیر کہتے ہیں: شعبہ کا غالب گمان یہ ہے کہ (اس میں یہ بھی ہے کہ) آپ نے انہیں صدقہ کا حکم دیا تو وہ (اپنے زیورات وغیرہ بلال کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1142]
جناب عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر شہادت دیتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے، نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اس کے بعد عورتوں کے پاس آئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔“ ابن کثیر نے کہا: ”شعبہ کا غالب گمان ہے کہ (ایوب نے یہ جملہ بھی کہا تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تو وہ (اپنے صدقات سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں) ڈالنے لگیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، والعیدین 16 (975)، 18 (977)، والزکاة 33 (1449)، والنکاح 125 (5249)، واللباس 56 (5880)، والاعتصام 16 (7325)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن النسائی/العیدین 13 (1570)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 155 (1273)، (تحفة الأشراف: 5883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 226، 243، 345، 346، 357، 368)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644)، و انظر ما یأتي برقم (1159) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (98) صحيح مسلم (884)
حدیث نمبر: 1146
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ" فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَتَاهُنَّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالرحمٰن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں (یعنی بالیوں اور ہاروں) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چنانچہ وہ ان کے پاس آئے پھر (صدقہ لے کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1146]
جناب عبدالرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر رہے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، اگر مجھے آپ کے ساتھ تعلق و مرتبہ حاصل نہ ہوتا تو بچپنے کے باعث میں آپ کے قریب نہ ہو سکتا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا اور (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کسی اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور اپنی گردنوں کی طرف اشارہ کرنے لگیں۔ بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو وہ ان (عورتوں) کے پاس گئے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آئے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (863)، العیدین 16 (975)، 81 (977)، النکاح 125 (5249)، الاعتصام 125 (5249)، سنن النسائی/العیدین 18 (1576)، (تحفة الأشراف: 5816) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کا شرف حاصل تھا اس لئے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملا ورنہ میری کمسنی کی وجہ سے لوگ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (863)