سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَهِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَمَسَحَ بِأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، زَادَ هِشَامٌ: وَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ فِي صِمَاخِ أُذُنَيْهِ.
اس طریق سے بھی ولید (ولید بن مسلم) سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کی پشت اور ان کے اندرونی حصے کا مسح کیا، اور ہشام نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اپنے دونوں کان کے سوراخ میں داخل کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 123]
ولید بن مسلم رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا سند سے روایت کیا ہے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنے کانوں کے باہر اور اندر کی طرف مسح کیا“، ہشام رحمہ اللہ نے مزید کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اپنی انگلیاں کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11572) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وانظر سنن أبي داود (122، 135)
وانظر سنن أبي داود (122، 135)
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ،" فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَى عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَاءً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوُضُوءِ؟ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةٌ فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ.
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے پانی منگایا، پانی کا لوٹا لایا گیا، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا (اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا، تین بار منہ دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا: وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، چنانچہ ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا اور پانی لیا اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندر اور باہر سے ایک بار، پھر اپنے پاؤں دھوئے اور فرمایا: کہاں ہیں وضو کے بارے میں سوال کرنے والے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی وضو کرتے دیکھا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تمام صحیح روایات دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سر کا مسح ایک ہی بار کیا تھا۔ سب راوی وضو کو تین تین بار ذکر کرتے ہیں مگر (مسح کے بارے میں اتنا ہی) کہتے کہ ”انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔“ اور اس میں عدد کا ذکر نہیں کرتے جیسے کہ باقی اعضاء میں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9820) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ شَيْبَةَ، يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، آپ استنجاء کر چکے تھے، آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک چھوٹے برتن میں پانی لائے اور آپ کے سامنے رکھ دیا تو آپ نے فرمایا: ”اے ابن عباس! کیا تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ چنانچہ انہوں نے برتن کو اپنے ہاتھ پر ٹیڑھا کیا اور ہاتھ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ اس میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے ہی برتن میں ڈالے اور دونوں ہاتھوں سے ایک لپ پانی لیا اور اپنے چہرے پر ڈالا، پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں میں ڈالا یعنی جو حصہ چہرے کی جانب تھا، (اسے بھی دھویا) پھر دوسری بار، پھر تیسری بار ایسے ہی کیا۔ پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈالا اور اسے اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک دھوئیں تین تین بار، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور کانوں کے باہر کا (بھی) پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں ڈالے اور پانی کی ایک لپ لے کر اپنے پاؤں پر ڈالی اور اس میں (چپل کا سا) جوتا تھا، اپنے پاؤں کو اس پانی کے ساتھ ملا، پھر دوسرے پاؤں کو بھی ایسے ہی۔ عبداللہ خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا: ”جوتوں سمیت؟!“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”جوتوں سمیت!“ میں نے پھر کہا: ”جوتے پہنے پہنے ہی؟“ میں نے پھر کہا: ”جوتوں سمیت؟“ انہوں نے کہا: ”(ہاں) جوتوں سمیت۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی شیبہ (شیبہ بن نصاح) سے روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے۔ اس روایت میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے: ”اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا۔“ اور ابن وہب نے یہی روایت ابن جریج سے نقل کی تو کہا: ”سر کا مسح تین بار کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (10198)، وحدیث ابن جریج عن شیبة أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 78 (95)، تحفة الأشراف (10075)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82) (ضعیف)» (بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «ففتلها» کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی ” بہت تھوڑی چیز کے ہیں “ یعنی ” بہت ہلکا دھویا “ شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں «ففتلها» کی جگہ «فغسلها» وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ”ضعيف“ ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82
حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا".
عبدالرحمٰن بن میسرہ حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھلے، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین تین بار دھلے، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا۔ اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں تین بار، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا تین بار، چہرہ دھویا تین بار، کلائیاں دھوئیں تین تین بار، پھر سر کا مسح کیا اور ساتھ ہی کانوں کے باہر اور اندر کا (بھی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: 11573)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 52 (442) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وھو في المسند للامام احمد: 4/ 132 ح 7320
وھو في المسند للامام احمد: 4/ 132 ح 7320
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: اسْكُبِي لِي وَضُوءًا، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ فِيهِ:" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ“، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرے کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھر اگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے تھے، ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک بار) فرمایا: ”میرے لیے پانی انڈیل کر لاؤ۔“ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرنا بیان کیا، اس میں وہ کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، چہرہ تین بار دھویا، کلی کی اور ناک میں ایک بار پانی ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور سر کا دو بار مسح کیا، سر کے آخر سے شروع کیا، پھر اگلے حصے کی جانب سے مسح کیا اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے باہر سے بھی اور اندر سے بھی، اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت مسدد کی روایت کے ہم معنی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 33 (43) (بقولہ في الباب)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 39 (390)، 52 (440)، (تحفة الأشراف: 15837)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/360) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (33)،ابن ماجه (438)
ابن عقيل: ضعيف (يأتي: 128)
وللحديث شاھد ضعيف لشذوذه عند النسائي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
إسناده ضعيف
ترمذي (33)،ابن ماجه (438)
ابن عقيل: ضعيف (يأتي: 128)
وللحديث شاھد ضعيف لشذوذه عند النسائي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 17
حدیث نمبر: 131
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ابْنِ عَفْرَاءَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي حُجْرَيْ أُذُنَيْهِ".
ربیع بنت معوذ (ربیع بنت معوذ بن عفراء) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیاں (مسح کے لیے) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 131]
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں کے سوراخوں میں داخل کیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (126) وراجع: سنن الترمذی/ الطہارة 52 (33)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 52 (441)، (تحفة الأشراف: 15839) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شواهد انظر الحديث الآتي (135)
وله شواهد انظر الحديث الآتي (135)
حدیث نمبر: 135
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الطُّهُورُ؟" فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّاحَتَيْنِ فِي أُذُنَيْهِ وَمَسَحَ بِإِبْهَامَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا أَوْ نَقَصَ، فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ، أَوْ ظَلَمَ وَأَسَاءَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وضو کس طرح کیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پانی منگوایا اور اپنے دونوں پہونچوں کو تین بار دھویا، پھر چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ تین بار دھلے، پھر سر کا مسح کیا، اور شہادت کی دونوں انگلیوں کو اپنے دونوں کانوں میں داخل کیا، اور اپنے دونوں انگوٹھوں سے اپنے دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا اور شہادت کی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کے اندرونی حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھلے، پھر فرمایا: ”وضو (کا طریقہ) اسی طرح ہے جس شخص نے اس پر زیادتی یا کمی کی اس نے برا کیا، اور ظلم کیا“، یا فرمایا: ”ظلم کیا اور برا کیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 135]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! وضو کیسے کیا جاتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں پانی منگوایا، پھر اپنے ہاتھ تین بار دھوئے، پھر چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں کلائیاں تین بار دھوئیں، پھر سر کا مسح کیا اور اپنی شہادت کی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور انگوٹھوں سے کانوں کے اوپر کا مسح کیا اور شہادت کی انگلیوں سے ان کے اندر کا، پھر اپنے پاؤں تین تین بار دھوئے، پھر فرمایا: ”وضو ایسے ہوتا ہے اور جو کوئی اس سے زیادہ کرے یا کم کرے تو اس نے برا کیا اور ظلم کیا۔“ یا یوں فرمایا: ”ظلم کیا اور برا کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الطھارة 105 (140)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 48 (422)، (تحفة الأشراف: 8809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180) (حسن صحیح)» (مگر «أو نَقَصَ» کا جملہ شاذ ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح دون قوله أو نقص فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (417)
عمرو بن شعيب بن محمد بن عبدالله بن عمرو بن العاص عن أبيه عن جده، انظر مقالات للشيخ زبير علي زئي: 3/ 357
مشكوة المصابيح (417)
عمرو بن شعيب بن محمد بن عبدالله بن عمرو بن العاص عن أبيه عن جده، انظر مقالات للشيخ زبير علي زئي: 3/ 357
حدیث نمبر: 137
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟" فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَاغْتَرَفَ غَرْفَةً بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَجَمَعَ بِهَا يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ نَفَضَ يَدَهُ ثُمَّ مَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى مِنَ الْمَاءِ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدَيْهِ يَدٍ فَوْقَ الْقَدَمِ وَيَدٍ تَحْتَ النَّعْلِ ثُمَّ صَنَعَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ".
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ پھر انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دھویا، پھر ایک چلو اور پانی لیا اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو اور لے کر بایاں ہاتھ دھویا، پھر تھوڑا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ جھاڑا، اور اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، پھر ایک مٹھی پانی لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا جس میں جوتا پہنے ہوئے تھے، پھر اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح سے پھیرا کہ ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر اور ایک ہاتھ نعل (جوتا) کے نیچے تھا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 137]
جناب عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟“ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے برتن منگوایا، اس میں پانی تھا، تو آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے چلو لیا اور کلی کی اور ناک میں پانی لیا، پھر دوسرا (چلو) لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو جمع کر لیا اور اپنا چہرہ دھویا، پھر اور چلو لیا اور اپنا دایاں بازو دھویا، پھر اور چلو لیا اور اپنا بایاں بازو دھویا، پھر ایک مٹھی میں پانی لیا اور اپنے ہاتھ کو جھاڑا اور اس سے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر مٹھی میں اور پانی لیا اور اسے اپنے دائیں پاؤں پر چھڑکا جبکہ اس میں جوتا بھی تھا، اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے ملا، (اس طرح گویا کہ ان کو دھویا) ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر سے اور ایک ہاتھ جوتے کے نیچے سے اور پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسے ہی کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 7 (140)، سنن الترمذی/الطھارة 32 (42)، سنن النسائی/الطھارة 64 (80)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 43 (403)، 45 (411)، مسند احمد (1/333، 332، 336) سنن الدارمی/الطھارة 29 (723)، (تحفة الأشراف: 5978) (حسن)» (پاؤں پر مسح کرنے کا ذکر شاذ ہے، مؤلف کے سوا اس کا ذکر کسی اور کے یہاں نہیں ہے، بلکہ بخاری میں”دھویا“ کا لفظ ہے)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت باب کے مطابق نہیں کیونکہ اس میں اعضاء وضو کو دو دو بار دھونے کا ذکر نہیں ہے، (ناسخ کی غلطی سے آئندہ باب کی بجائے یہاں درج ہو گئی ہے، یہ وہی حدیث ہے جو نمبر (۱۳۸) پر اگلے باب کے تحت آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني: حسن لكن مسح القدم شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
هشام بن سعد: وثقه الجمهور
هشام بن سعد: وثقه الجمهور