سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب في ترك الوضوء مما مست النار
باب: آگ کی پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہ ٹوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَشَ مِنْ كَتِفٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت نوچ کر کھایا پھر نماز پڑھی اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 6551)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/279، 361) (صحیح)»
وضاحت: دانتوں سے نوچ کر کھانا سنت ہے اور لذت کا باعث بھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد كثيرة عند البخاري: 3340 و مسلم: 194 وغيرھما
وله شواھد كثيرة عند البخاري: 3340 و مسلم: 194 وغيرھما
حدیث نمبر: 187
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے دست کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 187]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 24 (354)، (تحفة الأشراف: 5979)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 15 (207)، سنن النسائی/الطھارة 123 (184)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (488)، موطا امام مالک/الطھارة 5(19)، مسند احمد (1/226) (صحیح)»
وضاحت: اس مسئلے کا پس منظر یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں آگ پر پکی چیز استعمال کرنے سے وضو کرنے کا حکم تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا، مگر کچھ لوگوں کو منسوخ ہونے کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور وضو کرنے کے قائل رہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (207) صحيح مسلم (354)
حدیث نمبر: 189
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِمِسْحٍ كَانَ تَحْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا شانہ کھایا پھر اپنا ہاتھ اس ٹاٹ سے پوچھا جو آپ کے نیچے بچھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 66 (488)، (تحفة الأشراف: 6110) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (488)
سماك ضعيف عن عكرمة وصحيح الحديث عن غيره (تقدم: 68)
ولأصل الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
إسناده ضعيف
ابن ماجه (488)
سماك ضعيف عن عكرمة وصحيح الحديث عن غيره (تقدم: 68)
ولأصل الحديث شواھد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَثْعَمِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ:" قَرَّبْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا وَلَحْمًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ بِهِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روٹی اور گوشت پیش کیا، تو آپ نے کھایا، پھر وضو کے لیے پانی منگایا، اور اس سے وضو کیا، پھر ظہر کی نماز ادا کی، پھر اپنا بچا ہوا کھانا منگایا اور کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور (دوبارہ) وضو نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3063)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 53 (5457)، سنن الترمذی/الطھارة 59 (80)، سنن النسائی/الطھارة 123 (185)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 66 (489)، مسند احمد (3/322) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 192
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كَانَ آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل یہی تھا کہ آپ آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ پہلی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ الطہارة 123 (185)، (تحفة الأشراف: 3047) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وصححه ابن خزيمة (43) وذكر الشافعي له علة – إن صحة – فالحديث حسن، وانظر أنوار السنن (168)
وصححه ابن خزيمة (43) وذكر الشافعي له علة – إن صحة – فالحديث حسن، وانظر أنوار السنن (168)
حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوُضُوءُ مِمَّا أَنْضَجَتِ النَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے وضو ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 194]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13470)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 23 (352)، سنن الترمذی/الطھارة 58 (79)، سنن النسائی/الطھارة 122 (171، 172، 173، 174)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 65 (485)، مسند احمد (2/458، 503، 529) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم پہلے تھا بعد میں منسوخ ہو گیا، ناسخ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح