سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب في وطء السبايا
باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2158
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا، قَالَ:" أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ، يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا، وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ".
حنش صنعانی کہتے ہیں کہ رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا: سنو! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے: ”اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے“، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے، (یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2158]
حنش صنعانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہم میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا: ”میں تمہیں وہی بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حنین والے دن فرمایا تھا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ کسی دوسرے کی کھیتی کو اپنا پانی دے۔“ (آپ کی مراد تھی کہ حاملہ عورتوں سے مباشرت) ”اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ قید میں آنے والی کسی عورت سے استبراء (رحم صاف ہونے) سے پہلے مباشرت کرے، اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ غنیمت کو تقسیم ہو جانے سے پہلے فروخت کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 34 (1131)، (تحفة الأشراف: 3615)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/108، سنن الدارمی/السیر 37 (2520)، ویأتی ہذا الحدیث فی الجہاد (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3339)
رواه الترمذي (1131 وسنده حسن) وأصله عند ابن حبان (1675)
مشكوة المصابيح (3339)
رواه الترمذي (1131 وسنده حسن) وأصله عند ابن حبان (1675)
حدیث نمبر: 2156
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا، فَقَالَ:" لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا"، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2156]
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوے میں ایک عورت دیکھی جس کا حمل تقریباً پورے دنوں کا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید اس کے مالک نے اس سے مباشرت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے لعنت کروں ایسی لعنت جو اس کی قبر تک اس کے ساتھ جائے۔ یہ اس بچے کو کس طرح اپنا وارث بنا سکے گا جبکہ اس کے لیے یہ حلال نہیں (کہ غیر کے نطفے اور غیر کے بچے کو اپنا بچہ بنائے) اور کیونکر اس سے (غلاموں کی طرح) خدمت لے سکے گا جبکہ یہ اس کے لیے حلال نہیں۔“ (اگر بالفرض اس کا اپنا نطفہ ہوا اور اپنے بیٹے کے نسب کا انکار کیا تو یہ حرام ہے۔ اور پھر بیٹے کو غلام اور خادم کے درجے پر اتارنا کیونکر جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 23 (1441)، (تحفة الأشراف: 10924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/195، 6/446)، سنن الدارمی/السیر 38 (2521) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1441)
حدیث نمبر: 2157
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسَ:" لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا: ”کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آ جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2157]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس میں پکڑی جانے والی عورتوں کے بارے میں فرمایا تھا: ”کسی حاملہ سے مباشرت نہ کی جائے حتیٰ کہ اس کے بچے کی ولادت ہو جائے اور غیر حاملہ سے بھی مباشرت نہ کی جائے حتیٰ کہ اسے ایک حیض آ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3990)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/28، 62، 87) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن
وحديث أبي داود الطيالسي (1678) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 82
إسناده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن
وحديث أبي داود الطيالسي (1678) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 82