🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
---. باب التاجر يفطر
باب: تاجر روزہ چھوڑ سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2405
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا." فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2405]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا تو ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا۔ چنانچہ روزے داروں نے چھوڑنے والوں پر یا چھوڑنے والوں نے روزے داروں پر کوئی عیب نہ لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 37 (1947)، صحیح مسلم/الصیام 15 (1118)، (تحفة الأشراف: 660)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام 7 (23) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1947) صحيح مسلم (1118)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2402
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ الْأَسْلَمِيَّ سَأَل النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: صُمْ إِنْ شِئْتَ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اللہ کے رسول! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2402]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں تسلسل سے روزے رکھا کرتا ہوں، تو کیا سفر میں روزہ رکھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاہو تو رکھ لو اور اگر چاہو تو افطار کر لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصیام 17 (1121)، (تحفة الأشراف: 16857)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 33 (1942)، سنن الترمذی/الصوم 19 (711)، سنن النسائی/الصیام 31 (2308)، 43 (2386)، سنن ابن ماجہ/الصیام10 (1662)، موطا امام مالک/الصیام 7 (34)، مسند احمد (6/46، 93، 202، 207)، سنن الدارمی/الصوم 15(1748) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1121)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2404
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ" صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پانی وغیرہ کا) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں (کہ میں روزے سے نہیں ہوں) اور یہ رمضان میں ہوا، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2404]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے حتیٰ کہ مقام عسفان پر پہنچ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا اور اسے اپنے منہ کی طرف بلند کیا تاکہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کر رہے ہیں) اور یہ رمضان کا واقعہ ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہے اور چھوڑا بھی، سو جو چاہے رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 38 (1948)، صحیح مسلم/الصیام 15 (1113)، سنن النسائی/الصیام 31 (2293)، (تحفة الأشراف: 5749)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 10(1661)، موطا امام مالک/الصیام 7 (21)، مسند احمد (1/244، 350)، سنن الدارمی/الصوم 15 (1749) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1948) صحيح مسلم (1133)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں