سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب في أكل الثوم
باب: لہسن کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3828
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: شَرِيكُ بْنُ حَنْبَلٍ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں لہسن کھانے سے منع فرمایا گیا ہے مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریک (جن کا ذکر سند میں آیا ہے) وہ شریک بن حنبل ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3828]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ پکا ہوا ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سند میں مذکور راوی شریک سے مراد شریک بن حنبل ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأطعمة 14 (1809)، (تحفة الأشراف: 10127) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1808)
أبو إسحاق عنعن واختلط أيضًا (انظر التقريب : 5065)
والحديث ضعفه الترمذي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
إسناده ضعيف
ترمذي (1808)
أبو إسحاق عنعن واختلط أيضًا (انظر التقريب : 5065)
والحديث ضعفه الترمذي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
حدیث نمبر: 3822
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنَ الْبُقُولِ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِبَدْرٍ: فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ.
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے“ یا آپ نے فرمایا: ”ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: ”کس چیز کی سبزی ہے؟“ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے“۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3822]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے لہسن یا پیاز کھائی ہو وہ ہم سے الگ رہے یا فرمایا کہ ہماری مسجد سے الگ رہے، اسے چاہیے کہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔“ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طباق پیش کیا گیا، اس میں کئی طرح کی سبزیاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی اور دریافت فرمایا تو جو سبزیاں اس میں تھیں سب بتائی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اس شخص کے قریب کر دو۔“ (یعنی اس صحابی کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا)۔ جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا) تو اس نے بھی اسے کھانا پسند نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ، کیونکہ میں (بہت قریب سے) اس سے بات کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے۔“ احمد بن صالح نے لفظ «بِدْرٍ» کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ابن وہب نے اس کا ترجمہ ”طبق“ (طباق) کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 160 (854)، الأطعمة 49 (ز545)، الاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، (تحفة الأشراف: 2485)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1806)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3363)، مسند احمد (3/ 374، 387، 400) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (855) صحيح مسلم (564)
حدیث نمبر: 3824
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَظُنُّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3824]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، راوی کا خیال ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قبلے کی طرف تھوکا تو قیامت کے دن وہ شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کا تھوک اس کی آنکھوں کے درمیان لگا ہوگا، اور جس نے یہ ناپسندیدہ سبزی کھائی ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3326) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جرير بن عبدالحميد شك في رفع الحديث
فالسند معلل
وللحديث طريق موقوف عند ابن أبي شيبة (2/ 365) وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
إسناده ضعيف
جرير بن عبدالحميد شك في رفع الحديث
فالسند معلل
وللحديث طريق موقوف عند ابن أبي شيبة (2/ 365) وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
حدیث نمبر: 3825
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ مسجدوں کے قریب نہ آئے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3825]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے یہ سبزی کھائی ہو (لہسن اور پیاز) تو وہ ہرگز مسجدوں کے قریب نہ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 160 (853)، صحیح مسلم/المساجد 17 (561)، (تحفة الأشراف: 8143)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 58 (1016)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 21 (2097) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (853) صحيح مسلم (561)
حدیث نمبر: 3826
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أبُو هِلَالٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" أَكَلْتُ ثُومًا، فَأَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَ الثُّومِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا أَوْ رِيحُهُ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنِّي يَدَكَ، قَالَ: فَأَدْخَلْتُ يَدَهُ فِي كُمِّ قَمِيصِي إِلَى صَدْرِي، فَإِذَا أَنَا مَعْصُوبُ الصَّدْرِ، قَالَ: إِنَّ لَكَ عُذْرًا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے“۔ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا، تو میرا سینہ بندھا ہوا نکلا آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تو معذور ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3826]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک دن لہسن کھایا پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوا۔ میری ایک رکعت فوت ہو گئی تھی۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس فرمائی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: ”جو شخص یہ سبزی کھائے وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے حتیٰ کہ اس کی بو زائل ہو جائے۔“ پھر جب میں نے اپنی نماز پوری کی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! آپ مجھے اپنا ہاتھ ضرور پکڑائیں گے۔“ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک لے کر اپنی قمیص کی آستین میں سے لے جا کر اپنے سینے پر رکھا تو اس وقت میرا سینہ بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک تم معذور ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3826]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/249، 252) (صحیح)» (اس کے راوی ابو ہلال متکلم فیہ ہیں مگر صحیح ابن خزیمہ میں ان کی صحیح متابعت موجود ہے، نمبر 1672)
وضاحت: ۱؎: یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے انہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ لیا تھا جس کا بندھن سینے تک تھا، اور انہیں کھانے کے لئے لہسن کے سوا کچھ نہیں ملا تھا جسے کھا کر وہ مسجد آئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أبو ھلال تابعه سليمان بن المغيرة عند أحمد (4/252) وصححه ابن خزيمة (1672) وابن حبان (319)
أبو ھلال تابعه سليمان بن المغيرة عند أحمد (4/252) وصححه ابن خزيمة (1672) وابن حبان (319)
حدیث نمبر: 3827
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الْعَطَّارَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ، وَقَالَ:" مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، وَقَالَ: إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا، فَأَمِيتُوهُمَا طَبْخًا"، قَالَ: يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ.
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں سے منع کیا، اور فرمایا: ”جو شخص انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے“ اور فرمایا: ”اگر تمہیں کھانا ضروری ہی ہو تو انہیں پکا کر مار دو“۔ راوی کہتے ہیں: آپ کی مراد پیاز اور لہسن سے تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3827]
سیدنا معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو سبزیوں سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے: ”جس نے یہ کھائی ہوں وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔“ اور فرمایا: ”اگر تم نے انہیں ضرور ہی کھانا ہو تو پکا کر ان کی بو ختم کر لیا کرو۔“ راوی نے کہا: ”ان سبزیوں سے مراد پیاز اور لہسن ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 1180)، و قد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6681)، مسند احمد (4/19) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (736)
مشكوة المصابيح (736)