سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء في التختم في اليمين أو اليسار
باب: انگوٹھی دائیں یا بائیں ہاتھ میں پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4227
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ إِسْحَاق، وَأُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ فِي يَمِينِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4227]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور اس کا نگینہ اندر ہتھیلی کی جانب ہوا کرتا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن اسحاق اور اسامہ بن زید نے نافع سے مذکورہ سند سے یہ روایت کیا: ”دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7766) (شاذ)» (محفوظ اور صحیح دائیں ہاتھ میں پہننا ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ في يمينه
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف / شاذ
ابن أبي رواد،خالفه أسامة بن زيد (مسلم : 2091) وابن إسحاق في متن الحديث وھو المحفوظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
إسناده ضعيف / شاذ
ابن أبي رواد،خالفه أسامة بن زيد (مسلم : 2091) وابن إسحاق في متن الحديث وھو المحفوظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
حدیث نمبر: 4218
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ، وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: ”اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی (جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4218]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (پہلے پہل) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھنا شروع کیا اور اس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ کندہ کروائے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ لوگوں نے بھی (ویسی ہی انگوٹھیاں) بنوا لی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار پھینکی اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اس میں بھی «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ نقش کروائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ انگوٹھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی حتیٰ کہ اریس نامی کنویں میں گر گئی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس وقت تک لوگوں نے کوئی اختلاف نہیں کیا حتیٰ کہ انگوٹھی ان کے ہاتھ سے گر گئی۔ (اس کے بعد اختلافات نے بھی سر اٹھا لیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 45 (5866)، الأیمان والنذور 6 (6651)، الاعتصام 4 (7298)، (تحفة الأشراف: 7832)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/الشمائل 11 (84)، اللباس 16 (1741)، سنن النسائی/الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5866) صحيح مسلم (2091)
حدیث نمبر: 4226
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: شَرِيكٌ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بھی بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4226]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (مرفوعاً) اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے (مرسلاً) بیان کیا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4226]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الشمائل 12 (90)، سنن النسائی/الزینة 46 (5206)، (تحفة الأشراف: 10180) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4392)
أخرجه النسائي (5206 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4392)
أخرجه النسائي (5206 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4229
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَاتَمًا فِي خِنْصَرِهِ الْيُمْنَى، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ هَكَذَا وَجَعَلَ فَصَّهُ عَلَى ظَهْرِهَا، قَالَ: وَلَا يَخَالُ ابْنَ عَبَّاسٍ إِلَّا قَدْ كَانَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ كَذَلِكَ".
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو اپنے داہنے ہاتھ کی چھنگلی میں انگوٹھی پہنے دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اسی طرح اپنی انگوٹھی پہنے اور اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کی پشت کی طرف کئے دیکھا، اور کہا: یہ مت سمجھنا کہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی ایسا کرتے تھے، بلکہ وہ ذکر کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی انگوٹھی ایسا ہی پہنی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4229]
محمد بن اسحاق نے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے صلت بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ میں نے کہا: ”یہ کیا؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی انگوٹھی اسی طرح پہنا کرتے تھے اور اس کا نگینہ باہر کی طرف رکھتے تھے۔“ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگوٹھی ایسے ہی پہنا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 16 (1742)، (تحفة الأشراف: 5686) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1742 وسنده حسن، وحسنه البخاري)
أخرجه الترمذي (1742 وسنده حسن، وحسنه البخاري)