🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب رجم ماعز بن مالك
باب: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4429
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ ابْنِ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِنَحْوِهِ، زَادَ: وَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: رُبِطَ إِلَى شَجَرَةٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ وُقِفَ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ سے ایسی ہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ لوگوں میں اختلاف ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اسے ایک درخت سے باندھ دیا گیا تھا اور کچھ کا کہنا ہے کہ اسے (میدان میں) کھڑا کر دیا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4429]
ابوزبیر نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے چچازاد سے روایت کیا، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا اور مزید کہا کہ: راویوں نے اختلاف کیا ہے، بعض نے کہا کہ اسے درخت سے باندھا گیا اور بعض نے کہا کہ اسے کھڑا کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13599) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4428)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ هَزَّالٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي فَأَصَابَ جَارِيَةً مِنَ الْحَيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ لَكَ، وَإِنَّمَا يُرِيدُ بِذَلِكَ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ لَهُ مَخْرَجًا، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ، حَتَّى قَالَهَا أَرْبَعَ مِرَارٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكَ قَدْ قُلْتَهَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَبِمَنْ؟ قَالَ: بِفُلَانَةٍ، فَقَالَ: هَلْ ضَاجَعْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ بَاشَرْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ جَامَعْتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَأُخْرِجَ بِهِ إِلَى الْحَرَّةِ، فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَةِ جَزِعَ، فَخَرَجَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ وَقَدْ عَجَزَ أَصْحَابُهُ، فَنَزَعَ لَهُ بِوَظِيفِ بَعِيرٍ فَرَمَاهُ بِهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَيْهِ".
نعیم بن ہزال بن یزید اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے والد کی گود میں ماعز بن مالک یتیم تھے محلہ کی ایک لڑکی سے انہوں نے زنا کیا، ان سے میرے والد نے کہا: جاؤ جو تم نے کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو، ہو سکتا ہے وہ تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں، اس سے وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کے لیے کوئی سبیل نکلے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، پھر وہ دوبارہ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زنا کر لیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کو قائم کیجئے، یہاں تک کہ ایسے ہی چار بار انہوں نے کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم چار بار کہہ چکے کہ میں نے زنا کر لیا ہے تو یہ بتاؤ کہ کس سے کیا ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں عورت سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے ساتھ سوئے تھے؟ ماعز نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم اس سے چمٹے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے اس سے جماع کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم (سنگسار) کئے جانے کا حکم دیا، انہیں حرہ ۱؎ میں لے جایا گیا، جب لوگ انہیں پتھر مارنے لگے تو وہ پتھروں کی اذیت سے گھبرا کے بھاگے، تو وہ عبداللہ بن انیس کے سامنے آ گئے، ان کے ساتھی تھک چکے تھے، تو انہوں نے اونٹ کا کھر نکال کر انہیں مارا تو انہیں مار ہی ڈالا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور ان سے اسے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ۲؎، شاید وہ توبہ کرتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
جناب یزید بن نعیم بن ہزال اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ یتیم لڑکا تھا اور میرے والد کی سرپرستی میں تھا۔ پھر وہ قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ تو میرے والد نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی انہیں خبر دو، شاید وہ تیرے لیے استغفار کریں۔ اور اس سے ان کا مقصد صرف یہی امید تھی کہ اسے کوئی راہ مل جائے۔ چنانچہ وہ حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، لہٰذا اللہ کی کتاب کا حکم مجھ پر نافذ فرما دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رخ پھیر لیا۔ تو اس نے (تیسری بار) پھر کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے۔ مجھ پر اللہ کی کتاب کا حکم نافذ کر دیجیے۔ حتیٰ کہ اس نے چار بار اس طرح کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے چار بار یہ بات کہی ہے، تو نے کس کے ساتھ کیا ہے؟ کہا: فلاں لڑکی کے ساتھ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو اس کے ساتھ اکٹھے لیٹا ہے؟ کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو اس کے ساتھ چمٹا ہے؟ کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے اس کے ساتھ جماع کیا ہے؟ کہا: ہاں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس کو حرہ کی طرف لے جایا گیا۔ جب اسے پتھر مارے گئے اور اس نے پتھروں کی چوٹ محسوس کی تو برداشت نہ کر پایا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ تو سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے اس کو پا لیا، جبکہ دیگر ساتھی تھک گئے تھے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اونٹ کا پایا نکال مارا اور اسے قتل کر دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ سب بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 11652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/217) (صحیح)» ‏‏‏‏ آخری ٹکڑا:  «لعله أن يتوب ...»  صحیح نہیں ہے
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے قریب ایک سیاہ پتھریلی جگہ ہے اس وقت شہر میں داخل ہے۔ ط ۲؎: کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اقرار سے مکر جاتا اور اس سزا سے بچ جاتا نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول «هلا تركتموه» اس بات کی دلیل ہے کہ اقرار کرنے والا اگر بھاگنے لگ جائے تو اسے مارنا بند کر دیا جائے گا، پھر اگر وہ بصراحت اپنے اقرار سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا ورنہ رجم کر دیا جائے گا یہی قول امام شافعی اور امام احمد کا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله لعله أن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3565، 3581)
انظر الحديث السابق (4377)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4431
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: لَمَّا" أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، خَرَجْنَا بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَوَاللَّهِ مَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ وَلَكِنَّهُ قَامَ لَنَا، قَالَ أَبُو كَامِلٍ: قَالَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعِظَامِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ، حَتَّى أَتَى عَرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ حَتَّى سَكَتَ، قَالَ: فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا حکم دیا تو ہم انہیں لے کر بقیع کی طرف چلے، قسم اللہ کی! نہ ہم نے انہیں باندھا، نہ ہم نے ان کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ خود کھڑے ہو گئے، ہم نے انہیں ہڈیوں، ڈھیلوں اور مٹی کے برتن کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں سے مار ا، تو وہ ادھر ادھر دوڑنے لگے، ہم بھی ان کے پیچھے دوڑے یہاں تک کہ وہ حرہ پتھریلی جگہ کی طرف آئے تو وہ کھڑے ہو گئے ہم نے انہیں حرہ کے بڑے بڑے پتھروں سے مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈے ہو گئے، تو نہ تو آپ نے ان کی مغفرت کے لیے دعا کی، اور نہ ہی انہیں برا کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4431]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کرنے کا حکم فرمایا تو ہم اسے بقیع کی طرف لے چلے، اللہ کی قسم! نہ ہم نے اس کو باندھا اور نہ اس کے لیے گڑھا کھودا، لیکن وہ ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا۔ ابوکامل نے کہا: ہم نے اسے ہڈیاں، ڈھیلے اور ٹھیکرے مارے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا اور ہم بھی اس کے پیچھے بھاگ لیے حتیٰ کہ وہ حرہ (پتھریلی زمین) کی جانب میں آ گیا اور ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا تو ہم نے اسے اس جگہ کے بڑے بڑے پتھر مارے حتیٰ کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے نہ استغفار کیا اور نہ کسی طرح سے برا بھلا کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1694)، (تحفة الأشراف: 4313)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الحدود 14 (2365) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1694)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں