🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب : ما جاء في الوضوء مرة ومرتين وثلاثا
باب: ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ:" هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ" أَوْ قَالَ:" وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ، لَمْ يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً، ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ، أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 65، ومصباح الزجاجة: 174) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن عرادة اور زید الحواری ’’العمی‘‘ دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف زيد بن الحواري ھو العمي ضعيف وكذلك الراوي عنه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ الثُّمَالِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثْتَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا، قَالَ: نَعَمْ".
ثابت بن ابوصفیہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے ابوجعفر سے پوچھا: کیا آپ کو جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا، کہا: ہاں، میں نے کہا: اور دو دو بار اور تین تین بار؟ کہا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 35 (45)، (تحفة الأشراف: 2592) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ثابت بن ابی صفیہ ضعیف اور رافضی ہے اس لئے یہ ضعیف ہے، اور شریک القاضی سیٔ الحفظ، لیکن اصل متن شواہد کی بناء پر ثابت ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 422)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (45۔46)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 412
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، أَنْبَأَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ،" تَوَضَّأَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں دیکھا کہ آپ نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 3 (42 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 10403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/23) (حسن) (سند میں ”رشدین بن سعد“ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شاید کی بناء پر یہ حدیث قوی ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھو إسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد ‘‘ وھو ضعيف
وتابعه ابن لھيعة عند أحمد (1/ 23 ح 149) وسنده ضعيف
لأنه لم يعلم تحديث ابن لھيعة به قبل اختلاطه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 392

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں