🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب : قدر الجلوس بين السجدتين
باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1149
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قال:" كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكُوعُهُ وَسُجُودُهُ وَقِيَامُهُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنَ السَّوَاءِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یعنی آپ کا رکوع، سجدہ، رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کا قیام اور دونوں سجدوں کے درمیان کا بیٹھنا تقریباً سب برابر برابر ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1149]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں آپ کا رکوع اور سجدہ اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد قیام اور دو سجدوں کے درمیان جلسہ (بیٹھنا) تقریباً برابر ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1066 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، قَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1023]
حضرت یعلی بن مملک رحمہ اللہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے کیا سروکار؟ (اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے)۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی نقل فرمائی (اسے بیان کیا) تو وہ ایسی قراءت تھی جس کا ایک ایک حرف الگ الگ تھا (ہر آیت اور جملے پر وقف ہوتا تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1466) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923) مطولاً، (تحفة الأشراف: 18226)، مسند احمد 6/294، 297، 300، 308، وأعادہ المؤلف برقم: 1630 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 343)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1031
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرُّبَاطِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، قَالَا: صَلَّيْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِي بَيْتِهِ فَقَامَ بَيْنَنَا" فَوَضَعْنَا أَيْدِيَنَا عَلَى رُكَبِنَا فَنَزَعَهَا فَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِنَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
اسود اور علقمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، وہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، ہم نے اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا، تو انہوں نے اسے وہاں سے ہٹا دیا اور ہمارے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر دیں، اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1031]
حضرت اسود اور حضرت علقمہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں نماز پڑھی، آپ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ (رکوع میں) ہم نے اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیے، انہوں نے ہمارے ہاتھوں کو گھٹنوں سے ہٹا دیا اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا دیا اور (رانوں کے درمیان رکھوایا) پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1031]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 721 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1032
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَقَامَ فَكَبَّرَ فَلَمَّا أَرَادَ" أَنْ يَرْكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ" وَرَكَعَ فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا يَعْنِي الْإِمْسَاكَ بِالرُّكَبِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھائی، آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے اللہ اکبر کہا، تو جب آپ نے رکوع کرنا چاہا تو اپنے ہاتھوں کو ملا کر اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ کر لیا، اور رکوع کیا، یہ بات سعد رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: میرے بھائی نے سچ کہا، ہم پہلے ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہمیں اس کا یعنی ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑنے کا حکم دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1032]
حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے منقول ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز سکھلائی۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھے اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہا۔ جب رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسا کر ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ لیا۔ یہ بات حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی (ابن مسعود) نے سچ کہا مگر ہم یہ کام پہلے کیا کرتے تھے، پھر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 118 (747)، (تحفة الأشراف: 9469)، مسند احمد 1/418 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں