سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب :
باب:
حدیث نمبر: 1442
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ عَائِذٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" فُرِضَتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، وَصَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ حضر (اقامت) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں، اور سفر کی نماز دو رکعت، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1442]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ: ”گھر کی نماز تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی چار رکعت، سفر کی نماز دو رکعت اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی گئی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 457 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت ہے، بعض صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ، قال: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى".
ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے زہری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے کہا: مجھے عروہ نے خبر دی ہے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو رکعت نماز فرض کی، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کر دی، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 455]
حضرت اوزاعی رحمہ اللہ نے حضرت زہری رحمہ اللہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت فرمانے سے قبل مکہ میں کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”مجھے حضرت عروہ رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: ”شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو رکعتیں نماز فرض کی تھی، پھر گھر کی نماز کو چار رکعت مکمل کر دیا گیا اور سفر کی نماز پہلی حالت پر رہنے دی گئی۔““ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 16526) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 456
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نماز دو دو رکعت فرض کی گئی، پھر سفر کی نماز (دو ہی) برقرار رکھی گئی، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 456]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: ”شروع میں نماز دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں، پھر سفر کی نماز تو اتنی ہی رہنے دی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا“۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 1 (350)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین1 (685)، سنن ابی داود/الصلاة 270 (1198)، (تحفة الأشراف: 16348)، موطا امام مالک/قصر الصلاة 2 (8)، مسند احمد 6/272 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابن خزیمہ (۱/۱۵۷) اور ابن حبان (۳/۱۸۰) کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے، تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا گیا، اور فجر اور مغرب کی نماز میں اضافہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے اور مغرب دن کی وتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 457
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نماز بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں چار رکعت، سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 457]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر کی نماز چار رکعت، سفر کی نماز دو رکعت اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی گئی۔“ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین حدیث 6 (687)، سنن ابی داود/الصلاة 287 (1247)، سنن ابن ماجہ/إقامة 73 (1068)، (تحفة الأشراف: 6380)، بدون الشطر الأخیر، حم1/237، 243، 254، 355، ویأتی عند المؤلف (برقم: 1442، 1443، 1533) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خوف کی حالت میں ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو جائز ہے، کئی ایک صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 458
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تَقْصُرُ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ سورة النساء آية 101؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَانَا وَنَحْنُ ضُلَّالٌ فَعَلَّمَنَا، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ". قَالَ الشُّعَيْثِيُّ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ.
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز (بغیر خوف کے) کیسے قصر کرتے ہیں؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» ”اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں“ (النساء: ۱۰۱) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا: بھتیجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے، آپ نے ہمیں تعلیم دی، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 458]
امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”آپ نماز کیسے قصر کرتے ہیں؟ جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ﴾ [سورة النساء: 101] ”تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم نماز قصر کرلو اگر تمہیں خوف ہو۔“”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم گمراہ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی، جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سفر میں دو رکعتیں پڑھیں۔“ (محمد بن عبداللہ) شعیثی نے کہا: زہری یہ حدیث عبداللہ بن ابوبکر سے بیان کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة 73 (1066)، مسند احمد 2/94، 148، ویأتي عند المؤلف (برقم: 1435) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 470
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسًا، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ".
ابن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی، اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 470]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 5 (1089)، والحج 24 (1547)، 25 (1548)، 119 (1714)، والجہاد 104 (2951)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین 1 (690)، سنن ابی داود/الصلاة 271 (1202)، والمناسک 21 (1773)، سنن الترمذی/الصلاة 391 (546)، (تحفة الأشراف: 166، 1573)، مسند احمد 3/110، 111، 177، 186، 237، 268، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1549) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قصر اس لیے پڑھی کہ آپ حج کے لیے مکہ جا رہے تھے، نہ اس لیے کہ ذوالحلیفہ قصر کی حد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 471
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قال:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: إِلَى الْبَطْحَاءِ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ".
حکم بن عتیبہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر میں نکلے (ابن مثنی کی روایت میں ہے: بطحاء کی طرف نکلے) تو آپ نے وضو کیا، اور ظہر کی نماز دو رکعت پڑھی، اور عصر کی دو رکعت پڑھی، اور آپ کے سامنے نیزہ (بطور سترہ) تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 471]
حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت۔۔۔ ابن مثنیٰ نے کہا: ”بطحاء (مکہ میں مقبرہ معلاۃ سے صفا مروہ کی طرف جانے والے راستے) کی طرف۔۔۔ نکلے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر ظہر و عصر دو دو رکعت پڑھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ایک چھوٹا نیزہ گاڑا گیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 40 (187)، الصلاة 93 (499)، 94 (501)، المناقب 23 (3553)، مطولاً صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، وقد أخرجہ (تحفة الأشراف: 11799)، مسند احمد 4/307، 308، 309، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1449) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 478
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت، اور ذوالحلیفہ میں نماز عصر دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 478]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز مدینہ منورہ میں چار رکعت اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔“ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 24 (1547)، 25 (1548)، 27 (1551)، 119 (1714، 1715)، الجہاد 104 (2951)، 126 (2986)، صحیح مسلم/ صلاة المسافرین (690)، سنن ابی داود/المناسک 24 (1796)، الضحایات (2793)، مسند احمد 3/ 111، 164، 186، 268 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1436
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ (اس کے باوجود) آپ (راستہ بھر) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1436]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کی طرف نکلے (اور چار رکعت والی نمازیں) دو رکعت ہی پڑھتے رہے، حالانکہ رب العالمین کے سوا آپ کو کسی کا ڈر نہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (547)، (تحفة الأشراف: 6436)، مسند احمد 1/215، 226، 255، 345، 362، 369 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ کسی دشمن کا کوئی خوف نہیں تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1437]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا مگر ہم (رباعی نماز) دو رکعت پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1438
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، قال: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ، قال: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.
ابن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1438]
حضرت ابن سمط بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ کے مقام پر (کوئی رباعی نماز) دو رکعت پڑھتے دیکھا، میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں تو اسی طرح کرتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 1 (692)، (تحفة الأشراف: 10462)، مسند احمد 1/29، 30 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو مدینہ سے بارہ کیلو میٹر کی دوری پرہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1439
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ فَأَقَامَ بِهَا عَشْرًا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1439]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ گیا، آپ واپس مدینہ منورہ آنے تک نماز قصر کرتے رہے، آپ مکہ میں دس دن ٹھہرے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 1 (1081)، المغازي 52 (4297) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین 1 (693)، سنن ابی داود/الصلاة 279 (1233)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (الجمعة 40) (548)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1077)، مسند احمد 3/187، 190، 282، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1551)، ویأتی عند المؤلف فی باب 4 (برقم: 1453) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ أَبِي , أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ السُّكَّرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1440]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں (چار رکعت والی نماز) دو رکعت پڑھی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت پڑھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9458)، مسند احمد 1/378، 422 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1443
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر (اقامت) میں چار رکعتیں، اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1443]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی گھر کی نماز چار رکعت، سفر میں دو رکعت اور خوف کی حالت میں ایک رکعت فرض کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 457 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1446
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى آمَنَ مَا كَانَ النَّاسُ وَأَكْثَرَهُ رَكْعَتَيْنِ".
حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو ہی رکعت پڑھی، ایک ایسے وقت میں جس میں کہ لوگ سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے، اور تعداد میں زیادہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1446]
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، حالانکہ آپ انتہائی امن کی حالت میں تھے اور آپ کے ساتھی بھی بہت زیادہ تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر 2 (1083)، الحج 84 (1656)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (696)، سنن ابی داود/الحج 77 (1965)، سنن الترمذی/الحج 52 (882)، مسند احمد 4/306 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1447
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ، قال:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كَانَ النَّاسُ وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ".
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت پڑھائی، ایک ایسے وقت میں جس میں لوگ تعداد میں زیادہ تھے، اور سب سے زیادہ مامون و بےخوف تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1447]
حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعتیں پڑھائیں، حالانکہ لوگ بہت زیادہ تھے اور انتہائی امن کی حالت میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1448
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1448]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کی امارت کے ابتدائی زمانے میں دو رکعتیں ہی پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1472)، مسند احمد 3/144، 145، 168 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1449
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قال: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ. ح وَأَنْبَأَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال:" صَلَّيْتُ بِمِنًى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1449]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 2 (1084)، الحج 84 (1657)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (695)، سنن ابی داود/الحج 76 (1960)، (تحفة الأشراف: 9383)، مسند احمد 1/378، 416، 422، 425، 464، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1450
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قال: صَلَّى عُثْمَانُ بِمِنًى أَرْبَعًا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ:" لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت پڑھی یہاں تک کہ اس کی خبر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہی رکعت پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1450]
حضرت عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں، حتیٰ کہ یہ بات حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1451
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال:" صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1451]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 2 (1082)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (694)، (تحفة الأشراف: 8151)، مسند احمد 2/16، 55 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1452
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قال:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّاهَا عُمَرُ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّاهَا عُثْمَانُ صَدْرًا مِنْ خِلَافَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعت پڑھی، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے بھی وہاں دو ہی رکعت پڑھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1452]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دو رکعتیں پڑھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہاں دو رکعتیں ہی پڑھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی دو ہی پڑھیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کی ابتدا میں دو رکعتیں ہی پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 2 (1082)، الحج 84 (1655)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 2 (694)، (تحفة الأشراف: 7307)، مسند احمد 2/140 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1453
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي بِنَا رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا" , قُلْتُ: هَلْ أَقَامَ بِمَكَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلے، تو آپ ہمیں دو رکعت پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ہم واپس لوٹ آئے، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے مکہ میں قیام کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے وہاں دس دن قیام کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1453]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کو نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینہ تشریف لانے تک ہمیں دو رکعت ہی پڑھاتے رہے۔ (شاگرد ابواسحق بیان کرتے ہیں کہ) میں نے کہا: کیا آپ مکہ میں ٹھہرے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، ہم مکہ میں دس دن ٹھہرے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1439 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1454
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَةَ عَشَرَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پندرہ دن ٹھہرے رہے ۱؎ اور آپ دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1454]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں پندرہ دن ٹھہرے۔ دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5832)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 279 (1231)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1076) (شاذ) (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، صحیح روایت ”انیس دن‘‘ کی ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ فتح مکہ کی بات ہے اور دس دن کے قیام والی روایت حجۃ الوداع کے موقع کی ہے، فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے دنوں تک قیام کیا اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، صحیح بخاری کی روایت میں ۱۹ دن کا ذکر ہے، اور ابوداؤد کی ایک روایت اٹھارہ دن، اور دوسری میں سترہ دن کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے دخول اور خروج کے دنوں کو شمار نہیں کیا، اس نے سترہ کی روایت کی ہے اور جس نے دخول کا شمار کیا اور خروج کا نہیں یا خروج کا شمار کیا اور دخول کا نہیں، اس نے اٹھارہ کی روایت کی ہے، رہی پندرہ دن والی مؤلف کی روایت تو یہ شاذ ہے، اور اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ راوی نے سمجھا کہ اصل ۱۷ دن ہے، پھر اس میں سے دخول اور خروج کو خارج کر کے ۱۵ دن کی روایت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ تسعة عشر يوما
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1458
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قال: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَبَرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ لَا يُصَلِّي قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا , فَقِيلَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ".
وبرہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سفر میں دو رکعت پر اضافہ نہیں کرتے تھے، نہ تو اس سے پہلے نماز پڑھتے اور نہ ہی اس کے بعد، تو ان سے کہا گیا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
حضرت وبرہ بن عبدالرحمان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سفر میں دو رکعت فرض سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، نہ فرض سے پہلے سنت پڑھتے تھے اور نہ فرض کے بعد، ایک شخص نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8556) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1459
أَخْبَرَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، قال: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى طِنْفِسَةٍ لَهُ، فَرَأَى قَوْمًا يُسَبِّحُونَ , قَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ , قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُصَلِّيًا قَبْلَهَا أَوْ بَعْدَهَا لَأَتْمَمْتُهَا، صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ:" لَا يَزِيدُ فِي السَّفَرِ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ , وَأَبَا بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَذَلِكَ".
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے ظہر اور عصر کی نمازیں دو دو رکعت پڑھیں، پھر اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے، تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے پوچھا: یہ لوگ (اب) کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ لوگ سنت پڑھ رہے ہیں، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز پڑھنے والا ہوتا تو میں فرض ہی کو پورا کرتا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا، آپ سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، ابوبکر کے ساتھ رہا یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی رہا یہ سب لوگ اسی طرح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1459]
حضرت حفص بن عاصم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، انہوں نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر اپنی بچھی ہوئی چٹائی کی طرف گئے۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نفل (سنتیں) پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا: یہ لوگ کیا پڑھ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا: نفل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر میں فرضوں سے پہلے یا بعد میں سنتیں پڑھتا تو میں فرض ہی مکمل پڑھ لیتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ تو سفر میں دو رکعتوں سے زائد نہ پڑھتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا، حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 11 (1101، 1102)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن ابی داود/الصلاة 276 (1223)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (544)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 75 (1071)، (تحفة الأشراف: 6693)، مسند احمد 2/24، 56 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1533
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر میں چار رکعت نماز فرض کی، اور سفر میں دو رکعت، اور خوف میں ایک رکعت۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1533]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی گھر کی نماز چار رکعت، سفر کی نماز دو رکعت اور خوف کی نماز ایک رکعت فرض کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تقصير الصلاة فى السفر/حدیث: 1533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 457 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن