سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب : كيف يصوم ثلاثة أيام من كل شهر وذكر اختلاف الناقلين للخبر في ذلك
باب: ہر مہینے تین روزے کس طرح رکھے؟ اس سلسلے کی حدیث کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2422
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ، وَأَيَّامُ الْبِيضِ صَبِيحَةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن کا روزے پورے سال کا روزے ہے“ (یعنی ایام بیض کے روزے) اور ایام بیض (چاند کی) تیرہویں چودہویں اور پندرہویں راتیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2422]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے تین روزے رکھنا (ثواب کے لحاظ سے) زمانے بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اور «أَيَّامُ الْبِيضِ» (چمکتی راتوں والے دن) تیرہ، چودہ اور پندرہ ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3222) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: انہیں ایام بیض اس لیے کہتے ہیں کہ ان کی راتیں چاندنی کی وجہ سے سفید اور روشن ہوتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 8
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ" بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ".
شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے (پہل کرتے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 8]
قاضی شریح سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے کون سا کام کرتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”مسواک کرتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 8]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 15 (253)، سنن ابی داود/فیہ 27 (51)، سنن ابن ماجہ/فیہ 7 (290)، مسند احمد 6/41، 110، 182، 188، 192، 237، 254، (تحفة الأشراف: 16144) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں کس درجہ لطافت تھی کہ منہ میں معمولی تغیر کا پیدا ہونا بھی گوارا نہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2367
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ مِنْ هَذِهِ الْجُمُعَةِ وَالِاثْنَيْنِ مِنَ الْمُقْبِلَةِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے: پہلے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) اور جمعرات کو، اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2367]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے: دو ایک ہفتے میں پیر اور جمعرات کو، اور اگلے ہفتے کے پیر کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18161) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن لكن الأصح بلفظ وخميس
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2368
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَمِنَ الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کی جمعرات اور دوشنبہ (پیر) کو اور دوسرے ہفتہ کے دوشنبہ (پیر) کو روزہ رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2368]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے جمعرات اور سوموار کو اور دوسرے جمعہ (ہفتے) سے سوموار کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 69 (2451)، (تحفة الأشراف: 15796)، مسند احمد 6/287 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2370
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ أَبِي , أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ، وَقَلَّمَا يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2370]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے شروع سے تین دن کا روزہ رکھتے تھے اور جمعۃ المبارک کے دن کم ہی روزہ چھوڑتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم68 (2450)، سنن الترمذی/الصوم41 (742)، سنن ابن ماجہ/الصوم37 (1725) مختصرا (تحفة الأشراف: 9206)، مسند احمد 1/406 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری کی ایک حدیث (صوم/۱۹۸۴) میں خاص جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے صراحت کے ساتھ ممانعت آئی ہے، تو اس حدیث کا مطلب بقول حافظ ابن حجر یہ ہے کہ اگر ان تین ایام بیض میں جمعہ آ پڑتا تو جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کے وجہ سے آپ روزہ نہیں توڑتے تھے، بلکہ رکھ لیتے تھے، ممانعت تو خاص ایک دن جمعہ کو روزہ رکھنے کی ہے، یا بقول حافظ عینی: ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے، لیکن قابل قبول توجیہ حافظ ابن حجر کی ہی ہے، کیونکہ آپ تین دن ایام بیض کے روزہ تو رکھتے ہی تھے، اور پھر دو دن جمعہ کی مناسبت سے بھی رکھتے ہوں، یہ کہیں منقول نہیں ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ خاص اکیلے جمعہ کے دن کی ممانعت امت کے لیے ہے، اور روزہ رکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ , قَالَ:" وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ"، قَالُوا: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالُوا: فَنِصْفَهُ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں“ ۱؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2387]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ایک آدمی ہمیشہ روزے رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش وہ کبھی کھانا نہ کھاتا (اور مر جاتا)۔“ لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی دنوں کے روزے کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی بہت زیادہ ہیں۔“ انہوں نے کہا: نصف دنوں کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہی ہیں۔“ پھر فرمایا: ”میں تمہیں وہ روزے نہ بتاؤں جو سینے کا کینہ (دل کے مفاسد) دور کرنے کے لیے کافی ہیں؟ ہر ماہ میں تین دن کے روزے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15652) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مر جائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مر جانے کی تمنا کی جائے۔ ۲؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ۳؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2388
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا"، قَالَ: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالَ: فَنِصْفَهُ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالَ:" أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ“، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: ”زیادہ ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے“، لوگوں نے کہا: جی ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: ”یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2388]
حضرت عمرو بن شرحبیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو چاہتا ہوں کہ وہ کبھی کچھ نہ کھاتا۔“ اس نے کہا: دو تہائی روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت زیادہ ہیں۔“ اس نے کہا: نصف دنوں کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی زیادہ ہی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایسے روزوں کی خبر نہ دوں جو دل کی خرابیوں (اخلاقی کمزوریوں) کو دور کر دیتے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین روزے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا“۔ (راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: (اچھا) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے“، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2389]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ہمیشہ بلاناغہ روزہ رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ چھوڑا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے، ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا کوئی شخص (ہمیشہ) اس کی طاقت رکھ سکتا ہے؟“ انہوں نے پھر عرض کیا: اس شخص کے بارے میں کیا فرمان ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، دو دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی۔“ پھر فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی۔“ پھر فرمایا: ”ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور ہر رمضان کے روزے رکھ لینا (ثواب کے لحاظ سے) زمانہ بھر کے روزے رکھ لینے کے برابر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2385 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2398
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وأَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ عَشَرَةِ" , فَقُلْتُ: زِدْنِي , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ تِسْعَةٍ" , قُلْتُ: زِدْنِي , قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ ثَمَانِيَةٍ" , قَالَ: ثَابِتٌ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفٍ , فَقَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا يَزْدَادُ فِي الْعَمَلِ، وَيَنْقُصُ مِنَ الْأَجْرِ وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ تمہیں دس دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اضافہ فرما دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ تمہیں نو دن کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میرے لیے کچھ اور بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تین دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں آٹھ دن کا ثواب ملے گا“۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے مطرف سے اس کا ذکر کیا، تو انہوں نے کہا: میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ کام میں تو بڑھ رہے ہیں لیکن اجر میں گھٹتے جا رہے ہیں، یہ الفاظ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2398]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن روزہ رکھ، تجھے دس روزوں کا ثواب ملے گا۔“ میں نے کہا: اور زیادہ کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن روزہ رکھ لے، تجھے نو روزوں کا ثواب ملے گا۔“ میں نے کہا: مزید زیادہ کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھ لے، تجھے آٹھ روزوں کا ثواب ملے گا۔“ (راویِ حدیث) ثابت رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت مطرف رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: میرا خیال ہے عمل بڑھ رہا ہے، ثواب کم ہو رہا ہے۔ حدیث کے الفاظ محمد (بن اسماعیل) کے بیان کردہ ہیں (زکریا بن یحییٰ کے نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2398]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8655، مسند احمد 2/165، 209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2405
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِيَاضٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ مِنَ الشَّهْرِ يَوْمًا وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" فَصُمْ يَوْمَيْنِ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ:" صُمْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَلَكَ أَجْرُ مَا بَقِيَ" , قُلْتُ: إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مہینے میں ایک دن روزہ رکھو تمہیں باقی دنوں کا ثواب ملے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”دو دن رکھ لیا کر، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جایا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تین دن رکھ لیا کرو تمہیں باقی دنوں کا بھی اجر ملا کرے گا“، میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”چار دن رکھ لیا کرو باقی دنوں کا بھی اجر بھی تمہیں ملا کرے گا“، میں نے عرض کیا: میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2405]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے میں ایک روزہ رکھ لے، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جائے گا۔“ میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ فرمایا: ”پھر دو دن روزہ رکھ لے، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تین دن روزہ رکھ لے، تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ نے فرمایا: ”چار دن روزہ رکھ لے۔ تجھے باقی دنوں کا ثواب مل جائے گا۔“ میں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افضل ترین روزہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2405]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2396 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2410
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" شَهْرُ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ".
ابوعثمان سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”صبر کے مہینے کے، اور ہر مہینے سے تین دن کے روزے صوم الدهر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2410]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صبر کا مہینہ (یعنی رمضان المبارک) اور ہر مہینے کے تین روزے (ثواب کے لحاظ سے) زمانے بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13621)، مسند احمد 2/263، 384، 513 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صبر کے مہینہ سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2411
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ اللَّانِيُّ بِالْكُوفَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ"، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا سورة الأنعام آية 160.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مہینے کے تین دن روزہ رکھے تو گویا اس نے صوم الدهر رکھے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سچ فرمایا ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ”جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس گنا ثواب ملے گا“ (الانعام: ۱۶۰)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2411]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر مہینے تین روزے رکھے تو یوں سمجھو اس نے زمانہ بھر کے روزے رکھ لیے۔“ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں سچ فرمایا ہے: ﴿مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا﴾ [سورة الأنعام: 160] ”جو شخص نیکی کرے گا اسے (اس نیکی کا) دس گنا ثواب دیا جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم54 (762)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1708)، (تحفة الأشراف: 11967)، مسند احمد 5/145 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، ترمذي (762) ابن ماجه (1708) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَدْ تَمَّ صَوْمُ الشَّهْرِ، أَوْ فَلَهُ صَوْمُ الشَّهْرِ" , شَكَّ عَاصِمٌ".
ابوعثمان ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے ہر مہینے میں تین روزہ رکھے تو اس نے (گویا) پورے مہینے کے روزہ رکھے“، یا یہ (فرمایا): ”اس کے لیے پورے مہینے کے روزہ کا ثواب ہے“، عاصم راوی کو یہاں شک ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2412]
حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے تو گویا مہینے بھر کے روزے ہو گئے (یا اسے مہینے بھر کے روزوں کا ثواب ملے گا)۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، مگر ابو عثمان نہدی کا براہ راست سماع ابو ذر رضی الله عنہ سے ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، رجل: مجهول انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2413
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" صِيَامٌ حَسَنٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ".
عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر مہینے کے تین دن کے روزہ بہترین روزہ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2413]
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اچھے روزے ہر ماہ میں تین روزے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9772)، مسند احمد 4/217 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2415
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2415]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین دن روزہ رکھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6685)، مسند احمد 2/90 (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة اور شریک قاضی ضعیف ہیں، لیکن آنے والی روایت سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2416
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ صَيَّاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، يَوْمَ الِاثْنَيْنِ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ، وَالْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ، ثُمَّ الْخَمِيسِ الَّذِي يَلِيهِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے، مہینے کے پہلے دوشنبہ (پیر) کو، اور اس کے بعد کے قریبی جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے جمعرات کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2416]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے؛ مہینے کے پہلے سوموار اور جمعرات کو اور پھر اگلی جمعرات کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2417
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا , تَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ الْخَمِيسَ، ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ".
ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین کے پاس آیا، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ (پیر) کو، پھر جمعرات کو، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2417]
حضرت ہنیدہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ام المومنین (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا) کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے سنا آپ فرما رہی تھیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے: مہینے کی پہلی سوموار کو، پھر جمعرات کو، پھر اگلی جمعرات کو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15814) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2421
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوَّلِ خَمِيسٍ وَالإِثْنَيْنِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دن۔ ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو، اور دو اس کے بعد والے دو شنبہ (پیر) کو پھر اس کے بعد والے دوشنبہ (پیر) کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2421]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہر مہینے میں) تین دن کے روزوں کا حکم دیتے تھے، یعنی مہینے کی پہلی جمعرات اور دو سوموار۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2374 (شاذ) (’’حکم دیتے تھے“ کا لفظ شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ آپ خود روزے رکھتے تھے)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ نے دوشنبہ (پیر) کو مکرر رکھنے کا حکم دیا اور اس سے پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ آپ جمعرات کو مکرر رکھتے تھے، ان دونوں روایتوں کے ملانے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مطلوب ان دونوں دنوں میں تین دن روزے ہیں، خواہ وہ دوشنبہ (پیر) کو مکرر کر کے ہوں یا جمعرات کو، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2423
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الْغُرَّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا، اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، اور اعرابی (دیہاتی) بھی رکا رہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی (دیہاتی) سے پوچھا: ”تم کیوں نہیں کھا رہے ہو؟“ اس نے کہا: میں مہینے میں ہر تین دن روزے رکھتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”اگر تم روزے رکھتے ہو تو ان دنوں میں رکھو جن میں راتیں روشن رہتی ہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2423]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی بھنا ہوا خرگوش لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسے آپ کے سامنے رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ روک لیا اور نہ کھایا اور لوگوں سے کہا کہ وہ کھالیں۔ اعرابی نے بھی ہاتھ روکے رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کھانے میں کیا رکاوٹ ہے؟“ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر روزے رکھنے ہوں تو چاندنی راتوں (کے دنوں) کے (یعنی چاند کی ۱۳، ۱۴ اور ۱۵ تاریخ کو) روزے رکھا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2423]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14624)، مسند احمد 2/336، 346، ویأتی عند المؤلف برقم2430، 2431، مرسلاً، 4315 (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی 1567، وتراجع الالبانی 423)»
وضاحت: ۱؎: یعنی چاند کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں میں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالملك بن عمير مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2424
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم مہینے کے تین روشن دنوں: تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھا کریں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2424]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر مہینے میں «أَيَّامِ الْبِيضِ» ”روشن راتوں کے دنوں“ کے تین روزے رکھا کریں، یعنی (چاند کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم54 (761)، (تحفة الأشراف: 11988)، مسند احمد 5/150، 152، 162، 177 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2425
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ الْبِيضَ: ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ہر مہینے کے ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کو روزے رکھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2425]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر ماہ تین روشن (راتوں کے) دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیا، یعنی ”تیرہ، چودہ اور پندرہ کو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2426
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صُمْتَ شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو مقام ربذہ میں کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم مہینے میں کچھ دن روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2426]
حضرت موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ربذہ بستی میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مہینے میں کچھ دنوں کے روزے رکھے تو (چاند کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو رکھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2424 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2427
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ:" عَلَيْكَ بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ لَيْسَ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ، وَلَعَلَّ سُفْيَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا اثْنَانِ فَسَقَطَ الْأَلِفُ، فَصَارَ بَيَانٌ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”تم تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے کو اپنے اوپر لازم کر لو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہاں (راوی سے) غلطی ہوئی ہے، یہ بیان کی روایت نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا ہے کہ سفیان نے کہا «حدثنا اثنان» کہا ہو تو «اثنان» کا الف گر گیا پھر «ثنان» سے بیان ہو گیا (جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2427]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: (چاند کی) ”تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھا کر۔“ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ غلطی ہے۔ یہ حدیث ”بیان کی“ کی نہیں ہے، ہو سکتا ہے کہ حضرت سفیان نے «حَدَّثَنَا اثْنَانِ» کہا ہو، الف گر گیا اور کسی راوی نے غلطی سے اسے ”بیان“ پڑھ لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12006)، مسند احمد 5/150، ویأتي عند المؤلف 4316 (حسن) (سند میں ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں، مگر پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی حسن ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2428
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلَانِ مُحَمَّدٌ وَحَكِيمٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا بِصِيَامِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو روزے رکھنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2428]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ”تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے روزے رکھنے“ کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن) (دیکھئے پچھلی سند پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2429
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ أَبِي: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَرْنَبٌ قَدْ شَوَاهَا وَخُبْزٌ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُهَا تَدْمَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ:" لَا يَضُرُّ، كُلُوا"، وَقَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ:" كُلْ" , قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" صَوْمُ مَاذَا" , قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا، فَعَلَيْكَ بِالْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الصَّوَابُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ وَقَعَ مِنَ الْكُتَّابِ ذَرٌّ، فَقِيلَ أَبِي.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس کے ساتھ ایک بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے لا کر رکھا۔ پھر اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اسے حیض آتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: ”کوئی نقصان نہیں تم سب کھاؤ“، اور آپ نے اعرابی (دیہاتی) سے فرمایا: تم بھی کھاؤ، اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، آپ نے پوچھا: ”کیسا روزے؟“ اس نے کہا: ہر مہینے میں تین دن کا روزے، آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ روزے رکھنے ہیں تو روشن اور چمکدار راتوں والے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں کو لازم پکڑو“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: صحیح «عن ابی ذر» ہے، قرین قیاس یہ ہے کہ «ذر» کاتبوں سے چھوٹ گیا۔ اس طرح وہ «ابی بن کعب» ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2429]
ابن حوتکیہ سے روایت ہے کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ اس کے پاس بھنا ہوا خرگوش تھا اور روٹیاں بھی تھیں۔ اس نے یہ سب کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، پھر کہا: میں نے اسے اس حالت میں پایا تھا کہ یہ (اس کا گوشت) خون آلود تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، کھاؤ۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی سے فرمایا: ”تو بھی کھا۔“ اس نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیسا روزہ؟“ اس نے کہا: مہینے کے تین روزے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے یہ روزے رکھنے ہوں تو چاندنی راتوں کے دنوں کے روزے رکھا کر، یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔“ امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا: صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت ابن حوتکیہ نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے، شاید کسی کاتب سے لفظ ذر (لکھنے سے) رہ گیا ہے اور اس نے ابی کہہ دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 78 (ضعیف) (ابن الحوتکیہ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمٰن بن أبى ليلة ضعيف،. والحكم بن عتيبة عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2431
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا رَجُلٌ فَلَمَّا قَدَّمَهَا إِلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ بِهَا دَمًا، فَتَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَقَالَ لِمَنْ عِنْدَهُ:" كُلُوا فَإِنِّي لَوِ اشْتَهَيْتُهَا أَكَلْتُهَا" وَرَجُلٌ جَالِسٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ فَكُلْ مَعَ الْقَوْمِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ:" فَهَلَّا صُمْتَ الْبِيضَ" , قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ:" ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھون رکھا تھا، جب اس نے اسے آپ کے سامنے پیش کیا تو کہا: میں نے دیکھا اسے خون (حیض) آ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا، نہیں کھایا، اور ان لوگوں سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا: ”تم کھاؤ، اگر مجھے اس کی خواہش ہوتی میں بھی کھاتا“، اور وہ شخص (جو اسے لایا تھا) بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”قریب آ جاؤ، اور تم بھی لوگوں کے ساتھ کھاؤ“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا: ”تو تم نے بیض کے روزے کیوں نہیں رکھے؟“ اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں کے روزے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2431]
حضرت موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا جسے ایک شخص نے بھونا تھا۔ جب اس نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کے ساتھ خون دیکھا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور نہ کھایا، البتہ حاضرین سے فرمایا: ”تم کھاؤ۔ اگر مجھے خواہش ہوتی تو کھا لیتا۔“ ایک آدمی الگ بیٹھا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو بھی قریب ہو کر لوگوں کے ساتھ کھا لے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں روزے سے ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے چاندنی راتوں والے روزے کیوں نہ رکھ لیے؟“ اس نے کہا: وہ کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ کے)۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِهَذِهِ الْأَيَّامِ الثَّلَاثِ الْبِيضِ , وَيَقُولُ: هُنَّ صِيَامُ الشَّهْرِ".
قتادہ بن ملحان (ابن منہال) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2432]
حضرت عبدالملک رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی راتوں والے تین دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ تین روزے (ثواب کے لحاظ سے) مہینے بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم68 (2449)، سنن ابن ماجہ/الصوم29 (1707)، (تحفة الأشراف: 11071)، مسند احمد 4/165، 275، 28 (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عبدالملک بن قتادہ بن المنھال‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2449) ابن ماجه (1707) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ الْبِيضِ، قَالَ: هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ".
ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2433]
حضرت عبدالملک بن ابومنہال اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چاندنی راتوں والے تین دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینے بھر کے روزوں کے برابر ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
حدیث نمبر: 2434
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ مِلْحَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِصَوْمِ أَيَّامِ اللَّيَالِي الْغُرِّ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2434]
حضرت عبدالملک بن قدامہ بن ملحان رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں چاندنی راتوں والے دنوں کے روزوں کا حکم دیا کرتے تھے، یعنی (چاند کی) تیرہ، چودہ اور پندرہ (تاریخ) کا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2432 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
حدیث نمبر: 2435
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي , قَالَ:" تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! زِدْنِي زِدْنِي، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ:" زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي. قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات ”کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2435]
حضرت ابوعقرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل روزے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے میں ایک روزہ رکھ لیا کر۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات دہراتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے۔ چلو مہینے میں دو دن روزہ رکھ لیا کر۔“ میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے، میں اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات دہراتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ کے رسول! بڑھائیے، بڑھائیے، میں اپنے آپ کو طاقتور محسوس کرتا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے حتیٰ کہ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری درخواست رد کر دیں گے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2071)، مسند احمد 4/347، 5/67 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2436
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ:" صُمْ يَوْمًا مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَاسْتَزَادَهُ" , قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَزَادَهُ , قَالَ:" صُمْ يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا"، فَمَا كَادَ أَنْ يَزِيدَهُ فَلَمَّا أَلَحَّ عَلَيْهِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2436]
حضرت ابوعقرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نفل روزے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینے میں ایک روزہ رکھ لیا کر۔“ میں نے مزید اجازت مانگی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! میں اپنے آپ کو طاقت ور محسوس کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید اجازت دے دی اور فرمایا: ”ہر مہینے دو روزے رکھ لیا کر۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میری بات دوہراتے ہوئے) فرمایا: ”میں اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہوں، میں اپنے آپ کو طاقت ور سمجھتا ہوں۔“ امید نہیں تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزید اجازت فرمائیں گے۔ جب میں نے اصرار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مہینے تین روزے رکھ لیا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4315
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ"، قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ الْغُرَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا، اس نے اسے بھون رکھا تھا، اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہے اور خود نہیں کھایا اور لوگوں کو کھانے کا حکم دیا۔ اعرابی بھی رک گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کھانے سے کیا چیز مانع ہے؟“ وہ بولا: میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں روزے رکھنے ہیں تو چاندنی راتوں (تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں) میں رکھا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 4315]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش بھون کر لایا اور آپ کے آگے رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نہ بڑھایا اور نہ کھایا لیکن آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ کھائیں۔ اعرابی نے بھی نہ کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تو کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا: میں ہر مہینے سے تین دن روزہ رکھتا ہوں (آج میرا روزہ ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے نفل روزے رکھنے ہوں تو چاندنی راتوں کے روزے رکھا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 4315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2423 (ضعیف) (اس کے راوی ”عبدالملک“ مدلس اور مختلط ہیں، موسی بن طلحہ سے صحیح سند ”عن أبی ذر‘‘ ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2423) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
حدیث نمبر: 4316
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَنَا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَدْمَى، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ، , ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ:" كُلُوا"، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ:" وَمَا صَوْمُكَ؟"، قَالَ: مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ؟ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قاحہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کے دن ہمارے ساتھ کون تھا؟ ابوذر رضی اللہ عنہ بولے: میں، (اس دن) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا تو جو لے کر آیا اس نے کہا: میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا پھر فرمایا: ”تم لوگ کھاؤ“، ایک شخص نے کہا: روزہ دار ہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہارا یہ کون سا روزہ ہے؟“ اس نے کہا: ہر ماہ تین دن والا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں راتوں کے روزے کیوں نہیں رکھتے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 4316]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: قاحہ کے دن ہمارے ساتھ کون حاضر تھا؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا۔ لانے والے شخص نے یہ بھی کہا کہ میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ کھایا، پھر آپ نے (حاضرین سے) فرمایا: ”تم کھاؤ۔“ وہ آدمی کہنے لگا: میرا روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیسا روزہ؟“ اس نے کہا: ہر مہینے سے تین روزے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو چاندنی راتوں تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے کیوں نہیں رکھتا؟“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 4316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن