سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
168. باب : في الجنب إذا لم يتوضأ
باب: جنبی جب وضو نہ کرے۔
حدیث نمبر: 262
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، ح وَأَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر، کتا یا جنبی ہو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 262]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا یا جنبی ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 262]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 90 (227)، اللباس 48 (4152)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3650)، (بدون قولہ’’ولاجنب‘‘)، (تحفة الأشراف: 10291)، مسند احمد 1/83، 104، 139، سنن الدارمی/الاستئندان 34، 2705، وأعادہ المؤلف برقم: 4286 (ضعیف) (اس کے راوی ’’نجی‘‘ اور ان کا اضافہ ’’ولاجنب‘‘ ہی ضعیف ہے، ورنہ اس کے سوا باقی ٹکڑے صحیحین میں دیگر صحابہ سے مروی ہیں)»
وضاحت: اس سے مراد رحمت اور برکت کے فرشتے ہیں، نہ کہ وہ فرشتے جو جنبی اور غیر جنبی کسی سے جدا نہیں ہوتے۔ تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے۔ کتا سے مراد وہ کتا ہے جو شکار یا گھر اور کھیت وغیرہ کی رکھوالی کے لیے نہ ہو۔ جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو غسل میں سستی کرتا ہو، اور دیر سے غسل کرنا اس کی عادت ہو گئی ہو، یا وہ جنبی ہے جس نے وضو نہ کیا ہو جیسا کہ مصنف نے باب کے ذریعہ اشارہ کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4286
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَليِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملائکہ (فرشتے) ۱؎ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو یا کتا ہو یا جنبی (ناپاک شخص) ہو“ ۲؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 4286]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 4286]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 262 (ضعیف) ’’حدیث ولا جنب کے لفظ سے ضعیف ہے) (اس کے راوی ”نجی“ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، مگر اس میں ”جنبی“ کا لفظ نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: ”فرشتوں“ سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں نہ کہ حفاظت کرنے والے فرشتے، کیونکہ حفاظت کرنے والے فرشتوں کا کسی انسان یا انسان کے رہنے والی جگہ سے دور رہنا ممکن نہیں۔ ۲؎: حدیث میں صحت و ثبوت ہونے کے اعتبار سے ”جنبی“ کا لفظ ”منکر“ یعنی ضعیف ہے اور ”کتا“ سے مراد شکار، کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے مقصد سے پالے جانے والے کتوں کے علاوہ کتے مراد ہیں، اور ”تصویر“ سے وہ تصویریں مراد ہیں جس کا سایہ ہوتا ہے، یعنی ہاتھ سے بنائے ہوئے مجسمے، یا دیواروں پر لٹکائی جانے والی کاغذ پر بنی ہوئی تصویریں ہیں، کرنسی نوٹوں، کتابوں اور رسائل و جرائد میں بنی ہوئی تصویروں سے بچنا اس زمانہ میں بڑا مشکل بلکہ محال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله ولا جنب
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4287
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ".
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتے، یا تصاویر (مجسمے) ہوں“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 4287]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 4287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3225)، 17(3322)، المغازي 12 (4002)، اللباس 88 (5949)، 92 (5975)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4153)، سنن الترمذی/الأدب 44 (2804)، سنن ابن ماجہ/اللباس 44 (3649)، (تحفة الأشراف: 3779)، مسند احمد (4/28، 29، 30) ویأتي عند المؤلف في الزینة 111 (بأرقام5349، 5350) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4288
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمَ. فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي". قَالَ: فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ , فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ. قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ". قَالَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا: ”جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی“، آپ اس دن اسی طرح (غمزدہ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے (پلے) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل علیہ السلام ملے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 4288]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے افسردہ سے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج صبح سے آپ کی حالت عجیب سی محسوس ہو رہی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے آج رات ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ملے نہیں۔ اللہ کی قسم! انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ آپ سارا دن اسی طرح رہے، پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری بستروں والی چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا بیٹھا ہے۔ آپ نے حکم دیا اور اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے وہاں کچھ پانی چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آپ سے ملے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ”آپ نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ گزشتہ رات مجھ سے ملیں گے؟“ وہ کہنے لگے: ہاں، لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کا حکم دے دیا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 4288]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 26 (2105)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4157)، (تحفة الأشراف: 18068)، مسند احمد (6/330) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5349
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ , وَلَا صُورَةٌ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ)“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5349]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا صورت (تصویر) ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4287 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5350
أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ ایسے گھر میں جس میں مورتیاں (مجسمے)“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5350]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا ذی روح کی تصویر ہو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4287 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5352
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ". قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ , فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْدٌ عَنِ الصُّورَةِ يَوْمَ الْأَوَّلِ؟ قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ يَقُولُ:" إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ".
ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو“، بسر کہتے ہیں: پھر زید بیمار پڑ گئے تو ہم نے ان کی عیادت کی، اچانک دیکھا کہ ان کے دروازے پر پردہ ہے جس میں تصویر ہے، میں نے عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کے بارے میں پہلے روز حدیث نہیں سنائی تھی؟ کہا: عبیداللہ نے کہا: کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا: کپڑے کے نقش کے سوا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5352]
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔“ (راویِ حدیث) بسر رحمہ اللہ نے کہا: پھر حضرت زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے۔ ہم ان کی بیمار پرسی کو گئے تو ان کے دروازے پر ایک با تصویر پردہ لٹک رہا تھا۔ میں نے (اپنے ساتھی) عبید اللہ خولانی رحمہ اللہ سے کہا: کیا ہمیں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اس سے پہلے تصویر کے بارے میں حدیث نہیں بتائی تھی؟ عبید اللہ رحمہ اللہ نے کہا: کیا آپ نے ان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا؟ ”مگر کپڑے میں منقش تصویر جائز ہے؟“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3226)، اللباس 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4153)، (تحفة الأشراف: 3775)، مسند احمد (4/28) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 5353
حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا , فَدَعَوْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ، فَدَخَلَ فَرَأَى سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ فَخَرَجَ , وَقَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، چنانچہ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے تو ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۱؎، تو آپ باہر نکل گئے اور فرمایا: ”فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5353]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کھانا تیار کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، آپ تشریف لائے تو آپ نے ایک پردہ دیکھا جس پر تصویریں تھیں، آپ واپس چلے گئے اور فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5353]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الٔقطعمة 56 (3359)، اللباس 44 (3650) (تحفة الأشراف: 10117) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو جاندار کی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5367
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" اسْتَأْذَنَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: ادْخُلْ، فَقَالَ: كَيْفَ أَدْخُلُ وَفِي بَيْتِكَ سِتْرٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَإِمَّا أَنْ تُقْطَعَ رُءُوسُهَا، أَوْ تُجْعَلَ بِسَاطًا يُوطَأُ، فَإِنَّا مَعْشَرَ الْمَلَائِكَةِ لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَصَاوِيرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: اندر آئیے، وہ بولے: میں کیسے اندر آؤں؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5367]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آ جائیں۔“ انہوں نے کہا: میں کیسے داخل ہو سکتا ہوں جب کہ آپ کے گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصویریں بنی ہوئی ہیں؟ یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیں یا اسے چٹائی بنا کر بچھا لیں۔ ہم فرشتے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 5367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 48 (4158)، سنن الترمذی/الأدب 44 (الاستئذان 78) (2807)، (تحفة الأشراف: 14345)، مسند احمد (2/305، 308، 390، 478) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح