🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب : الرجعة
باب: (طلاق سے) رجعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3585
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرُ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ يَعْنِي فَإِنْ شَاءَ فَلْيُطَلِّقْهَا"، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: فَاحْتَسَبْتَ مِنْهَا، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُهَا أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میری بیوی حالت حیض میں تھی اسی دوران میں نے اسے طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ حالت طہر میں آ جائے تو اسے اختیار ہے، چاہے تو اسے طلاق دیدے۔ یونس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے (پہلی طلاق) کو شمار و حساب میں رکھا ہے تو انہوں نے کہا: نہ رکھنے کی کوئی وجہ؟ تمہیں بتاؤ اگر کوئی عاجز ہو جائے یا حماقت کر بیٹھے (تو کیا شمار نہ ہو گی؟)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3585]
حضرت یونس بن جبیر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی جب کہ وہ حیض سے تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے۔ جب وہ پاک ہو جائے پھر چاہے تو طلاق دے دے۔ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا وہ طلاق شمار کی گئی؟ انہوں نے فرمایا: اور کیا! تم بتاؤ کہ اگر طلاق دینے والا صحیح طلاق سے عاجز رہا اور اس نے حماقت کر دی تو کیا طلاق شمار نہیں ہو گی؟ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3391
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْقَوْمَسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُبِّبَ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا النِّسَاءُ , وَالطِّيبُ، وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3391]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیوی چیزوں میں سے بیوی اور خوشبو مجھے بہت پسند ہیں۔ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3391]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 435)، مسند احمد (3/128، 199، 285) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن حَدَّثَنِي الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ قَالَ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3392
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءُ , وَالطِّيبُ , وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں اور خوشبو میرے لیے محبوب بنا دی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3392]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (دنیوی چیزوں میں) مجھے بیوی اور خوشبو بہت پسند ہیں لیکن میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں مضمر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3392]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3420
أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: سُئِلَ الزُّهْرِيُّ، كَيْفَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ؟ فَقَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ:" لِيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ يُمْسِكْهَا، حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً وَتَطْهُرَ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، فَذَاكَ الطَّلَاقُ لِلْعِدَّةِ كَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَرَاجَعْتُهَا، وَحَسَبْتُ لَهَا التَّطْلِيقَةَ الَّتِي طَلَّقْتُهَا.
زبیدی کہتے ہیں: امام زہری سے پوچھا گیا: عدت والی طلاق کس طرح ہوتی ہے؟ (اشارہ ہے قرآن کریم کی آیت: «فطلقوهن لعدتهن» (الطلاق: 1) کی طرف) تو انہوں نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے انہیں بتایا ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، اس بات کا ذکر عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غصہ ہوئے اور فرمایا: اسے رجوع کر لینا چاہیئے، پھر اسے روکے رکھے رہنا چاہیئے یہاں تک کہ (پھر) اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر اسے طلاق دے دینا ہی مناسب سمجھے تو طہارت کے ایام میں طلاق دیدے ہاتھ لگانے سے پہلے۔ عدت والی طلاق کا یہی طریقہ ہے جیسا کہ اللہ عزوجل نے آیت نازل فرمائی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اسے لوٹا لیا اور جو طلاق میں اسے دے چکا تھا اسے بھی شمار کر لیا (کیونکہ ان کے خیال میں وہ طلاق اگرچہ سنت کے خلاف اور حرام تھی پروہ پڑ گئی تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3420]
امام زہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ صحیح وقت پر طلاق کا کیا طریقہ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے حضرت سالم رحمہ اللہ نے (اپنے والد محترم) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غصے ہوئے اور فرمایا: وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس رکھے حتیٰ کہ اسے ایک اور حیض آئے، پھر وہ پاک ہو۔ اب اگر اس کا خیال بنے تو طہر کی حالت میں بغیر جماع کیے اسے طلاق دے دے۔ یہ صحیح وقت پر طلاق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا، اور جو طلاق میں نے اسے (حیض کی حالت میں) دی تھی، وہ طلاق ہی سمجھی گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق 1 (4908)، والأحکام 13 (7160)، سنن ابی داود/الطلاق 4 (2181)، سنن الترمذی/الطلاق 1 (1175)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 3 (2109)، مسند احمد 2/26، 58، 61، 81، 130 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3421
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ , عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ، يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، يَسْمَعُ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟، فَقَالَ لَهُ: طَلَّقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرَاجِعْهَا"، فَرَدَّهَا عَلَيَّ، قَالَ:" إِذَا طَهُرَتْ، فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" 0 يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ 0".
ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کرتے سنا: آپ کی کیا رائے ہے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟ انہوں نے جواب دیا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس وقت طلاق دی جب وہ حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتاتے ہوئے مسئلہ پوچھا کہ عبداللہ بن عمر کی بیوی حالت حیض میں تھی اس نے اسے اسی حالت میں طلاق دے دی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ کو چاہیئے کہ وہ اس سے رجوع کرے، اور پھر آپ نے میری بیوی میرے پاس بھیج دی اور فرمایا: جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو جائے تب اسے یا تو طلاق دیدے یا اسے روک لے (اسے دونوں کا اختیار ہے جیسی اس کی مرضی و پسند ہو)۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: (اس کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو (الطلاق: ۱)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3421]
حضرت ابوزبیر کی موجودگی میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی؟ وہ فرمانے لگے: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو (یوں) کہا: عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ وہ اس سے رجوع کرے۔ اور آپ نے میری بیوی میرے پاس بھیج دی اور فرمایا: جب یہ حیض سے پاک ہو تو پھر طلاق دے یا اپنے نکاح میں رکھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے شروع وقت میں طلاق دو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، سنن ابی داود/الطلاق 4 (2185)، (تحفة الأشراف: 7443)، مسند احمد (2/61، 80-139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3425
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً، فَانْطَلَقَ عُمَرُ، فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْ عَبْدَ اللَّهِ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ فَلْيَتْرُكْهَا حَتَّى تَحِيضَ، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ مِنْ حَيْضَتِهَا الْأُخْرَى فَلَا يَمَسَّهَا حَتَّى يُطَلِّقَهَا، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا فَلْيُمْسِكْهَا، فَإِنَّهَا الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ اسے لوٹا لے۔ پھر جب (حیض سے فارغ ہو کر) وہ غسل کر لے تو اسے چھوڑے رکھے پھر جب حیض آئے اور اس دوسرے حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے تو اسے نہ چھوئے یعنی (صحبت نہ کرے) یہاں تک کہ اسے طلاق دیدے پھر اسے روک لینا چاہے تو روک لے (اور طلاق نہ دے) یہی وہ عدت ہے جس کا لحاظ کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3425]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس کی اطلاع کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: عبداللہ سے کہو اس سے رجوع کرے، جب وہ غسل حیض کرے تو اسے اس کی حالت پر رہنے دے حتیٰ کہ اسے دوسرا حیض آئے، پھر جب وہ دوسرے حیض سے پاک ہو کر غسل کرے تو وہ اس سے جماع نہ کرے، پھر چاہے تو طلاق دے دے اور چاہے تو اپنے نکاح میں رکھے۔ یہ ہے وہ صحیح وقت جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8123) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3426
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا وَهِيَ طَاهِرٌ أَوْ حَامِلٌ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہو کہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ (حیض سے) پاک ہو جائے یا حاملہ ہو جائے تب اس کو طلاق دے (اگر دینا چاہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3426]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے، پھر طہر یا حمل کی حالت میں اسے طلاق دے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، سنن ابی داود/الطلاق 4 (2181)، سنن الترمذی/الطلاق 1 (1176)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 3 (2023)، (تحفة الأشراف: 6797)، مسند احمد (2/26، 58، سنن الدارمی/الطلاق 1 (2309) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3427
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ," أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَّقَهَا، وَهِيَ طَاهِرٌ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور وہ حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس طلاق کو باطل قرار دے کر) اس عورت کو انہیں لوٹا دیا۔ پھر جب وہ حیض سے پاک و صاف ہو گئی تو انہوں نے اسے طلاق دی (اور وہ طلاق نافذ ہوئی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3427]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کو ان کی طرف لوٹا دیا حتیٰ کہ انہوں نے اسے طہر کی حالت میں طلاق دی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 7068) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3428
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا"، فَقُلْتُ لَهُ: فَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ فَقَالَ: مَهْ، أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ".
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس مرد کے متعلق (مسئلہ) پوچھا جس کی بیوی حیض سے ہو اور اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو؟ انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو پہچانتے ہو؟ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ (اس وقت) حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمر کو حکم دیا کہ اسے لوٹا لے اور اس کی عدت کا انتظار کرے۔ (یونس بن جبیر کہتے ہیں) میں نے ان سے کہا: یہ طلاق جو وہ دے چکا ہے کیا وہ اس کا شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہو جاتا (اور رجوع نہ کرتا یا رجوع کرنے سے پہلے مر جاتا) اور وہ حماقت کر گزرتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3428]
حضرت یونس بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے بیٹھے تو انہوں نے فرمایا: تو عبد اللہ بن عمر کو جانتا ہے؟ اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا کہ پھر وہ صحیح وقت پر طلاق دے۔ میں نے عرض کیا: کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟ آپ نے فرمایا: اور کیا؟ اگر وہ صحیح وقت پر طلاق دینے سے عاجز رہا اور اس نے یہ نادانی کر لی (تو کیا تیرا خیال ہے وہ شمار نہ ہوگی)؟ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 2 (5252)، 3 (5258)، 45 (5333)، صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، سنن ابی داود/الطلاق 4 (2183)، سنن الترمذی/الطلاق 1 (1175)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 2 (2022)، (تحفة الأشراف: 8573)، مسند احمد (2/43، 51، 79)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3585 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جب رجعت سے عاجز ہو جانے یا دیوانہ ہو جانے کی صورت میں بھی وہ طلاق شمار کی جائے گی تو رجعت کے بعد بھی ضرور شمار کی جائے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیض کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جائے گی کیونکہ اگر وہ واقع نہ ہوتی تو آپ کا «مرہ فلیراجعھا» کہنا بے معنی ہو گا۔ جمہور کا یہی مسلک ہے کہ اگرچہ حیض کی حالت میں طلاق دینا حرام ہے لیکن اس سے طلاق واقع ہو جائے گی اور اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا جائے گا لیکن اہل ظاہر کا مذہب ہے کہ طلاق نہیں ہو گی، ابن القیم نے زادالمعاد میں اس پر لمبی بحث کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ طلاق واقع نہیں ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3429
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ، رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْأَلُهُ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ عِدَّتَهَا"، قُلْتُ لَهُ: إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، أَيَعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ فَقَالَ: مَهْ، وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ".
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حیض سے تھی طلاق دے دی (تو اس کا مسئلہ کیا ہے؟) تو انہوں نے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو، انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی اور وہ اس وقت حالت حیض میں تھی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو لوٹا لے، پھر اس کی عدت کا انتظار کرے۔ میں نے ان سے پوچھا: جب آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدے تو کیا وہ اس طلاق کو شمار کرے گا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اگر وہ رجوع نہ کرتا اور حماقت کرتا۔ (تو کیا وہ شمار نہ ہوتی؟ ہوتی، اس لیے ہو گی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3429]
حضرت یونس بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ (تو اب کیا کرے؟) فرمانے لگے: کیا تو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہے؟ اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: وہ اس سے رجوع کرے، پھر صحیح وقت میں نئے سرے سے طلاق دے۔ میں نے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دے تو کیا وہ طلاق شمار ہوگی؟ فرمایا: اور کیا؟ اگرچہ وہ صحیح وقت پر دینے سے عاجز رہا اور اس نے نادانی کا مظاہرہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3429]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. ح وأَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالُوا: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَذَكَرَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، فَإِذَا طَهُرَتْ، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، فَإِنَّهُ الطَّلَاقُ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ، قَالَ تَعَالَى: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ سورة الطلاق آية 1".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، اس بات کا ذکر عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: انہیں حکم دو کہ اسے لوٹا لے پھر جب دوسرا حیض آ کر پاک ہو جائے تو چاہے تو اسے طلاق دیدے اور چاہے تو اسے روکے رکھے، یہی وہ طلاق ہے جو اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «فطلقوهن لعدتهن» انہیں طلاق دو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں (الطلاق: ۱)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3586]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کہو کہ اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ اسے ایک حیض اور آئے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو اگر وہ چاہے تو اسے طلاق دے دے، چاہے رکھ لے۔ یہ وہ طلاق ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] عورتوں کو ان کے صحیح وقت میں طلاق دو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8506) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3587
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَيَقُولُ: أَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ يُطَلِّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا، وَأَمَّا إِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَقَدْ عَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ".
نافع کہتے ہیں کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی ایسے شخص کے متعلق پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو تو وہ کہتے: اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دو طلاقیں دی ہیں (تو ایسی صورت میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کر لینے کا حکم دیا ہے پھر اسے دوسرے حیض آنے تک روکے رکھے پھر جب وہ (دوسرے حیض سے) پاک ہو جائے تو اسے جماع کرنے سے پہلے ہی طلاق دیدے اور اگر اس نے تین طلاقیں (ایک بار حالت حیض ہی میں) دے دی ہیں تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملہ میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے ۱؎ لیکن تین طلاق کی وجہ سے اس کی عورت بائنہ ہو جائے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3587]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب اس شخص کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ فرماتے: اگر اس نے پہلی یا دوسری طلاق دی ہے تو (وہ جماع کرے کیونکہ) مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ اس سے رجوع کر، پھر اسے اپنے پاس رکھ حتیٰ کہ اسے ایک اور حیض آئے، پھر وہ پاک ہو تو اب چاہے تو اسے جماع سے پہلے طلاق دے دے۔ اگر تو نے تیسری طلاق دی ہے تو تو نے عورت کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے اور تیری بیوی تجھ سے جدا ہوگئی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق 1 (1471)، (تحفة الأشراف: 7544)، مسند احمد (2/64، 102) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ نے عورت کو طلاق دینے کا جو طریقہ بتایا تھا اس نے اس کے موافق کام نہ کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3588
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى مَرْوَزِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعَهَا".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور بیوی اس وقت حیض سے تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کر لینے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے اسے لوٹا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3588]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کا حکم دیا، لہٰذا انہوں نے رجوع کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 6758)، مسند احمد (2/61) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3589
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ"، وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى هَذَا.
طاؤس کہتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر سے اس وقت سنا جب ان سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھنے والے سے کہا: کیا تم عبداللہ بن عمر کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، کہا: (انہیں کا واقعہ ہے) کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بیوی حیض سے تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے یہاں تک کہ (حیض آئے اور پھر) حیض سے پاک ہو جائے (اب چاہے تو طلاق نہ دے اپنی زوجیت میں قائم رکھے) طاؤس کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس سے مزید کچھ کہتے ہوئے نہیں سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3589]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی۔ انہوں نے فرمایا: تو عبداللہ بن عمر کو جانتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اس نے بھی اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اس سے رجوع کرے حتیٰ کہ وہ پاک ہو، تو پھر چاہے تو اسے طلاق دے دے۔ (راوئ حدیث عبداللہ بن طاوس نے کہا کہ) میں نے اس سے زیادہ، اس (اپنے باپ) سے نہیں سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطلاق1 (1471)، (تحفة الأشراف: 7101)، مسند احمد (2/145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں