سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : المستوصلة
باب: بال جوڑوانے والی عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5099
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
نافع سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5099]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعلی بال ملانے والی، ملوانے والی، گودنے والی (جسم کے مختلف حصوں میں چھید کر رنگ بھرنے والی یا جسم پر نقش و نگار بنانے والی) اور گدوانے والی (جسم کے مختلف حصوں کو چھدوا کر ان میں رنگ بھروانے والی یا جسم کے مختلف حصوں پر چھدوا کر نقش و نگار کرانے والی) عورت پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4168)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2784)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1759)، مسند احمد (2/21)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5251 و 5253 (صحیح) (یہ مرسل ہے لیکن اوپر کی حدیث میں نافع نے اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے اس سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 5045
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ عَشْرَةٌ مِنْ السُّنَّةِ السِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَالْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ
طلق بن حبیب کہتے ہیں کہ دس باتیں انبیاء کی سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھ کاٹنا، کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ڈاڑھی بڑھانا، ناخن کترنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا اور پاخانے کے مقام کو دھونا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سلیمان تیمی اور جعفر بن ایاس (ابوالبشر) کی حدیث مصعب کی حدیث سے زیادہ قرین صواب ہے اور مصعب منکر الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5045]
حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”دس چیزیں (انبیاء علیہم السلام کی) سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، کلی کرنا، ناک کی صفائی کرنا، ڈاڑھی پوری رکھنا، ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ختنہ کروانا، زیر ناف (شرم گاہ) کے بال مونڈنا اور (قضائے حاجت کے بعد) پشت دھونا۔“ ابوعبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: سلیمان تیمی کی حدیث (جو اس حدیث سے پہلے بیان ہوئی ہے) اور جعفر بن ایاس کی مذکورہ (یہی) حدیث مصعب بن شیبہ کی حدیث (باب کی پہلی حدیث) سے زیادہ درست ہے۔ مصعب (ابن شیبہ) منکر الحدیث (ضعیف راوی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مصعب کی توثیق تجریح میں اختلاف ہے، امام مسلم، ابن معین اور عجلی نے ان کی توثیق کی ہے، اور اس حدیث کے اکثر مشمولات دیگر روایات سے ثابت ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5106
أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَابْنُ عَوْنٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنِ النَّوْحِ". أَرْسَلَهُ ابْنُ عَوْنٍ , وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا حساب لکھنے والے اور صدقہ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ہے، نیز آپ نوحہ (مردے پر چیخ چیخ کر رونے) سے منع فرماتے تھے۔ اسے ابن عون و عطا بن سائب نے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5106]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور صدقہ (زکاۃ) سے انکار کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے، نیز آپ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔“ اس روایت کو ابن عون (نے حارث سے) اور عطاء بن سائب نے (شعبی سے) مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10036، 18482)، مسند احمد (1/83، 87، 107، 133، 150، 158)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5107، 5108) (صحیح) (شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ”حارث اعور“ ضعیف ہیں۔)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، حارث الأعور ضعيف،. ولبعض الحديث شواهد صحيحة. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 360