🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب : آخر وقت المغرب
باب: مغرب کے اخیر وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قال: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْنَا لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَظِلِّ الرَّجُلِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْغَدِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ طُولَ الرَّجُلِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ سَيْرَ الْعَنَقِ إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ شَكَّ زَيْدٌ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ".
بشیر بن سلام کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی دونوں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے ہم نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے (یہ حجاج بن یوسف کا عہد تھا) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، اور «فىء» (زوال کے بعد کا سایہ) تسمے کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جس وقت «فىء» تسمے کے اور آدمی کے سایہ کے برابر ہو گیا، پھر آپ نے مغرب پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے ظہر پڑھائی جب سایہ آدمی کی لمبائی کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جب آدمی کا سایہ اس کے دوگنا ہو گیا، اور اس قدر دن تھا جس میں سوار متوسط رفتار میں ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھائی جس وقت سورج ڈوب گیا، پھر تہائی رات یا آدھی رات کو عشاء پڑھائی (یہ شک زید کو ہوا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی تو آپ نے خوب اجالا کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 525]
بشیر بن سلام رحمہ اللہ نے کہا کہ میں اور حضرت محمد بن علی (باقر) رحمہ اللہ، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے، اور یہ حجاج بن یوسف کا دور تھا۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی جب سورج ڈھل گیا اور ابھی سایہ تسمے کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جبکہ سایہ آدمی کے قد اور ایک تسمے کے برابر تھا (ایک مثل سے ایک تسمے کی مقدار کے برابر بڑا تھا)۔ پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہو گیا۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی جب سرخی غائب ہو گئی۔ پھر فجر کی نماز پڑھی جب فجر طلوع ہوئی۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز پڑھی جب سایہ آدمی کے قد کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جب آدمی کا سایہ دگنا ہو گیا اور اتنا وقت باقی تھا کہ ایک اونٹ سوار درمیانی تیز چال سے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج ڈوب چکا تھا، پھر عشاء کی نماز تہائی یا نصف رات کے وقت پڑھی، پھر فجر کی نماز خوب روشنی میں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2217) (صحیح) بما تقدم برقم: 505 وما یأتی بأرقام 527، 528 (اس کے راوی ’’حسین‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسين بن بشير بن سلام الأنصاري مجهول الحال،ذكره ابن حبان وحده فى الثقات (6/ 206) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ مَعِي فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ كَانَ قُبَيْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: ثُمَّ قَالَ: فِي الْعِشَاءِ أُرَى إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: تم میرے ساتھ نماز پڑھو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ نماز پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا اور عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غروب ہو گئی۔ اور (اگلے دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب انسان کا سایہ اس سے دگنا ہو گیا اور مغرب کی نماز غروبِ شفق سے تھوڑی دیر پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز تہائی رات کے وقت پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 2 (395) (تعلیقا ومختصراً)، (تحفة الأشراف: 2417)، مسند احمد 3/351 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی جب کہ دھوپ ابھی حجرۂ عائشہ میں تھی، یعنی سایہ ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (545)، الخمس 4 (3103)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 6 (159)، (تحفة الأشراف: 16585)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ"، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 507]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے، پھر جانے والا قباء تک جاتا۔ (زہری اور اسحاق میں سے) ایک نے کہا: وہ ان کے پاس پہنچتا تو ابھی وہ نماز عصر پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اور دوسرے نے کہا: اور سورج ابھی اونچا ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 13 (548)، صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (10)، (تحفة الأشراف: 202) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے تھے جب کہ سورج کافی بلند اور تیز ہوتا تھا۔ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والا عوالی کو جاتا تو سورج ابھی اونچا ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (404)، سنن ابن ماجہ/فیہ 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، مسند احمد 3/ 223 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر پڑھاتے اور سورج سفید اور بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 509]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر کی نماز پڑھاتے تو سورج سفید اور بلند ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1710)، مسند احمد 3/131، 169، 184، 232 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 514
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ، قال: حَدَّثَنَا قُدَامَةُ يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ بُرْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ مَوَاقِيتَ الصَّلَاةِ، فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَأَتَاهُ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَ شَخْصِهِ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلَفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِيَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصِهِ، فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَ شَخْصَيْهِ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، فَنِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا فَأَتَاهُ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ امْتَدَّ الْفَجْرُ وَأَصْبَحَ وَالنُّجُومُ بَادِيَةٌ مُشْتَبِكَةٌ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ بِالْأَمْسِ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ وَقْتٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے اوقات سکھا رہے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، تو جبرائیل علیہ السلام نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سایہ قد کے برابر ہو گیا، اور جس طرح انہوں نے پہلے کیا تھا ویسے ہی پھر کیا، جبرائیل آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے عصر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو جبرائیل آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، پھر انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب شفق غائب ہو گئی، تو وہ آگے بڑھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے ہوئے، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، تو انہوں نے عشاء پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر کی پو پھٹی، تو وہ آگے بڑھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے، انہوں نے فجر پڑھائی، پھر جبرائیل علیہ السلام دوسرے دن آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا، چنانچہ انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو ظہر پڑھائی، پھر وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے عصر پڑھائی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈوب گیا، تو انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے مغرب پڑھائی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے، پھر سو گئے پھر اٹھے، پھر جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور اسی طرح کیا جس طرح کل انہوں نے کیا تھا، پھر عشاء پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب فجر (کی روشنی) پھیل گئی، صبح ہو گئی، اور ستارے نمودار ہو گئے، اور انہوں نے ویسے ہی کیا جس طرح کل کیا تھا، تو انہوں نے فجر پڑھائی، پھر کہا: ان دونوں نمازوں کے درمیان میں ہی نماز کے اوقات ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کو نماز کے اوقات بتلانے کے لیے آئے۔ جبریل علیہ السلام آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب سورج ڈھلا، پھر جب ہر شخص کا سایہ اس کے برابر ہو گیا (سایۂ زوال کے علاوہ) تو جبریل علیہ السلام پھر آئے اور اسی طرح کیا جس طرح (ظہر کے وقت) کیا تھا، یعنی جبریل علیہ السلام آگے ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح عصر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج غروب ہو گیا تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، چنانچہ (اس طرح) مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کی سرخی غائب ہو گئی تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ اس طرح عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر جب فجر کی روشنی پھوٹی تو جبریل علیہ السلام آئے، آگے کھڑے ہو گئے۔ ان کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگ کھڑے ہو گئے اور فجر کی نماز ادا کی۔ پھر دوسرے دن جبریل علیہ السلام اس وقت آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے قد سے دگنا ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب سورج غروب ہو گیا اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر ہم سو گئے، پھر اٹھے (مگر وہ ابھی نہ آئے تھے) ہم پھر سو گئے، پھر اٹھے تو جبریل علیہ السلام آئے اور اسی طرح کیا جس طرح کل کیا تھا اور عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آئے جب فجر پھیل گئی تھی اور روشنی ہو گئی تھی اور ستارے گھنے نظر آ رہے تھے اور اسی طرح کیا جیسے کل کیا تھا اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: (آج اور کل کی) دو نمازوں کا درمیانی وقت ہر نماز کا وقت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2401)، مسند احمد 3/330 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: أَقِمْ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ" فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ عِنْدَ الْفَجْرِ فَصَلَّى الْفَجْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ رَأَى الشَّمْسَ بَيْضَاءَ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ وَقَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ فَنَوَّرَ بِالْفَجْرِ، ثُمَّ أَبْرَدَ بِالظُّهْرِ وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ وَأَخَّرَ عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ فَصَلَّاهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ وَقْتُ صَلَاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: تم یہ دو دن ہمارے ساتھ قیام کرو، آپ نے بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے فجر طلوع ہوتے ہی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، پھر آپ نے جس وقت سورج ڈھل گیا، انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر جس وقت دیکھا کہ سورج ابھی سفید ہے ۱؎ آپ نے انہیں اقامت کہنے کا حکم دیا، تو انہوں نے عصر کی تکبیر کہی، پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب ہو گیا، تو آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر دوسرے دن انہیں حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت خوب اجالا ہو جانے پر کہی، پھر ظہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا، پھر عصر پڑھائی جب کہ سورج سفید (روشن) تھا، لیکن پہلے دن سے کچھ دیر ہو گئی تھی، پھر مغرب شفق غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، پھر بلال کو حکم دیا، تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب تہائی رات گزر گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 520]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: ہمارے پاس آئندہ دو دن ٹھہرو۔ آپ نے (پہلے دن) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر ہوتے ہی اقامت کہی اور آپ نے فجر کی نماز پڑھائی۔ پھر جونہی سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں اقامت کا حکم دیا اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کو سفید دیکھا (تپش دوپہر سے کم ہوئی) تو اقامت کا حکم دیا اور عصر کی نماز پڑھی۔ پھر جب سورج کا آخری کنارہ ڈوب گیا تو اقامت کا حکم دیا اور مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر جب سورج کی سرخی غائب ہوگئی تو عشاء کی اقامت کہلوائی۔ پھر اگلے دن اسے (تاخیر کا) حکم دیا اور فجر کو روشنی میں پڑھا۔ پھر ظہر کو ٹھنڈا کیا اور خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جب کہ سورج ابھی سفید تھا (زرد نہ تھا)؛ ویسے پہلے دن سے مؤخر کیا۔ پھر شفق (سرخی) غائب ہونے سے پہلے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر آپ نے ان (حضرت بلال رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب کہ تہائی رات گزر چکی تھی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر فرمایا: کہاں ہے وہ شخص جس نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تھا؟ (اسے لایا گیا تو آپ نے فرمایا:) تمہاری نمازوں کے اوقات ان (دو دنوں کی نمازوں) کے درمیان میں ہیں جو تم نے دیکھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 31 (613)، سنن الترمذی/الصلاة 1 (152)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 1 (667)، (تحفة الأشراف: 1931)، مسند احمد 5/349 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی۔ ۲؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ، قال: إِمْلَاءً عَلَيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا،" فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ أَعْلَمُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ انْصَرَفَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا وہ آپ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جس وقت فجر کی پو پھٹ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا، اور کہنے والے نے کہا: کیا دوپہر ہو گئی؟ حالانکہ وہ خوب جانتا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی تکبیر کہی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب شفق غائب ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے فجر کو مؤخر کیا جس وقت پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل آیا، پھر ظہر کو کل کے عصر کی وقت کے قریب وقت تک مؤخر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کو دیر سے پڑھی یہاں تک کہ پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا سورج سرخ ہو گیا ہے، پھر آپ نے مغرب دیر سے پڑھی یہاں تک کہ شفق کے ڈوبنے کا وقت ہو گیا، پھر عشاء کو آپ نے تہائی رات تک مؤخر کیا، پھر فرمایا: نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 524]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جو آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ آپ نے اسے کچھ جواب نہ دیا (بلکہ) جونہی فجر (پو) پھٹی، آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے صبح کی اقامت کہی۔ پھر جب سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کہنے والا کہتا تھا کہ دن نصف ہو گیا ہے جب کہ آپ خوب جانتے تھے۔ پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جب کہ سورج کافی بلند تھا۔ پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جونہی سورج غروب ہوا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب سرخی غائب ہوئی۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر (کی اقامت) کا حکم دیا۔ جب (نماز سے) فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہو گیا۔ پھر ظہر کی نماز کو گزشتہ کل کی عصر کے وقت کے قریب تک مؤخر کیا۔ پھر عصر کو مؤخر کیا حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج سرخ ہو گیا۔ پھر مغرب کو مؤخر کیا حتیٰ کہ سرخی غائب ہونے کو تھی۔ پھر عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کیا۔ پھر فرمایا: نمازوں کے اوقات ان دو دنوں کی نمازوں کے درمیان ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 31 (614)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (395)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 9137)، مسند احمد 4/416، 5/349 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، قال: قَدِمَ الْحَجَّاجُ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ".
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھتے تھے، اور عصر کی نماز پڑھتے تو سورج (زردی سے) صاف اور سفید ہوتا تھا، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء کی نماز (مختلف اوقات میں پڑھتے)؛ جب دیکھتے کہ سب جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ انہوں نے تاخیر کی ہے تو دیر سے پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 18 (560)، 21 (565)، صحیح مسلم/المساجد 40 (646)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (397)، (تحفة الأشراف: 2644)، مسند احمد 3/369، 370، سنن الدارمی/الصلاة 2 (1222) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ: كَانَ" يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، قَالَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں (اسے) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 531]
حضرت سیار بن سلامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد محترم، حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میرے والد محترم نے ان سے کہا: بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کیسے پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز (ظہر)، جسے تم «الْأُولَى» اولیٰ (پیشین) کہتے ہو، اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی شخص (آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد) مدینے کی انتہائی دور والی مضافاتی بستی میں اپنے گھر کو جاتا تھا تو اس وقت بھی سورج زندہ ہوتا تھا اور میں بھول گیا کہ مغرب کے بارے میں آپ نے کیا فرمایا؟ اور آپ عشاء کی نماز، جسے تم «الْعَتَمَةَ» عتمہ کہتے ہو، دیر سے پڑھنا اچھا سمجھتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنا ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو آیات تک نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 496 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي صَدَقَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے تھے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور عصر تمہاری ان دونوں نمازوں ۱؎ کے درمیان پڑھتے تھے، اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈوب جاتا تھا، اور عشاء اس وقت پڑھتے تھے جب شفق غائب جاتی تھی، پھر اس کے بعد انہوں نے کہا: اور آپ فجر پڑھتے تھے یہاں تک کہ نگاہ پھیل جاتی تھی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 553]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا اور آپ عصر کی نماز تمہاری ان دو (ظہر اور عصر) نمازوں کے درمیان میں پڑھتے تھے اور مغرب کی نماز پڑھتے جب سورج غروب ہوتا اور عشاء کی نماز پڑھتے جب سرخی غائب ہو جاتی۔ پھر انہوں نے اس کے بعد فرمایا: آپ صبح کی نماز سے اس وقت فارغ ہوتے جب نظر دور تک دیکھنے لگتی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 259)، مسند احمد 3/129، 169 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: ان دونوں نمازوں سے مراد ظہر اور عصر ہے یعنی تمہاری ظہر اور تمہاری عصر کے بیچ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر ہوتی تھی، مقصود اس سے یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر جلدی پڑھتے تھے اور تم لوگ تاخیر سے پڑھتے ہو۔ ۲؎: یعنی اجالا ہو جاتا اور ساری چیزیں دکھائی دینے لگتی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 574
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ، قال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً مُرْتَفِعَةً".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا الا یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 574]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ سورج سفید، صاف اور بلند ہو۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 299 (1274) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10310)، مسند احمد 1/ 80، 81، 129، 141 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ" أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حج میں منی سے مزدلفہ) چلے یہاں تک کہ آپ عرفہ آئے تو دیکھا کہ نمرہ ۱؎ میں آپ کے لیے خیمہ لگا دیا گیا ہے، آپ نے وہاں قیام کیا، یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا آپ نے قصواء نامی اونٹنی ۲؎ لانے کا حکم دیا، تو آپ کے لیے اس پر کجاوہ کسا گیا، جب آپ وادی میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے بیچ کوئی اور نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے حتیٰ کہ عرفہ پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ وادیٔ نمرہ میں لگا ہوا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اترے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی قصواء پر پالان کسا گیا حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے پیٹ میں پہنچ گئے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کچھ نہیں پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2629)، سنن الدارمی/المناسک 34 (1892)، ویأتي عند المؤلف برقم: (656) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عرفات میں ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات کے مغربی کنارے پر ہے، آج کل یہاں ایک مسجد بنی ہوئی ہے جس کا آدھا حصہ عرفات کے اندر ہے، اور آدھا مغربی حصہ عرفات کے حدود سے باہر ہے۔ ۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام قصواء تھا، قصواء کے معنی کن کٹی کے ہیں لیکن آپ کی اونٹنی کن کٹی نہیں تھی یہ اس کا لقب تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 656
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ، حَتَّى إِذَا انْتَهَى إِلَى بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ" أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ عرفہ آئے، تو آپ کو نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا، وہاں آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء نامی اونٹنی پر کجاوہ کسنے کا حکم دیا، تو وہ کسا گیا (اور آپ سوار ہو کر چلے) یہاں تک کہ جب آپ وادی کے بیچو بیچ پہنچے تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور چیز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 656]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے حتیٰ کہ عرفہ میں آئے تو وہاں وادیٔ نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا پایا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اترے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی) قصواء پر پالان کسا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی کے نشیب میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھائی اور ان کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث حدیث رقم: 605 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نمرہ عرفات کی حدود سے پہلے ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 662
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ سورة الأحزاب آية 25،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، (یہ (واقعہ) قتال کے سلسلہ میں جو (آیتیں) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے) چنانچہ اللہ عزوجل نے «وكفى اللہ المؤمنين القتال» اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہو گیا (الاحزاب: ۲۵) نازل فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 662]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مشرکوں نے جنگ خندق کے دن ظہر کی نماز سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، لڑائی (کی نماز) کے بارے میں جو کچھ نازل ہوا (یعنی صلاۃِ خوف کا طریقہ) یہ اس سے پہلے کی بات ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ﴾ [سورة الأحزاب: 25] اللہ تعالیٰ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز پڑھی جس طرح وقت میں پڑھا کرتے تھے، پھر عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز بھی اسی طرح پڑھی جس طرح وقت میں پڑھا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مغرب کی اذان کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے وقت میں پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4126)، مسند احمد 3/25، 49، 67، سنن الدارمی/الصلاة 186 (1565) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 876
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، قال: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّهَارِ قَبْلَ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ: مَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخْبَرَنَا قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ نِصْفِ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَجْعَلُ التَّسْلِيمَ فِي آخِرِهِ".
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نماز کے بارے میں پوچھا جسے آپ دن میں فرض سے پہلے پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر انہوں نے ہمیں بتایا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سورج ڈھل جاتا دو رکعت پڑھتے، اور نصف النہار ہونے سے پہلے چار رکعت پڑھتے، اور اس کے آخر میں سلام پھیرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 876]
عاصم بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے دن میں فرض نماز سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ پھر ہمیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے تھے جب سورج کچھ اونچا آ جاتا تھا، اور نصف النہار سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، سلام آخر میں پھیرتے (دو رکعت کے بعد سلام نہ پھیرتے)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق عنعن فى هذا اللفظ. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں