🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب : الاستعاذة من فتنة المحيا
باب: زندگی کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5512
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ"، وَكَانَ:" يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ جَهَنَّمَ، وَفِتْنَةِ الْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، آپ قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندہ اور مردہ لوگوں کو پہنچنے والے فتنے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5512]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس شخص نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَقَالَ:" نَعَمْ , عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ" , قَالَتْ: عَائِشَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ:" إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے، اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1309]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، عذابِ قبر برحق ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بھی نماز پڑھتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں عذابِ قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 86 (1372)، الدعوات 37 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (586)، (تحفة الأشراف: 17660)، مسند احمد 6/174 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ , عَنِ الْمُعَافَى , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وَأَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , ثُمَّ يَدْعُو لِنَفْسِهِ بِمَا بَدَا لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے، تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، پھر وہ اپنے لیے جو جی چاہے دعا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1311]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نمازی تشہد پڑھ چکے تو ان چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے: جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے، پھر اس کے بعد (منقول دعاؤں میں سے) اپنے لیے اپنی پسندیدہ دعا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن ابی داود/الصلاة 184 (983)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 26 (909)، (تحفة الأشراف: 14587)، مسند احمد 2/237، سنن الدارمی/الصلاة 86 (1383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1476
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ , وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى , ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1476]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب ہوگا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نکلے۔ اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا۔ ہم سب حجرے میں چلے آئے۔ ہمارے پاس بہت سی عورتیں اکٹھی ہوگئیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ یہ چاشت (دن چڑھنے) کے وقت کی بات ہے، پھر آپ نے لمبا قیام فرمایا، پھر لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھا کر دوبارہ قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر پہلے رکوع سے کم رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں بھی اسی طرح کیا مگر اس رکعت کے قیام و رکوع پہلی رکعت کے مقابلے میں کم تھے، پھر سجدے کیے اور سورج بھی پورا روشن ہوگیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو منبر پر بیٹھ گئے اور (تقریر کے دوران میں) فرمایا: بلاشبہ لوگوں کو قبروں میں فتنۂ دجال کی طرح آزمایا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم آپ کو اکثر عذاب سے پناہ مانگتے سنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 7 (1049)، 12 (1055)، صحیح مسلم/الکسوف 2 (903)، (تحفة الأشراف: 17936)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (3)، مسند احمد 6/35، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1568، 1573)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1477، 1500 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي , فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ فَقَالَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ" , فَرَكِبَ مَرْكَبًا يَعْنِي وَانْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ نِسْوَةٍ،" فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ، پھر آپ (کہیں جانے کے لیے) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آئے، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ (سجدہ سے کھڑے ہوئے) اور آپ نے قیام کیا، مگر اپنے پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اور سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1477]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت میرے پاس کچھ مانگنے آئی، وہ کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کر کہیں گئے۔ ادھر سورج کو گرہن لگ گیا۔ میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان کھڑی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر کر تشریف لائے، اپنی نماز کی جگہ میں پہنچے، پھر لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا، پھر (دوسرے سجدے کے بعد) کھڑے ہوئے اور پہلے قیام سے ہلکا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے ہلکا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور پہلے قیام سے ہلکا قیام کیا، پھر اپنے پہلے رکوع سے ہلکا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور پہلے سے کچھ کم دیر کھڑے رہے، اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ ادھر سورج بھی روشن ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ کے دوران میں) فرمایا: تمہیں قبروں میں فتنۂ دجال کی طرح آزمایا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخُسِفَ بِالشَّمْسِ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ , فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ قِيَامَهُ وَرُكُوعَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ , مُخْتَصَرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو ہم حجرے کی طرف چلے، اور کچھ اور عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور یہ چاشت کا وقت تھا، (آپ نماز پڑھنے کے لیے) کھڑے ہوئے، تو آپ نے ایک لمبا قیام کیا، پھر ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو بھی ایسے ہی کیا، مگر آپ کا یہ قیام اور رکوع پہلی والی رکعت کے قیام اور رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو منبر پر بیٹھے، اور منبر پر جو باتیں آپ نے کہیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ لوگوں کو ان کی قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمایا جائے گا، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1500]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام سے نکلے تھے کہ سورج بے نور ہو گیا، ہم حجرے کی طرف چلے آئے، دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس اکٹھی ہو گئیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہماری طرف تشریف لے آئے، یہ چاشت کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبا قیام فرمایا، پھر لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھا کر پہلے قیام سے کم لمبا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا، پھر سجدے کیے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اسی طرح کیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام و رکوع پہلی رکعت سے کم لمبے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے، ادھر سورج بھی روشن ہو گیا، جب سلام پھیرا تو منبر پر تشریف فرما ہوئے (اور بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں۔) ان میں یہ بھی فرمایا: بلاشبہ لوگ قبروں میں فتنۂ دجال کی طرح آزمائے جائیں گے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1476 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2062
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال» اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2062]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا فرمایا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور آگ کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور (جھوٹے) مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15435)، صحیح البخاری/الجنائز 87 (1377)، مسند احمد 2/414، ویأتی عند المؤلف برقم: 5508 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2063]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد عذابِ قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 24 (585)، (تحفة الأشراف: 12284) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: یہودی عورت کے عذاب قبر کے ذکر کے بعد آپ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنی شروع کر دی تھی، دیکھئیے حدیث رقم: ۲۰۶۶۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2064
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي، أَيْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ:" قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے (اور) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہو گئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا: اللہ تجھے برکت دے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: (آپ نے فرمایا تھا:) مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2064]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبے کے لیے) کھڑے ہوئے تو آپ نے اس آزمائش کا ذکر فرمایا جس میں ہر شخص کو قبر کے اندر مبتلا ہونا پڑے گا۔ جب آپ نے یہ ذکر فرمایا تو مسلمان آہ و بکا کرنے لگے حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہ سمجھ سکی۔ جب ان کی آہ و بکا کی آواز رک گئی تو میں نے ایک قریبی شخص سے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے لیے برکت فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر میں کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے فرمایا تھا: مجھے وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری فتنۂ دجال جیسی آزمائش ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 24 (86)، والوضوء 37 (184)، والجمعة 29 (1053)، والکسوف 10 (1061)، والجنائز 86 (1373) مختصراً، والاعتصام 2 (7287)، (تحفة الأشراف: 15728)، صحیح مسلم/الکسوف 3 (905)، موطا امام مالک/الکسوف 2 (4)، مسند احمد 6/345، 354 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2066
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ , وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ"، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ:" فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے، اور فرمایا: صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہو گی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں (بھی) قبروں میں آزمایا جائے گا، اس کے بعد سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2066]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میرے پاس ایک یہودی عورت بیٹھی تھی اور وہ کہہ رہی تھی کہ قبروں میں تمہارا امتحان لیا جائے گا (یا تمہیں عذاب ہوگا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا گئے اور فرمایا: صرف یہود کو عذاب ہوگا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہارا امتحان ہوگا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس کے بعد میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 24 (584)، (تحفة الأشراف: 16712)، مسند احمد 6/89، 238، 248، 271 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2067
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ , وَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے، اور فرماتے: تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2067]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عذابِ قبر اور فتنہ دجال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں میں تمہارا امتحان ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17944)، ویأتی برقم: 5506 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2068
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی (اور) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا: اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2068]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے کوئی چیز مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ چیز اسے دے دی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تجھے عذابِ قبر سے بچائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کچھ تردد ہوا حتیٰ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا ان (یہودیوں) کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے حتیٰ کہ جانور اسے سنتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 37 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (586)، (تحفة الأشراف: 17611)، مسند احمد 6/44، 205 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2069
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ , قَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ , قَالَ:" صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا" , فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں، (اور) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں، وہ دونوں نکل گئیں (تبھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں نے سچ کہا، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں، (پھر) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2069]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: مدینے کی دو یہودی عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، میں نے ان کی تکذیب کی اور میرا دل ان کی تصدیق پر مطمئن نہ ہوا۔ وہ چلی گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دو بوڑھی یہودی عورتوں نے کہا ہے کہ فوت شدگان کو قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہتی ہیں، ان کو عذاب ہوتا ہے حتیٰ کہ جانور اسے سنتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، عذابِ قبر سے ضرور پناہ طلب کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 2069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5506
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، قَالَ: وَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے اور فرماتے: قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5506]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب اور دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبروں میں بھی تمہاری آزمائش ہوگی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2067 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5507
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، مسیح دجال کے شر و فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، اور موت و زندگی کے فتنے کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5507]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔ میں قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ میں مسیح دجال کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں اور زندگی و موت کی آزمائش کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13914) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5508
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من عذاب النار وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات وأعوذ بك من شر المسيح الدجال» اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، موت و زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور مسیح دجال کے شر و فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5508]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» میں قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں آگ کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ کا طالب ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2062 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5510
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَمَالِكٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، موت اور زندگی کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو، مسیح دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5510]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کیا کرو۔ زندگی اور موت کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ مسیح دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، (تحفة الأشراف: 13688، 13859)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5515، 5516، 5518) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5511
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَلْقَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ، يَقُولُ:" عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے، فرماتے تھے: قبر کے عذاب سے، جہنم کے عذاب سے، موت اور زندگی کے فتنے سے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم قبر کے عذاب، جہنم کے عذاب، زندگی و موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجہاد 8 (1835)، (تحفة الأشراف: 15449)، مسند احمد (2/386، 416، 767)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5512، 5513) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5513
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ، قَالَ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو، جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت اور زندگی کے فتنے سے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5513]
حضرت ابوعلقمہ نے کہا کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بالمشافہ بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو: جہنم کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی و موت کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5511 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5515
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَأَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُوذُوا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو اور موت اور زندگی کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5515]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے عذاب سے (بچنے کےلیے) اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرو، زندگی اور موت کے فتنے سے (بچنے کےلیے) اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، عذابِ قبر اور مسیح دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5510 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5516
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو اپنی دعا میں کہتے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور موت اور زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5516]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یوں فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ» اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں، مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور زندگی و موت کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2062 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5517
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ الْمُقْرِيُّ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ سُلَيْمَانُ بْنُ سِنَانٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعا میں کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من فتنة القبر وفتنة الدجال وفتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں قبر کے فتنے سے، دجال کے فتنے سے اور موت اور زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: حدیث میں (سلیمان بن یسار کے نام میں) غلطی ہے، صحیح سلیمان بن سنان ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5517]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی دعا میں فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» اے اللہ! میں قبر کی آزمائش، دجال کے فتنے اور زندگی و موت کی آزمائشوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ (سند میں مذکور سلیمان بن یسار) غلط ہے جبکہ سلیمان بن سنان درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5510 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5518
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، عُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو، موت اور زندگی کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو، اور مسیح دجال (کانا دجال) کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5518]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ قبر کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ زندگی و موت کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو اور مسیح دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13479)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5522 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5519
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے اور مسیح دجال (کانا دجال) سے پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5519]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عذابِ جہنم، عذابِ قبر اور مسیح دجال کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، (تحفة الأشراف: 13565)، مسند احمد (2/298، 454) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5520
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جہنم کی) آگ کے عذاب، قبر کے عذاب، موت اور زندگی کے فتنے اور مسیح دجال (کانا دجال) کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5520]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنے اور مسیح دجال کے شر سے اللہ کی پناہ حاصل کیا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، (تحفة الأشراف: 15388)، مسند احمد (2/477) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5522
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سِنَانٍ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الصَّوَابُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نماز میں کہتے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من فتنة القبر ومن فتنة الدجال ومن فتنة المحيا والممات ومن حر جهنم» اے اللہ! میں قبر کے فتنے سے، دجال کے فتنے سے، موت اور زندگی کے فتنے سے اور جہنم کی گرمی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی درست اور صواب ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5522]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دورانِ نماز فرماتے سنا: اے اللہ! میں قبر کی آزمائش، عذابِ دجال کے فتنے، زندگی اور موت کے فتنے اور جہنم کی تپش سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: یہ درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5517 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ابوہریرہ سے روایت کرنے والے سلیمان بن سنان ہیں نہ کہ سلیمان بن یسار۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں