🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : تحريم كل شراب أسكر
باب: نشہ لانے والے ہر مشروب کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5599
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا , وَمُعَاذٌ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا إِلَى أَرْضٍ كَثِيرٌ شَرَابُ أَهْلِهَا فَمَا أَشْرَبُ، قَالَ:" اشْرَبْ وَلَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اور معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہمیں ایسی سر زمین میں بھیج رہے رہیں جہاں کے لوگ کثرت سے مشروبات پیتے ہیں، تو میں کیا پیوں؟ آپ نے فرمایا: (جو چاہو) پیو لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز مت پینا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5599]
حضرت ابو بردہ کے والد محترم (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف (مبلغ اور امیر بنا کر) بھیجا، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ہمیں ایسے علاقے کی طرف بھیج رہے ہیں جہاں کے لوگ بہت قسم کے مشروب پیتے ہیں، میں کون سا مشروب پیوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے پی لو مگر نشہ آور مشروب نہ پینا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9118) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5598
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ , عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5598]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 60 (4343)، الٔ دب 80 (6124)، الأحکام 22 (7172)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (1733)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 9 (3391)، (تحفة الأشراف: 9086)، مسند احمد (4/410، 416، 417) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5600
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ الْأَيَامِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5600]
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5599) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5605
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5605]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5600 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5606
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ، قَالَ:" وَمَا هِيَ؟" قُلْتُ: الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ , وَالْمِزْرُ؟"، قُلْتُ: أَمَّا الْبِتْعُ: فَنَبِيذُ الْعَسَلِ , وَأَمَّا الْمِزْرُ: فَنَبِيذُ الذُّرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَشْرَبْ مُسْكِرًا , فَإِنِّي حَرَّمْتُ كُلَّ مُسْكِرٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروب بہت ہوتے ہیں، تو میں کیا پیوں اور کیا نہ پیوں؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: «بتع» اور «مزر»، آپ نے فرمایا: «بتع» اور «مزر» کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا: «بتع» تو شہد کا نبیذ ہے اور «مزر» مکئی کا نبیذ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نشہ لانے والی چیز مت پیو، اس لیے کہ میں نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام کر دی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف (مبلغ اور امیر بنا کر) بھیجا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں کئی قسم کے مشروب استعمال ہوتے ہیں، میں ان میں سے کون سا پیوں، کون سا ترک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثلاً: وہ کون کون سے ہیں؟ میں نے کہا: «الْبِتْعُ» بتع اور «الْمِزْرُ» مزر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: «الْبِتْعُ» بتع تو شہد کی نبیذ ہوتی ہے اور «الْمِزْرُ» مزر مکئی کی نبیذ ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نشہ آور مشروب نہ پینا کیونکہ میں ہر نشہ آور مشروب کو حرام قرار دے چکا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9142) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5607
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً، يُقَالُ لَهَا: الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ، قَالَ:" وَمَا الْبِتْعُ وَالْمِزْرِ؟"، قُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن روانہ کیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں مشروبات بہت ہوتے ہیں جنہیں «بتع» اور «مزر» کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: «بتع» کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: وہ شہد کا مشروب ہوتا ہے اور «مزر» جَو کا مشروب ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
حضرت ابو بردہ کے والد محترم (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یمن میں کئی قسم کے مشروب ہیں جنہیں بتع اور مزر کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتع اور مزر کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: بتع تو ایسا مشروب ہے جو شہد سے تیار کیا جاتا ہے اور مزر جو سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 60 (4343)، (تحفة الأشراف: 9095) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں