سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب : الصلاة في الخفين
باب: موزوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 775
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قال: رَأَيْتُ جَرِيرًا" بَالَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هَذَا".
ہمام کہتے ہیں کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا پھر پانی منگایا، اور وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر وہ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 118 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 17
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ. قَالَ: فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ:" ائْتِنِي بِوَضُوءٍ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ". قَالَ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيلُ: هُوَ ابْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَارِئُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانے کے لیے جاتے تو دور جاتے، مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ایک سفر میں قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے (تو واپس آ کر) آپ نے فرمایا: ”میرے لیے وضو کا پانی لاؤ“، میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا، تو آپ نے وضو کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ امام نسائی کہتے ہیں اسمائیل سے مراد: ابن جعفر بن ابی کثیر القاری ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 17]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 1 (1)، سنن الترمذی/فیہ 16 (20)، سنن ابن ماجہ/فیہ 22 (331)، (تحفة الأشراف: 11540)، مسند احمد 3/443، 4/224، 237، 248، سنن الدارمی/الطہارة 4 (686) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 18
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا، فَتَنَحَّيْتُ عَنْهُ، فَدَعَانِي وَكُنْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ لوگوں کے ایک کوڑے خانہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎، میں آپ سے دور ہٹ گیا، تو آپ نے مجھے بلایا ۲؎، (تو جا کر) میں آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس (کھڑا) ہو گیا یہاں تک کہ آپ (پیشاب سے) فارغ ہو گئے، پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 18]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 61 (224)، 26 (225) مختصراً، المظالم 27 (2471)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (273)، سنن ابی داود/فیہ 12 (23)، سنن الترمذی/فیہ 9 (13)، سنن ابن ماجہ/فیہ 13 (305)، 84 (544)، (تحفة الأشراف: 3335)، «لم یذکر بولہ علیہ السلام» ، مسند احمد 5/382، 402، سنن الدارمی/الطہارة 9 (695) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی علماء نے متعدد توجیہیں بیان کیں ہیں، سب سے مناسب توجیہ یہ ہے کہ اسے بیان جواز پر محمول کیا جائے، حافظ ابن حجر نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ۲؎: تاکہ میں آڑ بن جاؤں دوسرے لوگ آپ کو اس حالت میں نہ دیکھ سکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 104
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ح وَأَنْبَأَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (275)، سنن الترمذی/فیہ 75 (101)، سنن ابن ماجہ/فیہ 89 (561)، (تحفة الأشراف: 2047)، مسند احمد 6/12، 13، 14، 15 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں لفظ «خمار» آیا ہے اس سے مراد پگڑی ہی ہے، اس لیے کہ «خمار» کے معنی ہیں جس سے سر ڈھانپا جائے اور مرد اپنا سر پگڑی ہی سے ڈھانپتا ہے لہٰذا یہاں پگڑی ہی مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 105
وأَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْجَرَائِيُّ، عَنْ طَلْقِ بْنِ غَنَّامٍ، قال: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، مسند احمد 6/15، (تحفة الأشراف: 2032) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 106
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى الْخِمَارِ وَالْخُفَّيْنِ".
بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پگڑی اور چمڑے کے دونوں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 2043)، مسند احمد 6/13، 14، 15 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 107
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَمَسَحَ نَاصِيَتَهُ وَعِمَامَتَهُ وَعَلَى الْخُفَّيْنِ"، قَالَ بَكْرٌ: وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ.
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی، پگڑی اور چمڑے کے موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (150، 151)، سنن الترمذی/فیہ 75 (100)، (تحفة الأشراف: 11494)، مسند احمد 4/255 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 108
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قال: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ، قَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟ فَأَتَيْتُهُ بِمِطْهَرَةٍ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کسی سفر میں) لشکر سے پیچھے ہو گئے، تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہو گیا، تو جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ”کیا تمہارے پاس پانی ہے؟“ تو میں لوٹے میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں دھوئیں اور اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازؤوں کو کھولنے لگے تو جبہ کی آستین تنگ ہو گئی، تو آپ نے (ہاتھ کو اندر سے نکالنے کے بعد) اسے (آستین کو) اپنے دونوں کندھوں پر ڈال لیا، پھر اپنے دونوں بازو دھوئے، اور اپنی پیشانی، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطہارة 23 (274)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 143 (1236)، (تحفة الأشراف: 11495)، موطا امام مالک/الطہارة 8 (42)، مسند احمد 4/248، 251، سنن الدارمی/الصلاة 81 (1375) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قال: أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ، قال: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، قَالَ:" خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا بَعْدَ مَا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَهُ فِي سَفَرٍ فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ عِمَامَتِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ: وَصَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَقَدَّمُوا ابْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى خَلْفَ ابْنِ عَوْفٍ مَا بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ ابْنُ عَوْفٍ، قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: دو باتیں ایسی ہیں کہ میں ان کے متعلق کسی سے نہیں پوچھتا، اس کے بعد کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے، (پہلی چیز یہ ہے کہ) ایک سفر میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلے، پھر واپس آئے تو آپ نے وضو کیا، اور اپنی پیشانی اور پگڑی کے دونوں جانب کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، (دوسری چیز) حاکم کا اپنی رعایا میں سے کسی آدمی کے پیچھے نماز پڑھنا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک سفر میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہ گئے، چنانچہ لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا دیا، انہوں نے نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے جو نماز باقی رہ گئی تھی پڑھی، جب ابن عوف رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور جس قدر نماز فوت ہو گئی تھی اسے پوری کی۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11521) بھذا الإسناد، وأما بغیر ھذا الإسناد، ومطولا ومختصرا فقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الوضوء 35 (182)، و 48 (203)، الصلاة 7 (363)، الجہاد 90 (2918)، المغازي 81 (4421)، اللباس 10 (5798)، 11 (5799)، صحیح مسلم/الطہارة 22، (274)، سنن ابی داود/فیہ 59 (149)، سنن الترمذی/فیہ 72 (97)، 75 (100)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (545)، موطا امام مالک/فیہ 8 (41)، مسند احمد 4/244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، 253، 255، سنن الدارمی/الطہارة 41 (740)، وتقدم عند المؤلف (بأرقام: 79، 82، 107، 108)، ویأتي عندہ (برقم: 125) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يونس بن عبيد مدلس وعنعن. وحديث مسلم (274/81) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 321
حدیث نمبر: 118
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"، فَقِيلَ لَهُ: أَتَمْسَحُ؟ فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ، وَكَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ يُعْجِبُهُمْ قَوْلُ جَرِيرٍ، وَكَانَ إِسْلَامُ جَرِيرٍ قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَسِيرٍ.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 25 (387)، صحیح مسلم/الطہارة 22 (272)، سنن الترمذی/فیہ 70 (93)، سنن ابن ماجہ/فیہ 84 (543)، (تحفة الأشراف: 3235)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/فیہ 59 (154)، مسند احمد 4/358، 361، 364، ویأتي عند المؤلف برقم: 775 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 119
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 48 (204، 205)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 89 (562)، (تحفة الأشراف: 10701)، مسند احمد 4/139، 179، و 5/287، 288، سنن الدارمی/الطہارة 38 (737)، بزیادة ’’العمامة‘‘ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 120
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ نَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قال: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ الْأَسْوَاقَ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، قَالَ أُسَامَةُ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا: مَا صَنَعَ؟ فَقَالَ بِلَالٌ:" ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، ثُمَّ صَلَّى".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ اسواف ۱؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2030) (حسن صحیح) (صحیح موارد الظمآن 151)»
وضاحت: ۱؎: اسواف حرم مدینہ کو کہتے ہیں۔ اور مدینہ میں ایک مقام کا نام بھی اسواف ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 121
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 48 (202)، (تحفة الأشراف: 3899)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة 84 (546)، مسند احمد 1/15 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 122
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 124
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ" فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک ۱؎ کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 79)»
وضاحت: ۱؎: مسلم کی روایت میں «حتیٰ فرغ من حاجتہ» کے بجائے «حین فرغ من حاجتہ» ہے یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ پر پانی ڈالا تو آپ نے وضو کیا، اس کی روسے «حتی» کا لفظ راوی کا سہو ہے، صحیح «حین» ہے، اور نووی نے تاویل یہ کی ہے کہ یہاں حاجت سے مراد وضو ہے، لیکن اس صورت میں اس کے بعد «فتوضأ» کا جملہ بے موقع ہو گا۔ ۲؎: اس حدیث سے وضو میں تعاون لینے کا جواز ثابت ہوا، جن حدیثوں میں تعاون لینے کی ممانعت آئی ہے وہ حدیثیں صحیح نہیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 125
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، قال: سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ:" تَخَلَّفْ يَا مُغِيرَةُ وَامْضُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَتَخَلَّفْتُ وَمَعِي إِدَاوَةٌ مِنْ مَاءٍ وَمَضَى النَّاسُ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ ذَهَبْتُ أَصُبُّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ يَدَهُ مِنْهَا فَضَاقَتْ عَلَيْهِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا: ”مغیرہ! تم پیچھے ہو جاؤ اور لوگو! تم چلو“، چنانچہ میں پیچھے ہو گیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہو گیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(تحفة الأشراف: 11495) (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 108)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح