🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3745
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ". وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ۱؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» (غزوہ احزاب) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟ تو زبیر رضی الله عنہ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر رضی الله عنہ نے ہر بار کہا: میں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3745]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 40 (2846)، و41 (2847)، 135 (2997)، وفضائل الصحابة 13 (3719)، والمغازي 29 (4113)، والآحاد 2 (7261)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2415)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (122) (تحفة الأشراف: 3020) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے باخبر کرے اور ایسا آپ نے تین بار کہا، تینوں مرتبہ زبیر رضی الله عنہ کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا، اسی موقع پر آپ نے زبیر رضی الله عنہ کے حق میں یہ فرمایا تھا: «ان لکل نبی حواریا و ان حواری الزبیر بن العوام» یہ بھی یاد رکھئیے کہ زبیر بن عوام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی صفیہ رضی الله عنہا کے بیٹے تھے، اور ان کی شادی ام المؤمنین عائشہ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہم کے ساتھ ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (3744)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3744
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ، سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3744]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10096) (صحیح) (یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی الله عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ 122)»
وضاحت: ۱؎: یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مددگار تھے، مگر زبیر رضی الله عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طور سے آپ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (122)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں