🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة مريم
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
كهيعص
کھٰیعص۔
2
ذكر رحمت ربك عبده زكريا
تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔
ابن کثیر ↑
3
إذ نادى ربه نداء خفيا
جب اس نے اپنے رب کو چھپی آواز سے پکارا۔
ابن کثیر ↑
4
قال رب إني وهن العظم مني واشتعل الرأس شيبا ولم أكن بدعائك رب شقيا
کہااے میرے رب! یقینا میں ہوں کہ میری ہڈی کمزور ہوگئی اور سر بڑھاپے سے شعلے مارنے لگا اور اے میرے رب! میں تجھے پکارنے میں کبھی بے نصیب نہیں ہوا۔
ابن کثیر ↑
5
وإني خفت الموالي من ورائي وكانت امرأتي عاقرا فهب لي من لدنك وليا
اور بے شک میں اپنے پیچھے قرابت داروں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی شروع سے بانجھ ہے، سو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا کر۔
ابن کثیر ↑
6
يرثني ويرث من آل يعقوب واجعله رب رضيا
جو میرا وارث بنے اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! اسے پسند کیا ہوا بنا۔
ابن کثیر ↑
7
يا زكريا إنا نبشرك بغلام اسمه يحيى لم نجعل له من قبل سميا
اے زکریا! بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں، جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔
8
قال رب أنى يكون لي غلام وكانت امرأتي عاقرا وقد بلغت من الكبر عتيا
کہا اے میرے رب! میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا جب کہ میری بیوی شروع سے بانجھ ہے اور میں تو بڑھاپے کی آخری حد کو پہنچ گیا ہوں۔
9
قال كذلك قال ربك هو علي هين وقد خلقتك من قبل ولم تك شيئا
کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور یقینا میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا۔
ابن کثیر ↑
10
قال رب اجعل لي آية قال آيتك ألا تكلم الناس ثلاث ليال سويا
کہا اے میرے رب! میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تو تندرست ہوتے ہوئے لوگوں سے تین راتیں بات نہیں کرے گا۔
11
فخرج على قومه من المحراب فأوحى إليهم أن سبحوا بكرة وعشيا
تو وہ عبادت خانے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آیا، پس انھیں اشارے سے کہا کہ پہلے اور پچھلے پہر تسبیح کرو۔
ابن کثیر ↑
12
يا يحيى خذ الكتاب بقوة وآتيناه الحكم صبيا
اے یحییٰ! کتاب کو قوت سے پکڑ اور ہم نے اسے بچپن ہی میں فیصلہ کرنا عطا فرمایا۔
13
وحنانا من لدنا وزكاة وكان تقيا
اور اپنی طرف سے بڑی شفقت اور پاکیزگی (عطا کی) اور وہ بہت بچنے والا تھا۔
ابن کثیر ↑
14
وبرا بوالديه ولم يكن جبارا عصيا
اور اپنے ماں باپ کے ساتھ بہت نیک سلوک کرنے والا تھا اور وہ سرکش، نافرمان نہ تھا۔
ابن کثیر ↑
15
وسلام عليه يوم ولد ويوم يموت ويوم يبعث حيا
اور سلام اس پر جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائے گا۔
ابن کثیر ↑
16
واذكر في الكتاب مريم إذ انتبذت من أهلها مكانا شرقيا
اور کتاب میں مریم کا ذکر کر، جب وہ اپنے گھروالوں سے ایک جگہ میں الگ ہوئی جو مشرق کی جانب تھی۔
17
فاتخذت من دونهم حجابا فأرسلنا إليها روحنا فتمثل لها بشرا سويا
پھر اس نے ان کی طرف سے ایک پردہ بنالیا تو ہم نے اس کی طرف اپنا خاص فرشتہ بھیجا تو اس نے اس کے لیے ایک پورے انسان کی شکل اختیار کی۔
ابن کثیر ↑
18
قالت إني أعوذ بالرحمن منك إن كنت تقيا
اس نے کہا بے شک میں تجھ سے رحمان کی پناہ چاہتی ہوں، اگر تو کوئی ڈر رکھنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
19
قال إنما أنا رسول ربك لأهب لك غلاما زكيا
اس نے کہا میں تو تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔
ابن کثیر ↑
20
قالت أنى يكون لي غلام ولم يمسسني بشر ولم أك بغيا
اس نے کہا میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ مجھے نہ کسی بشر نے چھوا ہے اور نہ میں کبھی بدکار تھی۔
ابن کثیر ↑
21
قال كذلك قال ربك هو علي هين ولنجعله آية للناس ورحمة منا وكان أمرا مقضيا
اس نے کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے کہا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی اور اپنی طرف سے عظیم رحمت بنائیں اور یہ شروع سے ایک طے کیا ہوا کام ہے۔
ابن کثیر ↑
22
فحملته فانتبذت به مكانا قصيا
پس وہ اس (لڑکے) کے ساتھ حاملہ ہوگئی تو اسے لے کر ایک دور جگہ میں الگ چلی گئی۔
23
فأجاءها المخاض إلى جذع النخلة قالت يا ليتني مت قبل هذا وكنت نسيا منسيا
پھر دردزہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، کہنے لگی اے کاش! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔
ابن کثیر ↑
24
فناداها من تحتها ألا تحزني قد جعل ربك تحتك سريا
تو اس نے اسے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، بے شک تیرے رب نے تیرے نیچے ایک ندی (جاری) کر دی ہے۔
25
وهزي إليك بجذع النخلة تساقط عليك رطبا جنيا
اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی۔
ابن کثیر ↑
26
فكلي واشربي وقري عينا فإما ترين من البشر أحدا فقولي إني نذرت للرحمن صوما فلن أكلم اليوم إنسيا
پس کھا اور پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ، پھر اگر کبھی تو آدمیوں میں سے کسی کو دیکھے تو کہہ میں نے تو رحمان کے لیے روزے کی نذرمانی ہے، سو آج میں ہرگز کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔
ابن کثیر ↑
27
فأتت به قومها تحمله قالوا يا مريم لقد جئت شيئا فريا
پھر وہ اسے اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس لے آئی، انھوں نے کہا اے مریم! یقینا تو نے تو بہت انوکھا کام کیا ہے۔
28
يا أخت هارون ما كان أبوك امرأ سوء وما كانت أمك بغيا
اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں کوئی بدکار تھی۔
ابن کثیر ↑
29
فأشارت إليه قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا
تو اس نے اس کی طرف اشارہ کر دیا، انھوں نے کہا ہم اس سے کیسے بات کریں جو ابھی تک گود میں بچہ ہے۔
ابن کثیر ↑
30
قال إني عبد الله آتاني الكتاب وجعلني نبيا
اس نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے۔
31
وجعلني مباركا أين ما كنت وأوصاني بالصلاة والزكاة ما دمت حيا
اور مجھے بہت برکت والا بنایا جہاں بھی میں ہوں اور مجھے نماز اور زکوٰۃ کی خاص تاکید کی، جب تک میں زندہ رہوں۔
ابن کثیر ↑
32
وبرا بوالدتي ولم يجعلني جبارا شقيا
اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا (بنایا) اور مجھے سرکش، بدبخت نہیں بنایا۔
ابن کثیر ↑
33
والسلام علي يوم ولدت ويوم أموت ويوم أبعث حيا
اور خاص سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوں گا اور جس دن زندہ ہو کر اٹھایا جائوں گا۔
ابن کثیر ↑
34
ذلك عيسى ابن مريم قول الحق الذي فيه يمترون
یہ ہے عیسیٰ ابن مریم۔ حق کی بات، جس میں یہ شک کرتے ہیں۔
35
ما كان لله أن يتخذ من ولد سبحانه إذا قضى أمرا فإنما يقول له كن فيكون
کبھی اللہ کے لائق نہ تھا کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوجاتا ہے۔
ابن کثیر ↑
36
وإن الله ربي وربكم فاعبدوه هذا صراط مستقيم
اور بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، سو اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
ابن کثیر ↑
37
فاختلف الأحزاب من بينهم فويل للذين كفروا من مشهد يوم عظيم
پھر ان گروہوں نے اپنے درمیان اختلاف کیا تو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ایک بہت بڑے دن کی حاضری کی وجہ سے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
38
أسمع بهم وأبصر يوم يأتوننا لكن الظالمون اليوم في ضلال مبين
کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس قدر دیکھنے والے، جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے، لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں۔
39
وأنذرهم يوم الحسرة إذ قضي الأمر وهم في غفلة وهم لا يؤمنون
اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب (ہر) کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے۔
ابن کثیر ↑
40
إنا نحن نرث الأرض ومن عليها وإلينا يرجعون
بے شک ہم، ہم ہی زمین کے وارث ہوں گے اور ان کے بھی جو اس پر ہیں اور وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
41
واذكر في الكتاب إبراهيم إنه كان صديقا نبيا
اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ بہت سچا تھا، نبی تھا۔
42
إذ قال لأبيه يا أبت لم تعبد ما لا يسمع ولا يبصر ولا يغني عنك شيئا
جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے؟
ابن کثیر ↑
43
يا أبت إني قد جاءني من العلم ما لم يأتك فاتبعني أهدك صراطا سويا
اے میرے باپ! بے شک میں، یقینا میرے پاس کچھ وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میرے پیچھے چل، میں تجھے سیدھے راستے پر لے جاؤں گا۔
ابن کثیر ↑
44
يا أبت لا تعبد الشيطان إن الشيطان كان للرحمن عصيا
اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر، بے شک شیطان ہمیشہ سے رحمان کا سخت نافرمان ہے۔
ابن کثیر ↑
45
يا أبت إني أخاف أن يمسك عذاب من الرحمن فتكون للشيطان وليا
اے میرے باپ! بے شک میں ڈرتا ہوں کہ تجھ پر رحمان کی طرف سے کوئی عذاب آ پڑے، پھر تو شیطان کا ساتھی بن جائے۔
ابن کثیر ↑
46
قال أراغب أنت عن آلهتي يا إبراهيم لئن لم تنته لأرجمنك واهجرني مليا
اس نے کہا کیا بے رغبتی کرنے والا ہے تو میرے معبودوں سے اے ابراہیم!؟ یقینا اگر تو باز نہ آیا تو میں ضرور ہی تجھے سنگسار کر دوں گا اور مجھے چھوڑ جا، اس حال میں کہ تو صحیح سالم ہے۔
47
قال سلام عليك سأستغفر لك ربي إنه كان بي حفيا
کہا تجھ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے تیرے لیے ضرور بخشش کی دعا کروں گا، بے شک وہ ہمیشہ سے مجھ پر بہت مہربان ہے۔
ابن کثیر ↑
48
وأعتزلكم وما تدعون من دون الله وأدعو ربي عسى ألا أكون بدعاء ربي شقيا
اور میں تم سے اور ان چیزوں سے جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کنارہ کرتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بے نصیب نہیں ہوں گا۔
ابن کثیر ↑
49
فلما اعتزلهم وما يعبدون من دون الله وهبنا له إسحاق ويعقوب وكلا جعلنا نبيا
تو جب وہ ان سے اور ان چیزوں سے جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، الگ ہوگیا تو ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو ہم نے نبی بنایا۔
50
ووهبنا لهم من رحمتنا وجعلنا لهم لسان صدق عليا
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت سے حصہ عطا کیا اور انھیں سچی ناموری عطا کی، بہت اونچی۔
ابن کثیر ↑